صوابی میں صحافی قتل، طالبان نے ذمہ داری قبول کر لی

پولیس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک مقامی صحافی کو مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا ہے۔

پولیس کے مطابق قتل کا دعویٰ مقتول کے سوتیلے بھائیوں پر دائر کیا گیا ہے تاہم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان نے اس قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقتول کا تعلق پاکستانی خفیہ ادارے سے تھا۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی شام صوابی شہر میں پیش آیا۔

صوابی کے ضلعی پولیس سربراہ شعیب اشرف نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ مقامی صحافی ہارون خان گھر کے اندر داخل ہو رہے تھے کہ اس دوران گھات لگائے مسلح افراد نے ان پر خودکار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے وہ موقعے ہی پر ہلاک ہو گئے۔

انھوں نے کہا کہ مقتول صحافی کے بھائی منظور علی کی طرف سے صوابی صدر تھانے میں واقعے کی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے جس میں مقتول کے سوتیلے بھائیوں پر قتل کا دعویٰ دائر کیا گیا ہے۔ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے ہر زاویے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

مقتول ہارون خان ایک نجی ٹیلی ویژن چینل ٹی وی اور پشاور کے ایک مقامی اخبار کے ساتھ وابستہ تھے۔

ادھر ملک بھر کی صحافتی تنظیموں نے صوابی کے صحافی ہارون خان کے قتل پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک اور پولیس سربراہ سے اس واقعے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں صحافیوں کی سب سے بڑی تنظیم خیبر یونین آف جرنلسٹس نے ایک بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مقتول صحافی کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کر کے انھیں قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں