احتساب عدالت میں وکلا کے احتجاج کے باعث بدمزگی، فردِ جرم عائد نہ ہو سکی

مریم نواز

احتساب عدالت نے وکلا کے احتجاج کے باعث پیدا ہونے والی بدمزگی کے بعد سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف پر تین جبکہ مریم نواز اور ان کے شوہر پر ایک مقدمے کی سماعت بغیر کسی کارروائی کے 19 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف پر تین مقدمات جبکہ مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر ایک مقدمے میں فرد جرم عائد کرنے کے لیے آج جمعہ 13 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی تھی جبکہ نواز شریف لندن سے واپس نہیں آئے تھے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق احتساب عدالت کے جج محمد بشیر چوہدری نے عدالت کے باہر تشدد کے واقعے کے نوٹس لیتے ہوئے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ جج محمد بشیر چوہدری نے حکم دیا کہ ذمہ داری کے خلاف کارروائی کی جائے اور عدالت کو ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے

٭احتساب عدالت میں اور باہر کیا ہوا؟

٭ ’ نواز شریف حاضر ہوں‘

٭ رینجرز کو کس نے تعینات کیا؟ حکام سے جواب طلب

٭ نواز شریف، مریم پر فرد جرم 13 اکتوبر کو عائد کی جائے گی

٭ نظام عدل کو آزمائیں گے: مریم نواز

سماعت شروع ہونے سے پہلے مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے احاطہِ عدالت میں داخل ہونے کے بعد جوڈیشل کمپلیکس کے دروازے بند کر دیے گئے تھے۔

تاہم عدالت کے اندر وکلا کی بڑی تعداد کے احتجاج کے باعث سماعت بغیر کسی کارروائی کے ملتوی کر دی گئی جس کے فوری بعد مریم نواز واپس چلی گئیں۔

سماعت ملتوی ہونے کے بعد عدالت سے باہر نکلتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ 'وکلا کو اندر نہیں آنے دیا گیا، میں نے سنا ہے کہ اُن کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، جب اُن کے پاس اجازت ہے تو انھیں اندر آنے دینا چاہیے تھا۔ میں وزیر داخلہ سے درخواست کروں گی کہ وہ اس واقعے کا نوٹس لیں۔'

جمعے کو سماعت کے قبل جوڈیشل کمپلیکس کے باہر وکلا پر ہونے والے تشدد کے بعد وکلا کی بڑی تعداد کمرہ عدالت میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی تھی۔

وکلا نے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر چوہدری کو بتایا کہ جب عدالت نے وکلا کی آمد پر پابندی نہیں کی تو انھیں اندر کیوں نہیں آنے دیا گیا۔

اس کے بعد کمرہِ عدالت کے اندر بھی وکلا کا آپس میں جھگڑا ہو گیا۔ عدالت میں نعرے بازی اور شور شرابے کے بعد مقدمے کی باقاعدہ سماعت ہونے سے پہلے ہی سماعت ملتوی کر دی گئی۔

سماعت ملتوی ہونے کے بعد جوڈیشل کمپلیکس میں مسلم لیگ نون کے کارکنوں نے شدید احتجاج کیا جبکہ اس موقعے پر سکیورٹی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی سپریم کورٹ میں آئینی درخواست

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سابق وزیراعظم نواز شریف نے سپریم کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت ان کے خلاف دائر ہونے والے تین ریفرینس کو ایک ریفرینس میں بدلنے کا حکم دے۔

اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ آمدن سے زیادہ اثاثو ں پر ایک سے زیادہ ریفرینس نہیں بنائے جا سکتے اور نیب قانون کے مطابق ایک جرم کا ایک ہی ریفرینس اور ایک ہی ٹرائل ہوتا ہے۔

سابق وزیر اعظم نے اپنی درخواست میں یہ موقف بھی اختیار کیا ہے کہ ایک جرم کے تین ٹرائل بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور عدالت 28 جولائی کے فیصلے پر تین ریفرینس فائل کرنے کے حکم کو غیر قانونی قرار دے۔

اس درخواست میں وفاق، نیب، احتساب عدالت کو فریق بنایا گیا۔ نواز شریف کے وکلا کی طرف سے دائر کی جانے والی اس درخواست میں یہ موقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ جب تک اس آئینی درخواست پر فیصلہ نہیں آ جاتا اس وقت تک احتساب عدالت کی کارروائی روکی جائے۔

اسی بارے میں