لوئر دیر کی کونسلر سائرہ جنھیں معذوری روک نہیں سکی

معلوله

’جب میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کے بعد حلف اٹھا رہی تھی تو بہت فخر محسوس کیا اور میں سوچ رہی تھی کہ اگر معذور افراد چاہیں تو معاشرے کی ترقی میں اڀنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘

یہ کہنا تھا ضلع لوئر دیر سے تعلق رکھنے والی 27 ستائیس سائرہ شمس القمر کا جو ڀیدائش سے جسمانی معذوری کا شکار ہیں اور ویل چیئر پر ہیں۔

سائرہ نے کم عمری سے معذور افراد اور خواتین کے انسانی حقوق کے لیے کام شروع کیا تھا اور مختلف فورم پر آواز اٹھاتی رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے 2016 میں صوبائی حکومت کی طرف سے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے لیے مختص 'ہنر حوا' ایوارڈ اپنے نام کیا۔

یہ بھی پڑھیے

’معذوری زندگی نہیں، زندگی کا حصہ ہے‘

کیا کبھی معذوروں کے جذبات کا سوچا ہے؟

سائرہ جو اپنے ضلع کے مقامی حکومت میں بطور کونسلر فرائض سر انجام دے رہی ہیں اور پاکستان تحریک انصاف خواتین شاخ کی فعال رکن ہیں۔ وہ کہتی ہیں مقامی حکومتیں خواتین اور معذور افراد کے لیے نہایت اہم ہیں جہاں وہ اپنی حقوق کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا ’حکومت کو چاہیے کے لوکل کونسلز میں معذور افراد کے لیے خصوصی نشستیں مختص کریں تاکہ انہیں بھی سیاست کا حق مل جائے اور وہ خود کو باقی دنیا سے الگ نہ سمجھیں۔‘

تعلیم کے حصول کا عزم

سائرہ نے اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ جب انہیں سکول میں داخل کرایا گیا تو معلوم ہوا کہ کمرۂ جماعت تو دوسری منزل پر ہے جہاں پہنچنے میں دشواری پیش آتی تھی۔

’لیکن میں نے حوصلہ نہیں ہارا اور تعلیم کے حصول کے لیے ہر قسم کی مشکلات برداشت کرنے کے لیے خود کو تیار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسی سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔‘

سائرہ نے مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے جدوجہد شروع کی اور انہیں اپنے والد کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ انھوں نے کبھی بھی انہیں دوسرے بچوں سے کمتر نہیں سمجھا ہے۔

2011 میں والد کے فوت ہونے کے بعد خاندان کے دیگر افراد نے ان کا ساتھ دیا اور مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے کالج بھیجا۔

سائرہ کا کہنا ہے،’میں اس قابل ہوگئی کہ مردان کے عبدالولی خان یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اور اب میں اس قابل ہوں کے دوسروں کے سہارے کے بغیر زندگی گزار سکتی ہوں۔‘

والد کی وفات کے بعد سائرہ نے شاعری بھی شروع کی تھی اور پہلی کتاب بھی شائع کی جس کا زیادہ حصہ والد کی یاد میں شاعری پر مشتمل ہے۔

حکومتی عدم تعاون

بینظیر ان کم سپورٹ پروگرام کے رپورٹ کے مطابق سائرہ سمیت پاکستان میں اس وقت 20 لاکھ سے زائد معذور افراد ہیں اور انسانی حقوق کے تنظیموں کے مطابق مختلف حقوق سے محروم ہیں۔

Image caption سائرہ کہتی ہیں ایک طرف اگر معذور افراد معاشرے کے فعال ارکان بننے کے لیے اپنی طور پر بھر پور کوشش کرتے ہیں لیکن دوسرے طرف حکومتی سپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔

سائرہ کہتی ہیں ایک طرف اگر معذور افراد معاشرے کے فعال ارکان بننے کے لیے اپنی طور پر بھر پور کوشش کرتے ہیں لیکن دوسرے طرف حکومتی سپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔

ان کا کہنا تھا بہت سے معذور افراد ملازمت کرنا چاہتے ہیں لیکن بد قسمتی سے ملازمتوں میں مختص کوٹے پر صحت مند افراد کو بھرتی کیا جاتا ہے۔

’اگر حکومت معذوروں کیلئے مختص پانچ فیصد کوٹے پر اہل افراد بھرتی کریں تو بہت کم معذور دوسروں پر انحصار کریں گے اور اپنے لیے معاش کا انتظام خود کریں گے۔

معذور افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم 'فرینڈز اف پیراپلجک' کے رکن محمد رفیق نے بی بی سی کو بتا یا کہ حکومت کو ایک بل تیار کرکے بھیجا گیا ہے جس میں صوبائی اسمبلی اور مقامی کونسلز میں پانچ فیصد خصوصی نشستیں معذور افراد کے لیے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا امید ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اس تجویز پر عمل کریں گے اور معذور افراد کو اپنی آواز اٹھانے کیلئے فورم دیا جائے گا۔

اسی بارے میں