پیپلز پارٹی کی نون لیگ سے محبت کا سفر ختم

نواز اور بینظیر تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی میثاق جمہوریت سے شروع ہونے محبت کا اختتام ہوتا نظر آ رہا ہے

لندن میں 2006 میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی محبت جس کا آغاز میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے درمیان لندن میں میثاق جمہوریت سے ہوا تھا وہ اب پیپلز پارٹی کی ناراضی میں بدل گئی ہے۔

لندن میں میثاق جمہوریت کے بعد بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت بننے کے کچھ عرصے تک تو یہ محبت چلی لیکن پھر کئی ایسے واقعات ہوئے جس سے مسلم لیگ نواز کی جانب سے اس معاہدے کی پاسداری نہیں کی گئی۔

پہلے تو جب یوسف رضا گیلانی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تو میاں نواز شریف بھی پہنچ گئے۔

اس کے بعد میمو گیٹ ہوا تو نواز لیگ پیش پیش رہی۔ یعنی نواز لیگ نے میثاق جمہوریت کے برخلاف کوئی موقع نہیں چھوڑا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کو کمزور کیا جائے۔

مسلم لیگ نواز کے مقابلے میں پاکستان پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ کو اس وقت مشکل سے باہر نکالا جب 2014 میں پاکستان تحریک انصاف کا دھرنا جاری تھا۔ میاں نواز شریف یہ معاملہ پارلیمنٹ لے کر گئے اور پیپلز پارٹی نے حکومت کی حمایت کی اور دباؤ سے باہر نکالا۔

تاہم اس بار تحریک لبیک یا رسول اللہ کی جانب سے اسلام آباد میں دھرنے میں پیپلز پارٹی حکومت کی حمایت کے لیے نہیں آئی اور صاف ظاہر ہوا کہ اب پیپلز پارٹی کا نواز لیگ کے ساتھ محبت کا سفر ختم ہو گیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے جمعرات کو پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے استعفے کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ 'ماڈل ٹاؤن واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں شہباز شریف مستعفی ہو کر عدالت کا سامنا کریں، اور اب ہم شہباز شریف کو برداشت نہیں کریں گے۔'

صحافی اور تجزیہ کار راشد رحمان کہتے ہیں کہ نواز شریف نے اکیلے ہی چلنے کی پالیسی اپنائی اور یہ ان کی عادت ہے۔ 'نواز لیگ کے اصل حلیف سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ ہی تھی لیکن انھوں نے اکیلے ہی چلنے کا فیصلہ کیا۔ اور اسی وجہ سے پارلیمان میں دوسری بڑی جماعت پاکستان پیپلز نے بھی کھل کر مخالفت کرنی شروع کر دی ہے۔'

پیپلز پارٹی کی جانب سے نواز لیگ کی کھل کر مخالفت کے بارے میں صحافی اور تجزیہ کار عارف نظامی نے آصف زرداری اور طاہر القادری کی ملاقات کو پیپلز پارٹی کی موقع پرستی کی ایک عمدہ مثال قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

' پیپلز پارٹی اس وقت مائنس ون نہیں مائنس ٹو کی سیاست کے حق میں ہے۔ وفاق سے تو میاں نواز شریف کی فراغت ہو گئی ہے اور اب شہباز شریف کو بھی فارغ کرنے کی کوشش کی جائے۔ پیپلز پارٹی کی سیاسی سمت اس وقت یہ لگ رہی ہے کہ حکومت سینیٹ کے انتخابات سے قبل فارغ ہو جائے۔ یہ مارچ سے قبل حکومت کو فارغ کرنے کی آخری کوشش ہے ۔'

تجزیہ کار سہیل وڑائچ بھی عارف نظامی سے اتفاق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پہلے پیپلز پارٹی مقررہ وقت سے قبل انتخابات کے خلاف تھی لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ وہ بھی قائل ہو گئی ہے کہ مقررہ وقت سے پہلے انتخابات ہونے چاہیئں۔

'پاکستان عوامی تحریک کے ساتھ ہاتھ ملانے کا مقصد گیٹ شہباز شریف مہم کا آغاز ہے۔ پی پی پی کا خیال ہے کہ ماڈل ٹاؤن انکوئری رپورٹ کے ذریعے پنجاب حکومت پر دباؤ بڑھا کر مسلم لیگ نواز کو مقررہ وقت سے قبل انتخابات پر سمجھوتہ کیا جائے۔ میرے خیال میں حالات کو اس جانب لے جایا جا رہا ہے۔'

سہیل وڑائچ نے کہا کہ ان کے خیال میں تمام سیاسی جماعتوں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ مارچ میں سینیٹ کے الیکشن سے قبل دسمبر جنوری میں وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کو ہٹانے کی کوشش کی جائے۔ اور ماڈل ٹاؤن انکوائری رپورٹ ایک ایسا مہرہ ہے جس کے ذریعے پنجاب حکومت کے خلاف مہم چلائی جا سکتی ہے۔

صحافی اور تجزیہ نگار راشد رحمان نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن انکوائری رپورٹ کی صورت میں پاکستان عوامی تحریک کو ایک پتہ مل گیا ہے جس کے بارے میں وہ 2014 سے کوشش کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیپلز پارٹی کا طاہرالقادری کے ساتھ ملاپ سیاسی موقع پرستی کی بہترین مثال ہے: عارف نظامی

'یہ ایک ایسا پتہ ہاتھ میں آ گیا ہے جس کی وجہ سے پنجاب حکومت پر کافی دباؤ ڈالا جا سکتا ہے اور ابھی بھی وہ دباؤ میں آ گئی ہے۔ پیپلز پارٹی موقع پرستی کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے طاہرالقادری کے ساتھ ملی ہے تاکہ پنجاب حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔'

انھوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹر طاہر القادری آج کنٹینر پر چڑھ جائیں تو تمام سیاسی جماعتیں ان کے ارد گرد جمع ہو جائیں گی۔

'سب کا مقصد ہے کہ حکومت کو کمزور کیا جائے۔ عمران خان کا خیال ہے کہ حکومت کمزور ہونے سے بِگ بوائز ان کی مدد کریں گے لیکن آصف زرداری کو یہ معلوم ہے کہ بِگ بوائز ان کی مدد نہیں کریں گے۔ لیکن وہ اس لیے شور مچا رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ان پر نظر کرم کرے۔'

کیا پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی ایک ہی اتحاد کا حصہ ہو سکتے ہیں کے سوال پر عارف نظامی نے کہا کہ ایک بات یاد رکھیں کہ سیاست میں کوئی حرف آخر نہیں ہوتا۔ 'پیپلز پارٹی کہہ چکی ہے کہ اگر عمران خان ہماری جماعت کے خلاف لفظی بوچھاڑ پر سیز فائر کر دیں تو ان سے اتحاد کیا جا سکتا ہے۔'

لیکن سہیل وڑائچ اس سے اتفاق نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کی جو پی پی پی کے حوالے سے لائن سے تو ان دونوں جماعتوں کا اتحاد ہونا مشکل ہی ہے۔