دفعہ 505 کے تحت پاکستان میں ’ہندوستان زندہ باد‘ لکھنا کب جرم بن جاتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نوجوان کی جانب سے ایسی تحریر کی واضح وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ہری پور میں پولیس نے ایک شخص کو اپنے گھر کی بیرونی دیوار پر ہندوستان زندہ باد لکھنے پر گرفتار کیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق ساجد نامی شخص کے خلاف دفعہ 505 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اس میں مزید لکھا گیا ہے کہ پولیس نے اطلاع ملنے پر جائے وقوعہ کا دورہ کیا تو گھر کی دیوار پر ’ہندوستان زندہ باد‘ لکھا پایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

بھارتی پرچم لہرانے پر 'ویراٹ کوہلی کا مداح' گرفتار

پاکستان میں میڈ ان انڈیا سموگ

ایف آئی آر میں نوجوان ساجد شاہ کی عمر 20 سال کے قریب بتائی گئی ہے۔ تاہم اس نوجوان کی جانب سے ایسی تحریر کی واضح وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اوکاڑہ میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آ چکا ہے جس میں عمر دراز نامی شخص کو اپنے مکان کی چھت پر انڈین پرچم لہرانے پر حراست میں لیا گیا تھا۔

اس تازہ گرفتاری پر یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آخر اس طرح کی گرفتاریاں کس قانون کے تحت عمل میں لائی جاتی ہیں اور دفعہ 505 کہتی کیا ہے؟

تعزیرات پاکستان کی دفعہ 505

جو کوئی بھی ایسا بیان، افواہ یا رپورٹ لکھے، شائع کرے یا پھیلائے:

اے) جس کا مقصد اشتعال دلانا ہو یا جو ممکنہ طور پر اشتعال دلانے کی وجہ بنے، پاکستانی آرمی، نیوی یا ایئر فورس کے کسی بھی افسر، سپاہی، سیلر یا ایئر مین کو بغاوت، ارتکابِ جرم یا کسی بھی طرح سے اپنی ذمہ داریاں انجام دینے سے روکنے کی کوشش کرے

یا

بی) جو عوام یا عوام کے کسی دھڑے میں خوف یا افراتفری پھیلانے کی وجہ بنے یا ممکنہ طور پر وجہ بنے، اور جو کسی کو ریاست کے خلاف جرم کا ارتکاب کرنے یا عوامی امن کو خراب کرنے پر اکسائے،

یا

سی) کسی بھی طبقے یا برادری کو کسی دوسرے طبقے یا برادری کے لوگوں کے خلاف ارتکاب جرم پر اکسائے یا ممکنہ طور پر اشتعال دلائے،

ایسے کسی بھی شخص کو سات سال تک کی قید اور جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

شق نمبر 2

ایسے بیان، افواہ یا رپورٹ یا افراتفری پھیلانے والی خبر کو لکھے، شائع کرے یا پھیلائے:

جس سے اس کی مذہبی، نسلی، جائے پیدائش، رہائش، زبان، ذات یا برادری یا کسی بھی اور بنیاد پر دشمنی کے احساسات، مختلف مذاہب، ذاتوں یا برادری یا علاقائی گروہوں کے درمیان نفرت یا اختلافات پیدا کرنے کی نیت ہو یا ممکنہ طور پر نیت ہو، تو ایسے شخص کو سات سال تک قید اور جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

یہ تو تھی وہ دفعہ جس کے تحت اس نوجوان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس پر سپریم کورٹ کے انسانی حقوق کے وکیل ذوالفقار بھٹہ کا کہنا ہے کہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس نوجوان نے ایسا کیا کیوں ہے اور ’یہ ثابت کیسے ہوگا کہ اس شخص نے کس نیت سے ایسا کیا؟‘

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر تو اس نوجوان نے یہ نعرہ کسی دشمن ملک کے کہنے پر، اس سے پیسے لے کر یا کسی کے اکسانے پر لگایا تو یہ جرم ہو سکتا ہے، لیکن اگر کسی نے حالات و واقعات سے تنگ آکر ذہنی الجھنوں کا شکار ہو کر یا ذہنی بیماری کی حالت میں ایسا کیا ہے تو یہ کسی بھی صورت جرم کے زمرے میں نہیں آتا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں