’سکیورٹی اہلکار پانچ منٹ میں پہنچ گئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایگری کلچر یونیورسٹی ڈائریکٹوریٹ کے تربیتی مرکز پر جمعے کی صبح ہونے والے حملے میں کم از کم نو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

آخر حملہ آوروں نے محکمۂ زراعت یا ڈائریکٹوریٹ جنرل زراعت کی عمارت کا انتخاب ہی کیوں کیا جہاں ایک چوکیدار اور آٹھ طالب علم ہلاک ہوئے۔

انسپکٹر جنرل پولیس صلاح الدین محسود نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس احاطے کے اندر دو ہاسٹلز ہیں جن میں ایک طلبہ اور دوسرا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کا ہے۔ اس کے علاوہ اسی احاطے میں ہاوسنگ کالونیز ہیں جہاں 60 سے 70 کوارٹرز ہیں جن میں فیمیلیز رہتی ہیں۔

صلاح الدین محسود کے مطابق پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے ہاسٹل میں 50 سے 60 افراد تھے جبکہ محکمۂ زراعت کے تربیتی سینٹر کے ہاسٹل میں 60 سے 70 طالب علم موجود تھے۔ اسی عمارت کے ساتھ خیبر ٹیچنگ ہسپتال سے وابستہ ڈاکٹروں اور نرسوں کے ہاسٹلز بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پشاور میں ایگری کلچر ڈائریکٹوریٹ کے تربیتی مرکز پر حملہ، 'کم از کم نو افراد ہلاک'

پشاور ایگری کلچر ڈائریکٹوریٹ پر حملہ، تصاویر میں

’جو کمرے سے نکل رہا تھا وہ مر رہا تھا‘

انسپکٹر جنرل پولیس نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار چار سے پانچ منٹ کے اندر موقع پر پہنچ گئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ حملہ آور طالب علموں کے ہاسٹل میں تو داخل ہو گئے تھے لیکن سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے ہاسٹل کو کور کر لیا تھا جہاں موجود لوگوں کو وہاں سے بحفاطت نکال لیا گیا۔

انسپکٹر جنرل پولیس نے کہا کہ دیگر مکانات اور کوارٹروں میں موجود لوگوں کو بھی نکالا گیا۔

دوسری جانب کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے اس عمارت کے اندر سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

اس بارے میں پولیس حکام سے بات ہوئی تو انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہو سکتا ہے کہ حملہ آوروں کا نشانہ کوئی اور جگہ ہو اور شہر میں سکیورٹی کی وجہ سے وہ اس عمارت میں داخل ہو گئے۔

اس تربیتی مرکز میں قائم عمارتوں میں زراعت اور اس سے وابستہ افسران اور عملے کے ساتھ ساتھ طالب علم ہی رہائش پزیر تھے۔

پشاور کے دو ہسپتالوں میں جو لاشیں اور زخمی لائے گئے ان میں زیادہ تعداد طالب علموں کی ہے جبکہ زخمیوں میں دو فوجی اہلکار، ایک پولیس انسپکٹر اور ایک چوکیدار شامل ہیں۔

اسی بارے میں