پشاور: طالبہ کے بیلی ڈانس پر سوشل میڈیا میں تنازع

پشاور، یونیورسٹی، بیلے ڈانس تصویر کے کاپی رائٹ BBC Pashto
Image caption پشاور میں خواتین کی ایک یونیورسٹی میں طالبہ کی 'بیلے ڈانس' نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کو چھیڑ دیا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں خواتین کی یونیورسٹی میں ایک طالبہ کے 'بیلی ڈانس‘ نے سوشل میڈیا پر تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ کچھ صارفین اس کو پاکستانی کلچرکے خلاف جبکہ کچھ اس کے حق میں دلائل دے رہے ہیں۔

یونیورسٹی کی طالبات نے انتظامیہ کی طرف سے خواتین کے لیے منعقد ایک تقریب 'ویمن ٹیلنٹ ایکسپو' میں ڈانس کیا۔ اس تقریب میں خواتین کے لیے مختلف مقابلوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔

تقریب میں یونیورسٹی کے لیکچررز، طالبات اور وائس چانسلر نے بھی شرکت کی۔ سٹیج سجا تھا جس میں ایک طالبہ نے نقاب اوڑھ کر بیلے ڈانس کر کے خواتین و حضرات سے خوب داد وصول کی۔

مزید پڑھیے

’پہلے ریاست حائل تھی اور اب شدت پسندی‘

سوات: گھروں میں رقص اور موسیقی پر پابندی

خیبر پختونخوا میں اس قسم کے تقاریب میں خواتین کے سٹیج پر رقص کو معیوب سمجھا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس ڈانس پر بنائی گئی ویڈیو جب سوشل میڈیا پر چلی تو لوگوں نے رقص کرنے پر لڑکی اور یونیورسٹی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس واقعے کی رپورٹ ایک نجی اردو نیوزچینل نے دی۔ ٹی وی پر چلنے کے بعد اسے سوشل میڈیا پر بھی اپ لوڈ کیا گیا۔

فیس بک پر ایک صارف جاوید جبا نے کہا کہ طالبہ کے رقص کو مذہب کا رنگ دینا مناسب نہیں ہے کیونکہ اور بھی بہت مسائل ہیں جن پر نظر رکھنے کی ضرورت ہیں جیسا کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی وغیرہ۔

ایک اور صارف نے کہا کی یونیورسٹی انتطامیہ کو ’شرم‘ آنی چاہیے جو ایک تعلیمی ادارے میں اس قسم کی تقاریب کا اہتمام کرتی ہے۔

جب یونیورسٹی انتطامیہ کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی تو ترجمان سحرش ظفر نے کہا کہ ’ڈانس پوری تقریب کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا اور یہ اس طالبہ نے خود اپنی مرضی سے تقریب ختم ہونے کے بعد کیا تھا۔‘

انھوں نے میڈیا سے گلہ کرتے ہوئے کہا کہ ’تقریب میں خواتین کے لیے اور بھی بہت سے مقابلوں کا اہتمام کیا گیا تاکہ ان میں چھپے ٹیلنٹ کو اجاگر کرنے کا موقع ملے لیکن میڈیا نے صرف اسی ڈانس پر رپورٹ بنائی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Pashto
Image caption یونیورسٹی انتظامیہ کو میڈیا سے گلہ ہے کہ دیگر مقابلوں کو نظر انداز کرکے صرف اسی ڈانس پہ رپورٹ بنائی گئی

کیا اس تقریب میں صرف رقص ہی وہ واحد عنصر تھا جس پر رپورٹ بننی چاہیے تھی؟

میڈیا پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے بارے میں پشاور کے سینیئر صحافی محمود جان بابر کا کہنا ہے کہ ’اس قسم کی تقاریب کو رپورٹ کرنے میں بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے تاکہ مستقبل میں رپورٹ چلنے سے کسی کو نقصان نہ پہنچے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کوئی خاتون اپنی نجی محفل میں ڈانس کریں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن عوامی پروگرامز میں احتیاط ضروری ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس قسم کی تقاریب میں میڈیا کو خصوصاً نہیں بلانا چاہیے اوراگر بلایا بھی جائے تو ایسی کوئی چیز رپورٹ نہ کی جائے جسے معاشرے میں کچھ لوگ اسے اچھا نہیں سمجھتے ہوں جیسا کہ اس واقعہ میں ہوا۔‘

’اگر معاشرے میں سارے لوگ تعلیم یافتہ ہوں اور ان کو ان چیزوں کی سمجھ بوجھ ہو کہ اس قسم کے تقریب میں ڈانس کسی کا ذاتی فعل ہے۔ اور اس سے کسی کو سکیورٹی کے مسائل نہ ہوں تو اسے رپورٹ کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Pashtu

ماہرین تعلیم اس سارے تنازعے کو ایک اور نظر سے دیکھتے ہیں۔ پشاور میں مقیم ماہر تعلیم ڈاکٹر خادم حسین کہتے ہیں کہ ڈانس کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے لیکن اگر وہ علاقائی ہو جیسا کہ 'اتن' جو کہ ہمارا علاقائی رقص ہے۔ لیکن کسی دوسری تہذیب کا ڈانس سمجھ سے بالاتر ہے۔‘

لیکن کیا درس گاہوں میں رقص کرنا ایک مناسب عمل ہے؟ اس سوال پرخادم حسین نے کہا کہ’ایسی تقاریب یونیورسٹی میں نہیں ہونگیں تو کیا سڑکوں اور نائی خانوں میں ہوں گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یونیورسٹی پڑھے لکھے لوگوں کی جگہ ہوتی ہے۔ جہاں پر اس قسم کے تقاریب امن برقرار رکھنے کے لیے نہایت ہی اہم ہیں کیونکہ یہ خطہ کئی سالوں سے بد امنی کا شکارہے اور خوشیاں منانے کے لیے بہت ہی کم مواقع ملتے ہیں۔‘

خادم حسین کے بقول ’رقص پر تنقید کرنے والے لوگ وہی ہیں جو اس بیانیے کو فروغ دیتے ہیں کہ معاشرے کی آواز کو دبایا جائے اوراس قسم کی خوشیوں کی محفلوں کو بند کر دیا جائے۔‘

اسی بارے میں