امریکہ کو مطلوب طلحہٰ ہارون کون ہیں؟

امریکہ، ٹائم سکوائر تصویر کے کاپی رائٹ AFP

چند روز قبل امریکی حکام نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ایما پر نیویارک کے ٹائمز سکوائر اور شہر کے زیرِ زمین ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کے الزام میں تین افراد پر مقدمہ درج کیا۔

یہ تین افراد عبدالرحمٰن البہناساوی، رسل سالک اور طلحہٰ ہارون ہیں، ان پر الزام ہے کہ وہ گذشتہ سال رمضان المبارک میں نیویارک میں حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

ان میں سے عبدالرحمٰن البہناساوی کینیڈین شہری ہیں جبکہ رسل سالک کا تعلق فلپائن سے ہے۔ شدت پسند منصوبے کے تیسرے ملزم 19 سالہ طلحہٰ ہارون امریکی شہری ہیں اور اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں زیرِ حراست ہیں۔

یہ بھی دیکھیے

ڈاکٹر عافیہ کو کیوں سزا ملی

امریکہ نے بنایا، امریکہ نے ’مروایا‘

’نائن الیون کا ذمہ دار خود امریکہ‘،خالد شیخ کا اوباما کو خط


انھیں گذشتہ سال امریکی تحقیقاتی اداروں کی درخواست پر پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کیا تھا۔ انھیں امریکہ کے حوالے کرنے کی کارروائی جاری تھی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس پر حکم امتناعی جاری کر دیا تھا۔ اس معاملے پر عدالتی کارروائی ابھی جاری ہے۔

لیکن یہ طلحہٰ ہارون ہیں کون اور ایک امریکی شہری ہوتے ہوئے وہ پاکستانی جیل میں کیسے پہنچے؟

طلحہٰ ہارون کے خاندان کا تعلق پاکستان کے شہر کوئٹہ سے ہے۔ ان کے والد 46 سالہ ہارون الرشید کئی سال پہلے تلاشِ معاش کے سلسلے میں امریکہ چلے گئے تھے اور وہاں ریاست کولاراڈو کے شہر ڈینور میں آباد ہوئے۔ طلحہٰ ہارون سمیت ان کے پانچ بچے ہیں۔

آج سے تقریباً پندرہ سال پہلے 2002 میں ہارون الرشید اور ان کے خاندان کو دہشت گردی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ چار سال تک جاری رہنے والی قانون و عدالتی جنگ کے بعد ہارون الرشید اور ان کے خاندان کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ تو ختم کر دیا گیا لیکن انھیں 2006 میں پاکستان ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا۔

ہارون الرشید کے بارے میں پاکستانی میڈیا میں شائع ہوالی خبروں کے مطابق طلحہ ہارون ڈینور میں ہائی سکول کے طالب علم تھے اور اگست 2014 میں اپنی والدہ اور دیگر بہن بھائیوں کے ساتھ کوئٹہ منتقل ہو گئے تھے۔ بعد میں ان کی والدہ اور دیگر بہن بھائی تو واپس امریکہ چلے گئے لیکن طلحہ ہارون اپنے والد کے پاس کوئٹہ میں ہی رہے۔

ان کے والد کے مطابق وہ کراچی میں ایک مدرسے میں داخلہ لینا چاہتے تھے لیکن چند خاندانی معاملات کی وجہ سے ایسا نہ کر سکے۔

گذشتہ سال اگست میں طلحہٰ ہارون اپنے والد کے پاس کوئٹہ میں ہی موجود تھے جب پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے امریکی حکام کی درخواست پر انھیں گرفتار کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی حکام کے مطابق طلحہٰ ہارون امریکہ میں پانچ مختلف الزامات کے تحت مطلوب ہیں جن میں وسیع تباہی کی ہتھیاروں کے حصول کی منصوبہ بندی، دہشت گردی کا ایک بین الاقوامی منصوبہ بنانے کی سازش، عوامی مقامات اور ٹرانسپورٹ سسٹم کو بم دھماکے کے ذریعے نشانہ بنانے کی سازش جیسے الزامات شامل ہیں۔

طلحہٰ ہارون نے اپنے ان مبینہ طور پر خطرناک منصوبوں کا انکشاف ایف بی آئی کے ایک انڈرکور ایجینٹ کے ساتھ رابطوں کے دوران کیا تھا۔

تقریباً ایک ماہ تک طلحہٰ ہارون کے خاندان کو ان کے بارے میں کچھ پتا نہیں تھا کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔ آخر کار انھیں نومبر 2016 میں اسلام آباد میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشبر (جنرل) عبدالستار عیسانی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ طلحہٰ نے عدالت کو بتایا کہ انھیں بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اور انھیں اپنے خاندان سے رابطہ بھی نہیں کرنے دیا گیا۔ اس پر مسٹر عیسانی نے انھیں اپنے والد سے بات کرنے کی اجازت دے دی۔

پاکستانی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق پاکستانی وزارتِ داخلہ نے 14 مارچ 2017 کو جاری کیے جانے والے ایک مراسلے کے ذریعے طلحہٰ ہارون کی امریکہ حوالگی کی منظوری دے دی تھی۔ یہ فیصلہ اے ڈی سی جی عبدالستار عیسانی کی رپورٹ کی روشنی میں ایکسٹراڈیشن ایکٹ 1972 کی سیکشن 13 کے تحت کیا گیا۔

مسٹر عیسانی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ان کے خیال میں طلحہٰ کی حوالگی کے حوالے سے امریکی درخواست درست ہے۔ اسی سلسلہ میں لکھے گئے ایک اور خط میں پاکستانی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے سے کہا گیا تھا کہ وہ اڈیالہ جیل سے طلحہ ہارون کو اپنی تحویل میں لیں اور انہیں امریکی حکام کے حوالے کر دیں۔

اسی دوران طلحہٰ کے والد ہارون الرشید نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کر کے ان کی امریکہ حوالگی کے خلاف حکم امتناعی حاصل کر لیا۔

واشنگٹن میں مقیم پاکستانی صحافی ڈاکٹر منظور اعجاز کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ملزمان کی حوالگی کا کوئی باقاعدہ معاہدہ نہیں ہے لیکن فریقین انفرادی معاملات کو سامنے رکھ کر کیس ٹو کیس بنیاد پر ایک دوسرے سے تعاون کرتے رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے میں ملوث ایک ملزم رمزی یوسف کو سنہ 1995 میں امریکہ کے حوالے کیا تھا جبکہ سی آئی اے ہیڈکوارٹر پر حملے کے ملزم ایمل کانسی کو 1997 میں پاکستان سے گرفتار کر کے امریکہ روانہ کیا گیا تھا۔

9/11 کے بعد پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی سمیت بڑی تعداد میں شدت پسندوں کو امریکہ کے حوالے کیا گیا ہے۔ سابق صدر پرویز مشرف نے اپنی کتاب 'ان دی لائن آف فائر' میں امریکہ کے حوالے کیے گئے افراد کی تعداد 369 بتائی تھی۔

ڈاکٹر منظور اعجاز کا کہنا تھا کہ امریکہ نے بھی اس سلسلے میں پاکستان سے تعاون کیا ہے اور 2001 میں کرپشن کے مقدمے میں پاکستان کو مطلوب پاک بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل منصورالحق کو امریکی ریاست ٹیکساس سے گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں