پشاور: ’شدت پسند آئی ایس آئی کا دفتر سمجھ کر حملہ کرنے آئے تھے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پشاور میں ایگری کلچر یونیورسٹی ڈائریکٹوریٹ میں حملے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے ہیں

پشاور میں جمعے کو زرعی تربیتی ادارے پر ہونے والے حملے کے بعد شدت پسندوں کی طرف سے جاری کی گئی وڈیو سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حملے کے منصوبہ سازوں نے خودکش حملہ آواروں کو ہدف کے بارے میں صحیح نہیں بتایا تھا۔

جمرود روڈ پر پشاور یونیورسٹی کی عمارت کے سامنے واقع زرعی تربیتی ادارے پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے قبول کی گئی ہے۔ تنظیم کی طرف سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو اس واقعے کی ایک ویڈیو بھی بھیجی گئی ہے۔ تقریباً دو منٹ پر مشتمل اس وڈیو میں حملہ آواروں کو طلبا پر فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ ویڈیو میں بعض طالب علموں کو بھاگتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’لکڑیاں بیچ کر پڑھایا کہ بڑھاپے کا سہارا بنے‘

’جو کوئی کمرے سے باہر آتا وہ مارا جاتا‘

پشاور حملہ: خون، گولیوں کے نشانات اور بکھرے بستر

پشاور میں برقع پوشوں کا حملہ، تصاویر میں

بی بی سی اردو کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق پولیس اور تفتیشی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ایک حملہ آور کے کپڑوں سے ایک موبائل فون لگا ہوا ملا ہے جس سے لگتا ہے کہ اسی فون سے حملے کی ریکارڈنگ کی گئی ہے۔ تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ یہ ریکارڈنگ کیسے کی گئی۔

بعض اہلکاروں کا خیال ہے کہ فیس بک لائیو کے ذریعے حملے کی ریکارڈنگ کی گئی ہے یا کسی مخصوص ایپ کے ذریعے بھی ایسا ممکن ہے۔

عمر میڈیا کی طرف سے جاری کردہ اس ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے طلبا کے ایک کمرے میں داخل ہوتے ہیں جہاں ایک حملہ آور اور طالب علم کے درمیان پشتو زبان میں مختصر بات بھی ہوتی ہے۔ حملہ آور طالب علم سے کہتا ہے کہ ’آپ کو کچھ نہیں کہوں گا لیکن یہ بتاؤ کہ کیا یہ خفیہ ادارے آئی ایس آئی کا مرکز ہے؟‘۔ خوف کے عالم میں جواب دیتے ہوئے طالب علم کے منہ سے 'ہاں' نکلتا ہے۔

تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ جس طالب علم سے حملہ آور کی بات ہوئے انھیں بعد چھوڑ دیا گیا یا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کالعدم تنظیم کے ترجمان عمر خراسانی کی طرف سے جاری کردہ بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ حملہ خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے مرکز پر کیا گیا ہے۔

لیکن حقیقت میں وہ زرعی تربیتی ادارے میں واقع طلبہ کا ایک ہاسٹل ہے جہاں حملے کے وقت 30 کے قریب طلبہ موجود تھے۔

سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ویڈیو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ منصوبہ سازوں نے حملہ آواروں کو دھوکہ میں رکھا اور شاید انھیں بتایا گیا تھا کہ وہ انھیں خفیہ ادارے کے مرکز کو نشانہ بنانے کے لیے بھیج رہے ہیں لیکن درحقیقت وہاں خفیہ ادارے کا کوئی مرکز یا دفتر موجود نہیں ہے۔

ادھر زرعی تربیتی ادارے کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ چھ ماہ پہلے ان کی طرف سے صوبائی حکومت کو دو خطوط بھیجے گئے تھے جس میں ادارے کو سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی لیکن حکومت کی طرف سے اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

انھوں نے کہا کہ ادارے کی حفاظت کے لیے بوڑھے چوکیداروں کو تعینات کیا گیا ہے جن کی نہ صرف عمریں زیادہ ہیں بلکہ ان کے پاس حفاظت کے لیے موجود اسلحہ بھی پرانا ہے جس میں بیشتر بندوقیں کام نہیں کرتیں۔ ان کے مطابق ادارے کی عمارت میں جو سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے ہیں ان میں زیادہ تر یا تو خراب ہیں یا ان میں کئی دنوں تک ریکارڈنگ اور ڈیٹا جمع کرنے کی سہولت موجود نہیں۔

یاد دہے کہ خیبر روڈ پشاور پر واقع زرعی تربیتی مرکز ایک بڑی عمارت پر مشتمل ہے جہاں تربیتی ادارے اور ہاسٹلوں کے علاوہ گیارہ دیگر سرکاری محکموں کے دفاتر بھی واقع ہیں۔ اس عمارت سے متصل مشہور طبی ادارے خیبر ٹیچنگ ہپستال کی نرسوں اور ڈاکٹروں کے ہاسٹلز ہیں۔

خیال رہے کہ جمعہ کو زرعی تربیتی ادارے پر تین برقع پوش مسلح افراد نے حملہ کیا تھا جس میں کم سے کم نو افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ بعد میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کے مشترکہ آپریشن میں تینوں شدت پسند مارے گئے تھے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی سرحد پار افغانستان میں کی گئی تھی۔ تاہم افغان حکومت کا اس ضمن میں تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

اسی بارے میں