سوشلستان: رینجرز سوشل میڈیا پر بھی چھائے رہے

سوشلستان میں پورا ہفتہ یہ میچ چلتا رہا کہ کون احمدی ہے اور کون نہیں۔ مختلف مقتدر شخصیات اپنے اپنے ایمان کی قسمیں کھا کھا کر یقین دہانی کرواتی رہیں کہ بس وہی پکے مسلمان ہیں۔ نتیجتاً شاید ہی کوئی ایسی شخصیت ہو جس نے اس ہفتے کچھ وقت 'کفر کی زد میں' نہ گزارا ہو۔

مگر ہم بات کریں گے رینجرز کی تعیناتی کے معاملے کی جو ایک بار پھر خبروں میں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI

جمعے کی صبح سے پاکستان میں سوشل میڈیا پر احتساب عدالت میں رینجرز کی تعیناتی کا معاملہ زیرِ بحث ہے جس میں حکومت مخالف سیاستدان اور کچھ اینکرز یہ موقف اپنائے ہوئے ہیں کہ رینجرز کو ہٹانے کی وجہ سے آج یہ معاملہ پیش آیا۔

تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ٹویٹ کی کہ ’اب ہمیں پتا چلا کہ درباری احسن اقبال کے رینجرز کی احتساب عدالت میں موجودگی پر ڈرامے کی وجہ کیا تھی۔ اس کا مقصد احتساب عدالت کے جج کو بغیر حفاظت کے چھوڑنا تھا‘۔

رینجرز کی تعیناتی کے مطالبے پر لبیک کہنے والے دوسرے لوگوں میں عوامی تحریک کے طاہر القادری ہیں جنہوں نے مطالبہ کیا کہ احتساب عدالت کی سکیورٹی رینجرز کے سپرد کی جائے۔

اس کے علاوہ چند وکلا کی جانب سے ایک پولیس افسر پر ہاتھ اٹھانے کی ویڈیو بھی شیئر کی جا رہی ہے جس کے ساتھ یہ لکھا جا رہا ہے کہ ’اس وجہ سے احتساب عدالت کی سکیورٹی پولیس کے سپرد نہیں کی جا سکتی‘۔

سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی عدالت کے اندر کی کارروائی باہر نہیں آئی تھی کہ سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز پر مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی وجہ سے پیش آنے والی صورتحال کو رینجرز سے جوڑنے کا بیانیہ بڑی باقاعدگی کے ساتھ شروع ہو چکا تھا۔

ضرار کھوڑو نے لکھا ’بہت مناسب وقت ہے کہ ایس پی اسلام آباد چیف کمشنر کو ایک اور خط لکھیں کہ رینجرز کو احتساب عدالت میں تعینات کیا جائے۔ اور اس بار کمشنر کو اس کی اجازت دینے میں دقت نہیں ہو گی‘۔

امبر شمسی نے لکھا ’اب تک نیب کیس عدالت کے باہر ڈرامے کے بارے میں زیادہ تھا نہ کہ عدالت کی کارروائی کے‘۔

یوسف نذر نے لکھا ’پاکستان کی تاریخ اور عدالتی نظام کی حقیقت سامنے رکھتے ہوئے پاکستان میں قانون کی عملداری کی بات مضحکہ خیز لگتی ہے۔ صرف طاقت کی اہمیت ہے‘۔

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ ARIF ALI
Image caption لاہور کے مضافات میں ایک مزدور کے تہہ خانے کی کهدائی کرتے ہوئے
تصویر کے کاپی رائٹ BANARAS KHAN
Image caption کوئٹە میں ہزارە برادری کے افراد پر حملے کے بعد ہلاک ہونے والوں کا خون سڑک پر۔

اسی بارے میں