صفدر اور عمران: جب دو کپتان الگ الگ عدالتوں میں پیش ہوئے

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت سے نکلنے کے بعد عمران خان کے چہرے پر سنجیدگی تھی اور یہ سنجیدگی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران بھی موجود رہی

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں موجود عدالتوں میں پیر کو دو کپتان پیش ہوئے۔ ان میں سے ایک فوج کے سابق کپتان محمد صفدر جبکہ دوسرے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان ہیں۔

اگرچہ یہ دونوں اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی وہ خود کو کپتان کہلوانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔

اس کمپلیکس میں داخل ہونے کا راستہ تو ایک ہی ہے اور دونوں کپتان الگ الگ اسی راستے سے عمارت میں داخل ہوئے لیکن ان میں سے ایک کپتان کا رخ احتساب عدالت کی طرف تھا جبکہ دوسرے کپتان کا رخ انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب۔

یہ بھی پڑھیے

’انگوٹھا بعد میں لگاؤں گا‘

’وزیراعظم عمران خان‘

’عمران خان کی ویڈیو اور اظہارِ یکجہتی ‘

کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو احتساب عدالت نے دو مرتبہ پیش ہونے کا حکم دیا۔ سماعت شروع ہونے سے پہلے جب ملزم کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کمرہ عدالت میں پیش ہوئے تو ابتدائی سماعت کے بعد عدالت نے اُنھیں گھر جانے کی اجازت دے دی لیکن اس کے ساتھ ساتھ اُنھیں دوبارہ طلب کر لیا گیا۔

انسدا دہشت گردی کی عدالت نے کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کو ان کے خلاف درج ہونے والے چاروں مقدمات میں پیش ہونے کا حکم دے رکھا تھا۔

ملزم عمران خان بظاہر مسکراتے ہوئے کمرہ عدالت میں داخل ہوئے لیکن سماعت کے دوران ان کی باڈی لینگوئج ان کی مسکراہٹ کے ساتھ مطابقت نہیں رکھ رہی تھی اور بالخصوص اس وقت جب سرکاری وکیل عمران خان کی طرف سے ان کے خلاف دائر کیے گئے مقدمات میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات ختم کرنے سے متعلق درخواست کی مخالفت میں دلائل دے رہے تھے۔

کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان تھوڑی دیر ہی کمرہ عدالت میں موجود رہے اور عدالت سے نکلنے کے بعد ان کے چہرے پر سنجیدگی تھی اور یہ سنجیدگی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران بھی موجود رہی۔ صحافیوں سے گفتگو کے بعد عمران خان بنی گالہ روانہ ہوگئے۔

Image caption دونوں کپتان ایک ہی دن میں جوڈیشل کمپلیکس میں ضرور موجود تھے لیکن ان دونوں کا ٹاکرا نہیں ہوا

احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے خلاف تین ریفرنس کی سماعت تھی۔ پیر کو سماعت کے دوران احتساب عدالت میں لوگوں کی تعداد بہت کم تھی اور اس بات کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے بھی نوٹ کیا۔

عدالت کے جج کا کہنا تھا کہ آج لوگوں کی تعداد تو بہت کم ہے بلکہ صحافی بھی آج کم آئے ہیں ایسا لگتا ہے کہ وہ عمران خان کے کیس کی رپورٹنگ کرنے گئے ہوں گے۔

دونوں کپتان ایک ہی دن میں جوڈیشل کمپلیکس میں ضرور موجود تھے لیکن ان دونوں کا ٹاکرا نہیں ہوا۔

دونوں ملزمان کی پیشی کے دوران خطرات موجود تھے کہ کہیں ایک دوسرے کی مخالف جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان کوئی کشیدگی نہ ہو جائے تو اس معاملے کو دیکھتے ہوئے پولیس نے جوڈیشل کمپلیکس کے اندر اور باہر سکیورٹی کے خاطر خواہ انتظامات کر رکھے تھے۔

ملزم محمد صفدر جب دوسری بار عدالت میں پیش ہوئے تو وہاں پر موجود صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ ’آپ بھی کپتان ہیں اور عمران خان بھی کپتان ہیں تو ان دونوں میں کیا فرق ہے؟‘ جس پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد کا کہنا تھا کہ ’میں وردی والا کپتان ہوں اور وہ ٹریک سوٹ والا کپتان ہے۔ میں قوم کا اعوان ہوں اور وہ قوم کا نیازی ہے، ہم نے ہتھیار اُٹھائے تھے لڑنے کے لیے اور اُنھوں نے ہتھیار اُٹھائے تھے پھینکنے کے لیے۔‘

مبصرین کے مطابق کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کا اشارہ سنہ 1971 میں ہونے والے سقوط ڈھاکہ کی طرف تھا جہاں پر اس وقت کے مشرقی پاکستان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی نے انڈین فوج کے آگے ہتھار ڈال دیے تھے۔

اسی بارے میں