غیر ملکی خاندان کی بازیابی، ’امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے لیے ایک مثبت لمحہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اگرچہ پاکستانی فوج کی جانب سے بازیاب کروائے افراد کے نام ظاہر نہیں کیے گئے تاہم 2012 میں افغانستان سے ایک جوڑے جوشوا بوئل اور ان کی بیوی کیٹلن کولمین کو اغوا کیا گیا تھا۔

پاکستانی فوج کے مطابق قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے علاقے میں ایک کارروائی کے دوران پانچ غیر ملکی مغوی افراد کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

بازیاب کروائے گئے افراد میں ایک کینیڈیئن شہری جوشوا بوئل،ان کی امریکی بیوی کیٹلن کولمین اور تین بچے شامل ہیں۔

کینیڈیئن شہری جوشوا بوئ کے والد پیٹرک نے ٹورینٹو سٹار سے بات کرتے ہوئے اپنے بیٹے اور بہو کی بازیابی پر کہا ہے کہ وہ باہمت پاکستانی فوجیوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر باحفاظت طریقے سے ان کے خاندان کو بازیاب کرایا۔

اس موقع پر ان کی والدہ لینڈا نے کہا کہ ہمیں ایک بجے کے قریب ٹیلی فون پر انتہائی خوشگوار خبر دی گئی کہ ہمارے خاندان کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ اس کے بیس منٹ بعد ہماری جوشوا سے بات کرائی گئی۔

'یہ پانچ برس بعد پہلی بار اس کی آواز سنی، اور یہ بہت ہی حیران کن تھا اور ہمیں بتایا کہ وہ اور ان کے بچے اپنے دادا دادی سے ملاقات کے لیے بیتاب ہیں اور ہم آئندہ چند دن میں آپ سے ملیں گے۔'

جوشوا کی والدہ لینڈا نے جذباتی لہجے میں کہا کہ وہ اس لمحے کے انتظار میں ہیں۔

اس سے پہلے پاکستانی فوج کے شعبہِ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اغوا ہونے والے افراد کو 2012 میں افغانستان میں اغوا کیا گیا تھا۔

بیان کے مطابق امریکی حکام نے 11 اکتوبر کو پاکستان فوج کو انٹیلیجنس فراہم کی تھی کہ ان افراد کو کرم ایجنسی کی سرحد کے ذریعے پاکستان منتقل کیا جا رہا ہے۔

اس موقعے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آج وہ (کیٹلن کولمین اور ان کے شوہر جوشوا بوئل اور ان کے بچے) آزاد ہیں۔ یہ ہمارے ملک اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے لیے ایک مثبت لمحہ ہے۔ ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستانی تعاون اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ خطے میں بہتر سکیورٹی فراہم کرنے کی ہماری خواہشات پر عمل کر رہے ہیں۔ ہم دیگر مغوی افراد کی رہائی اور دیگر انسدادِ دہشتگردی آپریشنز کے لیے اس طرح کے تعاون اور ٹیم ورک کی توقع رکھیں گے‘۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم میڈیا پر آنے والی ان اطلاعات کا خیر مقدم کرتے ہیں جن کے مطابق ایک امریکی شہری سمیت ایک فیملی کو بازیاب کروا لیا گیا ہے‘۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے ایک عرصے سے ان کی تلاش میں تھے۔

یہ بھی پڑھیے

کرم ایجنسی میں کالعدم تنظیموں کا خوف

دس سال میں کرم ایجنسی میں کیا بدلا؟

آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام کی جانب سے دی جانے والی خفیہ اطلاعات قابلِ عمل تھیں اور ان کی بنیاد پر کیا گیا آپریشن کامیاب رہا اور تمام مغوی بحفاظت بازیاب کروا لیے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہ آپریشن امریکہ کی جانب سے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیا گیا تھا (فائل فوٹو)

جب اغوا کا یہ واقعہ پیش آیا تو کیٹلن کولمین حاملہ تھیں اور قید میں اس بچے کے علاوہ دو دیگر بچے بھی پیدا ہوئے ہیں۔

اس جوڑے کی ویڈیو افغان طالبان کی حامی تنظیم حقانی نیٹ ورک نے جاری کی تھی۔ تنظیم نے اس جوڑے کی رہائی کے بدلے افغانستان میں تین قیدیوں کو چھوڑنے کا مطالبہ کیا تھا۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ ان افراد کو اب ان کے آبائی ملک منتقل کیا جا رہا ہے۔

فوج کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کامیاب آپریشن سے ظاہر ہوتا ہے کہ خفیہ معلومات کا بروقت تبادلہ کس قدر اہم ہے اور یہ کہ پاکستان مشترکہ دشمن کے خلاف دونوں ممالک کی افواج کے تعاون سے جنگ جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

اسی بارے میں