’احسان اللہ احسان کو رہا نہ کیا جائے‘: عدالت کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی فوج کے ترجمان نے 17 اپریل کو ایک پریس کانفرنس میں احسان اللہ احسان کے فوج کی تحویل میں ہونے کا انکشاف کیا تھا جس کے بعد 26 اپریل کو ان کا اعترافی بیان بھی جاری کیا گیا

پشاور ہائی کورٹ نے حکومت پر پابندی عائد کی ہے کہ وہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کو رہا نہیں کر سکتی اور کہا ہے کہ احسان اللہ احسان کے خلاف تحقیقات مکمل کی جائیں۔

یہ فیصلہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں قائم بینچ نے بدھ کو سنایا۔

اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ احسان اللہ احسان کو عدالتی حکم کے بغیر رہا نہ کیا جائے اور حکومت اس بارے میں تفصیلی فیصلے سے بھی آگاہ کرے۔

یہ فیصلہ آرمی پبلک سکول کے حملے میں ہلاک ہونے والے طالبعلم کی والد کی درخواست پر دیا گیا ہے۔

فضل خان ایڈووکیٹ نے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے سابق ترجمان نے گرفتاری دی ہے لیکن احسان اللہ احسان کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیے

مان میرا احسان

ترجمان تو ہمیشہ پکڑے جاتے ہیں!

’کھانا احسان اللہ احسان کے گھر سے آتا تھا‘

’مشال خان قتل اور احسان اللہ احسان سلیبرٹی‘

انھوں نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کو معافی دے سکتی ہے یا رہا کر سکتی ہے اس لیے حکومت کو اس سے روکا جائے۔

فضل خان نے بی بی سی کو بتایا بدھ کو عدالت نے حکومت کے جواب پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت احسان اللہ احسان کے بارے میں تفصیلی جواب سے آگاہ کرے جس سے عدالت کو تسلی ہو۔

انھوں نے کہا کہ درخواست میں کہا گیا تھا کہ احسان اللہ احسان نے آرمی پبلک سکول پر حملے سمیت متعدد واقعات کی ذمہ داری قبول کی تھی اس لیے احسان اللہ احسان کو سزا دی جائے۔ انھوں نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ احسان اللہ احسان کو رہا نہ کیا جائے اور مقدمہ فوجی عدالت میں سنا جائے۔

فضل خان ایڈووکیٹ کے مطابق جس طرح احسان اللہ احسان کو میڈیا پر پیش کیا گیا اس سے انھیں ایسا لگا کہ شاید حکومت احسان اللہ احسان کو رہا کرنے کا سوچ رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیمرا نے احسان اللہ احسان کے انٹرویو پر پابندی تو عائد کی تھی لیکن یہ بھی کہا تھا کہ کسی بھی پروگرام میں ان کے اعترافی بیان کا وہ حصہ نشر کیا جا سکتا ہے جس میں 'مذہب کے غلط استعمال' اور 'غیر ملکی ایجنسیوں کے ساتھ تعلقات' کا اعتراف ہو

عدالت نے حکومت سے جواب طلب کیا تھا اور کہا تھا کہ تفصیل سے بتایا جائے کہ کیا حکومت احسان اللہ احسان کو عام معافی دینے کا سوچ رہی ہے اور یہ بھی کہ احسان اللہ احسان کے بارے میں کیا فیصلہ کیا گیا ہے؟ تو اس بارے میں حکومت کی جانب سے صرف یہی جواب ملا کہ احسان اللہ احسان کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

فضل خان ایڈووکیٹ نے مزید بتایا کہ بدھ کو بھی حکومت کی جانب سے ایک سطر کا یہ جواب اٹارنی جنرل نے پڑھ کر سنایا کہ احسان اللہ احسان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں جس پر عدالت نے کہا کہ اس بارے میں تفصیلی جواب دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

پیمرا نے احسان اللہ احسان کے انٹرویو پر پابندی لگا دی

’طالبان تخریب کاری کے لیے اسرائیل کی مدد بھی لے سکتے ہیں‘

بھولا بھولی حرکتیں نہ کرتا تو کیا کرتا

فضل خان ایڈووکیٹ کے بیٹے عمر خان آٹھویں جماعت کے طالبعلم تھے جو ایک سو چالیس سے زیادہ طالبعلموں کے ساتھ سولہ دسمبر سال دو ہزار چودہ کو شدت پسندوں کے آرمی پبلک سکول پر حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ احسان اللہ احسان نے رواں سال فروری کے مہینے میں گرفتاری دی تھی اور پھر اپریل کے مہینے میں انھیں میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔

فضل خان نے بتایا کہ احسان اللہ احسان کو ایک ’مفکر‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا جس پر انھیں تشویش ہوئی اور انھوں نے عدالت سے درخواست کی کہ حکومت کو پابند کیا جائے کہ احسان اللہ احسان کو رہا نہ کیا جائے بلکہ پابند سلاسل رکھا جائے۔

فضل خان ایڈووکیٹ کے مطابق آرمی پبلک سکول کے حملے میں ہلاک ہونے والے تمام بچوں کے والدین کا یہ مطالبہ ہے کہ اس واقعے میں ملوث تمام افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

اسی بارے میں