آخر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کیا چاہتی ہے؟

ایم کیو ایم تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کے بقول اسٹیبلشمنٹ نے ایم کیو ایم پاکستان اور ان کی جماعت کو ملوانے کی کوشش کی اور وہ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ایسا کرنے میں حق بجانب ہے۔

کچھ گھنٹوں تک قائم رہنے والے اس اتحاد میں دراڑیں اس وقت نظر آنے لگیں جب دونوں سابق ہم جماعت سیاسی رہنما الگ الگ پریس کانفرنسیں کر کے اپنا اپنا نقطۂ نظر بیان کرتے دکھائی دیے۔

مصطفیٰ کمال: ’ہاں، اسٹیبلشمنٹ نے فاروق ستار سے ملوایا ہے‘

’ایم کیو ایم لندن سے انضمام ناممکن ہے‘

ادھر پاکستانی سیاست پر نظر رکھنے والے سینیئر تجزیہ نگار اس نکتے پر متفق نہیں دکھائی دیتے کہ ملک میں جمہوریت کو کس نے زیادہ نقصان پہنچایا، اسٹیبلشمنٹ نے یا سیاست دانوں کی نادانیوں نے؟

تاہم اس پر ان کا اتفاق ہے کہ مصطفیٰ کمال کے بیان میں کچھ نہ کچھ صداقت ضرور ہے۔

سینیئر کالم نگار اور سابق رکن قومی اسمبلی ایاز امیر کا کہنا ہے کہ جس کو ہم پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کہتے ہیں کہ اس کا ایم کیو ایم کے ساتھ بہت گہرا تعلق رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا ایم کیو ایم کے بڑے ہونے اور پذیرائی میں بڑا ہاتھ رہا ہے: 'یہ تو ہم نے دیکھا کہ جب مشرف آئے تو انھوں نے الطاف حسین والی ایم کیو ایم کی زبردست مدد کی تھی، اور کراچی کی چابیاں تالا بند کر کے انھیں دی گئی تھیں۔'

لیکن ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال اور انتخابات سے قبل اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کی جانے والی اس کوشش کا کیا مقصد ہو سکتا ہے؟ وہ ان دونوں جماعتوں کو اکٹھا کیوں کرنا چاہتی ہے؟

سینیئر تجزیہ نگار ڈاکٹر مہدی حسن کا خیال ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ایسا کر کے کراچی کو قابو میں کرنا چاہتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'پیپلز پارٹی سندھ میں مضبوط ہے اور ایم کیو ایم کے کمزور ہونے کے بعد توقع ہے کہ وہ کراچی میں بھی مضبوط ہو جائے گی، دوسرے پی ٹی آئی پورے ملک میں جس طرح مہم چلا رہی ہے جو کہ میری نظر میں ان کی انتخابی مہم ہے، اس کو دیکھتے ہوئے اگر اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ یہ دونوں پارٹیاں کوئی موثر پوزیشن حاصل نہ کر سکیں، تو اس کے لیے جو اسٹیبلشمنٹ جوڑ توڑ کرے گی، یہ اس کا حصہ ہو سکتا ہے۔'

پاکستانی سیاست میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ کوئی سیاسی رہنما یا جماعت اسٹیبلشمنٹ کے اثرات میں رہی ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ذوالفقار علی بھٹو اور ایوب خان کی سنہ 1964 میں لی گئی ایک تصویر

ذوالفقار علی بھٹو نے سکندر مرز اور ایوب خان کے دور میں اپنے سیاسی کرئیر کا آغاز کیا لیکن پھر انہی کی مخالفت کر کے ایک اینٹی اسٹیبلشمنٹ جماعت بنائی۔

تین مرتبہ وزیرِ اعظم بننے والے نواز شریف پی پی پی کی مدِمقابل آئی جے آئی کا حصہ بنے جسے اسٹیبلشمنٹ کی واضح پشت پناہی حاصل تھی۔ ادھر پی ٹی آئی کے عمران خان بارہا امپائر کی انگلی کا نعرہ لگاتے دکھائی دیے۔

پی ایم ایل ن لیگ کا حصہ رہنے والے ایاز امیر کہتے ہیں کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ آگے بڑھنے کا یہی طریقہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سیاست دان بےبس نہیں ہوتے۔

’میاں نواز شریف اور ایم کیو ایم کے الطاف حسین بےبس نہیں تھے، ان کی یہ دانستہ سوچ تھی کہ اسی سہارے سے ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ لوگ جاتے ہیں، ان سے ملتے ہیں ان کی مدد لیتے ہیں۔ ہمیشہ ایسا ہوتا رہا ہے اور یہ پاکستانی سیاست کی ایک تلخ حقیقت ہے۔‘

ڈاکٹر مہدی حسن کہتے ہیں کہ دس، بارہ بڑی پارٹیاں ہمیشہ سے یہ کوشش کرتی رہی ہیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کو ناراض نہ کریں کیونکہ ایسا کرنا ان جماعتوں کے اپنے مفاد میں نہیں ہو گا اور ان کا الیکشن جیتنا مشکل ہو جائے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں میں نظم وضبط کا فقدان ہوتا ہے، مثلاً انھیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے ارکان کون ہیں وہ عوام کو جماعت میں پذیرائی نہیں دیتے جس کا فائدہ اسٹیبلشمنٹ اٹھاتی ہے۔

دفاعی اور سیاسی امور پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار پروفیسر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ ملک کی آدھی عمر جمہوریت کے بغیر ہی گزری لیکن جب جمہوری دور میں اسٹیبلشمنٹ کا اثر ہوا تو کہیں نہ کہیں سیاست دان بھی ناکام ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

'ہندوستان کے برعکس پاکستان میں صورت حال مختلف رہی ہے، پاکستان پر سکیورٹی دباؤ رہے ہیں۔ جب تک ملک میں بیرونی اور اندرونی سکیورٹی دباؤ رہیں گے تب تک ملک میں فوج کا پلڑا بھاری رہے گا۔'

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب بہت سے سویلین امور مثلاً انتخابات، سیلاب اور دیگر کاموں میں فوج کو بار بار بلایا جاتا ہے تو فوج میں یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ وہ کام کو زیادہ بہتر طور پر کر سکتے ہیں اور عوام میں بھی فوج کا مقام بڑھ جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ فوج نے سیاست میں آ کر رضا کارانہ طور پر سیاست چھوڑی ہو۔

سیاسی امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے اثر کی وجہ نہ صرف سیاست دانوں کی نادانیاں بنی ہیں بلکہ ابتدا سے ہی ہمارے سیاستدانوں کی درست خطوط پر تربیت نہ ہونا بھی ایک وجہ تھی۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے سامنے توازن قائم کیا جائے اور اس کے لیے سیاست دانوں میں اتفاق اور ہم آہنگی بہت ضروری ہیں۔

اسی بارے میں