’دھرنا قائدین اور حکومت کے درمیان معاہدے کی قانونی توثیق نہیں ہو سکتی‘

دھرنا تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیض آباد پر دھرنے کے حوالے سے حکومت اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے درمیان ہونے والے معاہدے کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس کی قانونی توثیق نہیں کی جا سکتی ہے۔

اسلام آباد میں مذہبی جماعتوں کے دھرنے کے بارے میں مقدمے کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ’ انسدادِ دہشت گردی کے تحت درج کیے گئے مقدمات کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے۔‘

فوجیوں کو سیاست کا شوق ہے تو نوکری چھوڑ دیں: جج

اسلام آباد آپریشن: حالات اس نہج تک کیسے پہنچے؟

دھرنا دینے والی جماعت کے سیاسی عزائم ہیں: سپریم کورٹ

عدالت میں سماعت کے دوران انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کی جانب سے پولیس آپریشن کی ناکامی کے بارے میں سربمہر رپورٹ بھی پیش کی گئی اور اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتر اوصاف بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے تجویز دی کہ دھرنا قائدین اور حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں زیر بحث لایا جائے یا پھر وفاقی کابینہ،اور معاہدے کے ثالث بھی اس کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیں۔

اٹارنی جنرل نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں معاہدے کو زیر بحث لانے پر اتفاق کیا۔

عدالت نے کہا کہ وزارتِ دفاع کو بھی اس بات کی تحقیقات کرنی چاہیے کہ فوج کے سربراہ کا نام کیسے اس متنازع معاہدے میں استعمال کیا گیا اور ادارے کی بدنامی کروانے کا ذمہ دار کون ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ دھرنے سے متعلق سپریم کورٹ نے نوٹس لیتے ہوئے حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں دھرنے سے متعلق تمام نکات کو زیر بحث لایا گیا۔ جس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ درخواست گزار کی جانب سے جو تجاویز دی گئی ہیں وہ سپریم کورٹ کے حکم نامہ میں شامل نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اٹارنی جرنل نے معاہدے میں فوج کی ثالثی پر قانونی معاونت کے لیے عدالت سے وقت طلب کرتے ہوئے کہا کہ تیاری کر کے وہ تفصیلی رپورٹ پیش کریں گے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے کہ دھرنا قائدین اور منتظمین خود توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں، معاہدے کی ایک شق بھی قانون کے مطابق نہیں ہے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے استفسار کیا کہ دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج مقدمات کیسے ختم کیے جا سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’مجروح میں ہوا ہوں، زخمی میں ہوا ہوں، تاہم ریاست کون ہوتی ہے فیصلہ کرنے والی۔‘

انھوں نے کہا کہ عدالت اس معاہدے کی توثیق نہیں کرسکتی۔ جب تک پولیس والوں کی تسلی نہیں کی جاتی مقدمات ختم نہیں ہونے دیں گے۔

عدالت نے مقدمے کی سماعت 12 جنوری تک موخر کر دی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں