حذر کرو میرے غصے سے، حذر کرو میری بھوک سے !

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کر کے یہ ثابت کر دیا کہ وہ تمام لوگ جو عرصہ دراز سے امریکہ کو اسرائیل نواز ملک تصور کر رہے تھے، درست تھے۔

اس اعلان نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ جب کسی ملک میں ایک سیاستدان کو نظر انداز کر کے ایک بزنس مین کو سربراہ چنا جاتا ہے تو دال میں کچھ کالا نہیں پوری دال ہی کالی ہوتی ہے۔ ایسی ہانڈی کو، اس سے پہلے کہ چوراہے پہ پھوٹے، اٹھا کر بجر بٹو کے طور پہ کہیں لٹکا دینا چاہیے۔

امریکی انتخابات کی کالی ہانڈی سے نکلے ٹرمپ کے اس بیان نے بد امنی اور جنگ کی ماری دنیا کے لیے، آ فتوں سے بھرا ایک اور 'پنڈورا’ کا پٹارا کھول دیا ہے۔ جہاد کے نام پہ ، جس طرح پچھلی تین دہائیوں میں مختلف ملکوں نے اپنی اپنی 'پراکسی وار' لڑی، اس سے اور تو جو ہوا سو ہوا، کشمیر اور فلسطین کی تحریکِ آ زادی کو ناقابلِ تلافی نقصان ضرور پہنچا۔

یہ بھی پڑھیے

’امریکہ یروشلم سے متعلق اپنا فیصلہ واپس لے‘

’اعلانِ یروشلم انتہا پسندی کو ہوا دینے کا سبب بنے گا‘

یروشلم: سات ہزار برسوں کی خون آلود تاریخ

فلسطینی اور کشمیری جو عقل کے اندھے اور کمزور کے حق میں گونگے بن جانے والے اس کرے پہ اپنی اپنی بقأ کی جنگ لڑ رہے تھے، ان پہ بھی دہشت گرد کا لیبل چسپاں کر دیا گیا۔

اسی کی دہائی میں مچنے والی اس ہائے ہو نے فلسطین کا ذکر آہستہ آہستہ، خبروں اور ذہنوں سے محو کر دیا۔ کچھ یہ بھی تھا کہ 'تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو' کے مصداق مسلم ممالک اپنی اپنی مصیبتوں میں گرفتار ہیں۔

سقوطِ ڈھاکہ، ایران، عراق جنگ، افغانستان پہ روسی حملہ اور بعد کے حالات، کویت کی جنگ، دہشت گردی کے خاتمے کے نام پہ لڑی جانے والی ایک لایعنی جنگ، جس نے افغانستان، پاکستان، عراق، شام، یمن اور قریباً پورے ہی اسلامی بلاک کو نہ صرف بوکھلا کے رکھ دیا بلکہ ایک عمومی سوچ بھی پروان چڑھی کہ سوائے اپنے ملک کے حالات پہ نظر رکھنے کے پرائی آگ بجھانے نہ جایا جائے۔

آج کے حالات میں جب یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت مان کر، بارود کے ڈھیر کو تیلی دکھائی گئی تو فلسطینی بالکل تنہا تھے۔ بدامنی سے نڈھال لوگ، یا تو خاموش ہیں یا اسے سرے سے کوئی مسئلہ ماننے پہ ہی تیار نہیں۔

یروشلم تینوں ابراہیمی مذاہب کے لیے مقدس ہے۔ ایک زمانے میں اقوامِ متحدہ نے اسے اپنی تولیت میں لینے کی تجویز بھی پیش کی تھی، لیکن اب تو اس زمانے کو بھی بہت سے زمانے گزر گئے اور پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس وقت اقوامِ متحدہ اسے ایک مقبوضہ شہر مان چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ دنیا کے تھانیدار، امریکہ کے صدر کے علم میں کیا یہ موٹی سی بات نہیں تھی؟

ایک پرانا لطیفہ یاد آیا کہ اقوامِ متحدہ ایک ایسی تنظیم ہے جہاں، اگر ایک بڑے ملک اور چھوٹے ملک کے درمیان کا تنازعہ لایا جاتا ہے تو چھوٹا ملک غائب ہو جاتا ہے، دو چھوٹے ملکوں کے درمیان کا تنازعہ لایا جاتا ہے تو تنازعہ غائب ہو جاتا ہے اور اگر دو بڑے ملکوں کے درمیان کا تنازعہ پیش کیا جائے تو اقوامِ متحدہ غائب ہو جاتی ہے۔

لطیفے سنانے سے اگر انسانوں کی بد نصیبیاں اور ان پہ مسلط، جنگیں، سختیاں اور دکھ کم ہو سکتے تو کیا ہی بات تھی ؟

رسمی مذمتیں ہو گئیں، غم و غصے کے اظہار بھی ہو گئے۔ سوشل میڈیا پہ اسرائیل کی توپوں میں کیڑے پڑنے کی بد د عائیں بھی دے دی گئیں۔ کرنے کی سب باتیں ہو گئیں۔ اب دنیا خاموش بیٹھی، خبریں سنا کرے گی۔ فلسطینیوں کے لیے آگ اور خون کی ہولی منتظر ہے۔ سینے پہ گولی کھانے اور جواب میں ایک بے ضرر پتھر اچھالنے والوں کے لیے محمود درویش کی نظم

' لکھو

میں عرب ہوں۔

تم نے میرے آباؤ اجداد کے انگوروں کے باغ چرا لیے ہیں

اور وہ زمین، جسے میں اپنے بچوں کے ساتھ کاشت کیا کرتا تھا

تم نے میری اولاد کے لیے،

پتھروں کے سواء کچھ نہیں چھوڑا،

کیا تمہاری حکومت مجھ سے وہ بھی چین لے گی ؟( افواہ تو یہ ہی ہے )

تو پھر لکھو۔

صفحۂ اول کے سرنامے پر لکھو،

میں کسی سے نفرت نہیں کرتا،

میں چوری نہیں کرتا،

مجھے بے شک بھوکا رکھو،

لیکن میں اپنی بھوک اور غصے کے ہاتھوں

اپنے اوپر حملہ کرنے والے کا گوشت چبا جاؤں گا،

حذر کرو میری بھوک سے،

حذر کرو میرے غصے سے۔

( محمود درویش)

اسی بارے میں