ن لیگی اراکین کے استعفے، دباؤ یا ذاتی فیصلہ

پیر حمیدا الدین سیالوی تصویر کے کاپی رائٹ AASTANA ALIA SIAL SHARIF

پاکستان کی سیاست میں اس وقت پنجاب پر سب کی نظریں لگی ہیں جہاں عام انتخابات سے صرف چھ سے آٹھ ماہ قبل ایک بڑا سیاسی دنگل ہو رہا اور ملکی سیاست کے سب سے بڑے اور پختہ کار پہلوان کو ہر بڑا چھوٹا پہلون چت کرنے پر تلہ ہوا ہے اور سمجھ رہا ہے کہ اس پہلوان کے پاوں اکھڑ چکے ہیں اور بس ایک اور دھکا دینے کی دیر ہے یہ دھڑام سے زمین پر ڈھیر ہونے ہی والا ہے۔

ایک جانب ختم نبوت کے نام پر مذہبی گروہ سرگرم نظر آرہے ہیں تو دوسری جانب ماڈل ٹاؤن رپورٹ کے ایک اہم کارڈ کے ساتھ مسلم لیگ ن کی رہی سہی ساکھ اور ووٹ بینک کو توڑنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اتوار کو فیصل آباد میں دھوبی گھاٹ گراؤنڈ میں مسلم لیگ ن کے دو اراکین نے قومی اسمبلی اور تین نے صوبائی اسمبلی سے استعفوں کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیے

٭پیر حمید الدین سیالوی کون ہیں؟

٭الیکشن ایکٹ 2017 : ختمِ نبوت کی قانونی شقیں بحال کرنے کی منظوری

٭'حکومت جو چاہے کرتی اسے شکست ہی ہونا تھی‘

یہاں ختم نبوت کے نعرے لگا کر استعفے کا مطالبہ کرنے والوں کی قیادت خادم حسین رضوی نہیں بلکہ ان سے بھی سینئیر شخصیت پیر حمید الدین سیالوی نے کی۔

سرگودھا سے تعلق رکھنے والی روحانی شخصیت پیر حمید الدین سیالوی نے اس سے قبل یہ دعویٰ کیا تھا کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے 14 ارکانِ پارلیمان نے اپنے استعفے ان کے پاس جمع کروا دیے ہیں۔

پیر سیالوی نے مطالبہ کیا تھا کہ 'صوبہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نہ صرف مستعفی ہوں بلکہ وہ ٹی وی پر آ کر یہ وضاحت بھی کریں کہ وہ احمدیوں کو مسلمان تسلیم نہیں کرتے، جس کے بعد وہ بحیثیتِ مسلمان اپنے ایمان کی تجدید بھی کریں۔'

لیکن ان کا مطالبہ پورا نہیں ہو سکا اور وفاقی وزیر قانون کے بعد صوبائی وزیر قانون کا مستعفی ہونا ابھی ناممکن دکھائی دے رہا ہے مگر اب پیر صاحب کہتے ہیں کہ بات اب وزیر قانون کے استعفے سے آگے نکل چکی ہے۔

ڈاکٹر نثار احمد جٹ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 81 سے جبکہ غلام بی بی بھروانہ نے ضلع جھنگ کے حلقہ این اے 88 سے استعفیٰ دیا۔ اسی طرح مولانا رحمتہ اللہ اور پیر نظام الدین سیالوی اور خان محمد بلوچ مستعفی ہونے کا اعلان کرنے والوں میں شامل ہیں۔

ان اراکین کا تعلق فیصل آباد، چنیوٹ، جھنگ اور سرگودھا سے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ مقامی سطح کے اسی میدان میں بہت جلسے ہوئے ہیں۔ پچھلے سات سالوں میں یہ سب سے بڑا جلسئہ تھا۔

لیکن پیر حمید الدین کی طرف سے پہلے 14 اور پھر پچاس استعفوں کا دعویٰ کیا اب یہ تعداد گھٹ کر پانچ تک کیوں آگئی ہے؟

اس سوال کا جواب ہمیں پیر صاحب سے براہ راست تو نہیں مل سکا۔ رابطہ کرنے پر ہمیں مسلسل یہی جواب دیا گیا کہ وہ میٹنگ میں مصروف ہیں۔

صبح دس بجے سے شام چار بجے تک جاری رہنے والی ختم نبوت کانفرنس کے بعد نہ تو اس جماعت اور نہ ہی مستعفی ہونے والے اراکین بات کرنے کے لیے تیار دکھائی دے۔ دھوبی گھاٹ میں جاری کانفرنس کے دوران سٹیج پر آکر انھوں نے سیالوی صاحب کی حمایت کرنے اور ختم نبوت کے لیے جان تک قربان کرنے کا دعویٰ کیا۔

اس علاقے کی سیاست پر نظر رکھنے والے سینیئر صحافیوں کے مطابق مستعفی ہونے والے اراکین اگر استعفے نہ دیتے تو پھر انھیں آئندہ انتخابات میں اپنی نشستوں سے بھی ہاتھ دھونے پڑتے کیونکہ ان کے وٹرووں کی بڑی تعداد پیر سیالوی کے حامیوں اور مریدوں میں سے ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے لوگ ہوا کا رخ دیکھ کر جماعت بدلتے ہیں اور اب یہ رخ کم ازکم مسلم لیگ ن کے حق میں نہیں لگتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ NATIONAL ASSEMBLY
Image caption ڈاکٹر نثار احمد جٹ کہتے ہیں کہ استعفے کا اعلان دباؤ پر کیا

ڈاکٹر نثار احمد جٹ نے اپنی گفتگو میں اسی صورتحال کی تصدیق بھی کی۔

بی بی سی اردو کے ریڈیو پروگرام سیئربین میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ وہ علمائے اکرام اور علاقے کے معززین کے دباؤ کا سامنا نہیں کر سکتے تھے اس لیے استعفے کا اعلان کیا۔

’ اگر فیصلہ میری ذات کا ہوتا تو شاید میں استعفیٰ نہ دیتا ، سیالوی صاحب نے نہ تو براہ راست میری کوئی ملاقات تھی اور نہ ہی جان پہچان تھی لیکن پیر صاحب کے آنے سے پہلےگدی نشینوں اور علماء اکرام کا ایک وفد آیا اور انھوں نے بہت مجبور کیا مجھے کہ آپ کی شرکت باعث فخر ہے اور سیدھی سی بات ہے کہ میں انھیں انکار نہ کر سکا۔ میں وہاں یہ اعلان کر کے آیا ہوں کہ جب سیالوی صاحب جب کہیں گے ہم استعفیٰ دے دیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ میرے استعفے رانا ثنا اللہ کا استعفیٰ یا وضاحت سے مشروط نہیں ’میرا مطالبہ حکومت وقت سے یہ ہے کہ جو وفاق میں اس قانون کی تبدیلی کے محرکات تھے ان کا پتہ لگایا جائے۔‘

ماڈل ٹاؤن کو سماجی اور قانونی جبکہ ختم نبوت کو مذہبی معاملہ کہہ کر دونوں فریقین کی جانب سے حکومت وقت کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ جانے کا وقت آ گیا ہے۔

اسی بارے میں