پاکستان میں رکشے کا مستقبل اب موبائل فون کے ہاتھوں میں

موبائل فون ایپ

رکشے کی پھٹ پھٹ شہرِ لاہور کے باسیوں کی زندگی کا حصہ بن چکی تھی۔ پوش علاقوں سے لے کر پاکستان کے اس دوسرے گنجان آباد شہر کی پیچیدہ گلیوں تک تین پہیوں کی یہ سواری ہر جگہ پہنچ جایا کرتی تھی۔

تاہم کئی دہائیوں پر محیط رکشے کے اس طویل سفر کا یہ منظر بدل رہا ہے۔ چند برس قبل مغربی ممالک میں موبائل ایپلیکیشن کی مدد سے فراہم کی جانے والی ٹیکسی سروس اتنی مقبول ہوئی کہ پاکستان بھی پہنچ گئی۔

یعنی آپ سمارٹ فون پر ایپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کریں اور اس کی مدد سے کہیں بھی بیٹھے، کسی بھی وقت اپنی پسند کی گاڑی اپنے پاس منگوا لیں۔ آپ کے سفر کی مسافت کے مطابق ایک طے شدہ فارمولے کے تحت ایپلیکیشن خود بخود آپ کا کرایہ بھی طے کر دے گی۔

اس کا مطلب تھا کہ لاہور میں رکشے کا مکمل خاتمہ۔ آپ گرد و غبار میں سڑک کنارے کھڑے رکشہ کیوں تلاش کریں گے جب کم قیمت میں آپ گھر کے دروازے سے گاڑی حاصل کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے

اوبر، کریم اور اے ون مشکل میں

’پاکستان میں ایک کروڑ ساٹھ لاکھ نئے انٹرنیٹ صارفین‘

ایسی ایپلیکیشن کی حامل غیر ملکی کمپنیوں کی آمد سے گذشتہ دو سے تین سالوں میں پاکستان کے بیشتر شہروں میں رکشے کی مقبولیت میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

رکشے والوں نے اس پر احتجاج بلند کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ان کمپنیوں پر ٹیکس عائد کیا جائے یا انہیں دیگر ٹیکسی سروس کی طرح مخصوص رنگ دیا جائے، مگر انہیں کامیابی نہیں ہوئی۔

تاہم لاہور کی ایک رکشہ یونین جس کے پاس 20 ہزار رکشے رجسٹرڈ ہیں، اس نے رکشے کے مستقبل کو بچانے کے لیے اس ہی ٹیکنالوجی کو اپنانے کا فیصلہ کیا ہے جس سے وہ کبھی خطرہ محسوس کر رہے تھے۔

انھوں نے ’عوامی سواری‘ کے نام سے مقامی طور پر ایک موبائل ایپلیکیشن تیار کروائی ہے جس کے ذریعے آپ اسی طرح رکشہ جہاں چاہیں جب چاہیں منگوا سکتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے رکشہ یونین کے صدر مجید غوری کا کہنا تھا اس ایپلیکیشن کے ذریعے ان کا مقصد رکشے کی سواری کو مزید آسان، برق رفتار اور سستا بنانا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے سے رکشہ چلانے والوں کے ذریعہ معاش کا تحفظ اور مستقبل محفوظ بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

’گذشتہ چند سالوں سے لوگ موبائل ایپلیکیشن والی سواری کے جانب جا رہے تھے۔ ہم ایسی سواری کے خلاف نہیں مگر ہم چاہتے تھے کہ ہر ایک کو کاروبار کے برابر مواقع ملنے چاہیئیں۔‘

ان کا دعوٰی ہے کہ ان کی تیار کردہ ایپلیکیشن غیر ملکیوں کمپنیوں سے زیادہ جدید ہے۔ اس کے ذریعے وہ لوگ بھی سفر کر سکتے ہیں جن کے پاس سمارٹ فون نہیں ہیں۔ اس کے لیے آپ کو رکشے والا ایپلیکیشن کے ذریعے ایک کوڈ بھیجے گا جسے داخل کرنے کے بعد آپ کے سفر کا کرایہ ایپلیکیشن طے کرے گی۔

عوامی سواری کی ایپلیکیشن ایک مقامی کمپنی نے بنائی ہے جسے محدود وسائل میں رہ کر تیار کیا گیا ہے تاہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان یا لاہور اس کے لیے ٹیکنالوجی کی جدت کو اپنانے کے لیے تیار ہے؟

موبائل ایپلیکیشن کی کھپت پاکستان میں کس حد تک ہے اور کیا ملک میں اتنے سمارٹ فون موجود ہیں جو رکشے کے مستقبل کا فیصلہ کر پائیں؟

پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے چیئرمین عمر سیف کہتے ہیں کہ عمومی تاثر کے برعکس پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں سمارٹ فون اور ٹیکنالوجی کے استعمال کا رجحان کافی زیادہ ہے اور اس میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

’پاکستان ٹیکنالوجی کے حوالے سے دنیا کی بڑی مارکیٹوں میں سے ایک ہے۔‘

بی بی سی سے ایک حالیہ گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ موبائل فون کے استعمال کے حساب سے پاکستان دنیا کا نواں بڑا ملک ہے جہاں یہ تعداد 13 سے 14 کروڑ تک ہے۔ پاکستان میں 37 ملین انٹرنیٹ براڈ بینڈ استعمال کرنے والے افراد پائے جاتے ہیں، یہ تعداد کینیڈا کی کل آبادی سے زیادہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا یعنی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس استعمال کرنے والے 32 ملین افراد موجود ہیں۔

’اس کا مطلب ہے کہ پاکستانی جو فیس بک، ٹوئٹر اور دیگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس استعمال کرتے ہیں ان کی تعداد آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی کل آبادی سے بھی زیادہ ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں سمارٹ فون استعمال کرنے والے افراد کا تناسب ملائیشیا کی کل آبادی سے زیادہ یعنی 31 سے 32 ملین ہے۔

عمر سیف کے خیال میں عوامی سواری اور اس جیسی مقامی طور پر تیار کردہ دیگر موبائل ایپلیکیشن تیار کرنے اور استعمال کرنے والوں کو اس بات سے تقویت ملنی چاہیے کہ پاکستان میں فی موبائل ایپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کی اوسط کا موازنہ آج سے تین سے پانچ برس قبل کے جنوبی کوریا کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔

ان کا دعوٰی تھا کہ آج سے تین سے پانچ برس کے بعد پاکستان میں تقریباً ہر ایک کے پاس موبائل فون ہو گا اور سستا انٹرنیٹ ہو گا، جو دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی تقریباً تمام صنعتوں میں تبدیلی لانے کا سبب بنے گا۔

اسی بارے میں