’وردی پہننے والا کسی بھی مذہب کا ہو، وہ پاکستانی سپاہی ہوتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کوئی بھی جب فوج میں آتا ہے اور وردی پہنتا ہے تو وہ صرف پاکستان سپاہی ہوتا ہے اس سے قطع نظر کے اس کا تعلق کس مذہب اور کس صوبے سے ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان فوج ایک قومی ادارہ ہے اور اس میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے کہ پاکستان چونکہ مسلمان ملک ہے تو اسی مذہب کے لوگ ہی فوج میں شامل ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے یہ بات حال ہی میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد اور رکن قومی اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے فوج میں احمدیوں کی بھرتی کے حوالے سے بیان کے تناظر میں ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہی۔

٭ ’فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز احمدی ملک کے لیے خطرہ ہیں‘

٭ پاگل سوشل میڈیا، فاشسٹ لبرلز اور کیپٹن صفدر

خیال رہے کہ گذشتہ منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر نے کہا تھا کہ پاکستان میں فوج سمیت کسی بھی محکمے میں اعلی عہدوں میں بیٹھے ہوئے احمدی ملک کے لیے خطرہ ہیں اس لیے اُنھیں فوری طور پر عہدوں سے ہٹا دینا چاہیے۔

کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ احمدی ملک کے لیے زہر قاتل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PMO OFFICE
Image caption کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ احمدی ملک کے لیے زہر قاتل ہیں

میجر جنرل آصف غفور نے کیپٹن صفدر کے اس بیان پر مزید کہا کہ ’اس وقت پاکستان فوج میں سکھ بھی ہیں، عیسائی بھی ہیں اور قادیانی بھی ہیں، اب یہ کہنا کہ پاکستانی فوج میں ان کی شمولیت بند کر دی جائے، یہ تو اب جو فیصلے کرنے والے ادارے ہیں کوئی قانون لے کر آئیں تو اس کے بعد کی بات ہے۔‘

انھوں مزید کہا کہ ’فوج میں جو مسلمان پاکستانی ہیں وہ جیسے کہ دیگر اداروں میں بھی ہوتا ہے کہ ایک سرٹیفیکٹ پر دستخط یا حلف اٹھاتے ہیں، ویسے ہی پاکستان فوج میں بھی ہر مسلمان افسر ایک سرٹیفیکٹ پر دستخط کرتا ہے جس میں وہ یہ کہتا ہے کہ میں احمدی نہیں ہوں اور ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہوں۔‘

’اسی حلف نامے پر میں نے بھی دستخط کیے ہیں اور شاید کیپٹن صاحب بھول گئے ہیں کہ انھوں نے بھی اس حلف نامے پر دستخط کیے ہیں۔‘

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ’ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان فوج قومی اتحاد کی سب سے بہترین مثال ہے۔‘

اسی بارے میں