جہانگیر ترین نااہل: سپریم کورٹ کے فیصلے میں کیا درج ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ jahangirktareen.com
Image caption جہانگیر ترین سنہ 2015 میں ضمنی انتخاب میں قومی اسمبلی کی نشست پر لودھراں سے منتخب ہوئے تھے

جہانگیر ترین پر تین الزامات اور سپریم کورٹ کا جواب

پاکستان کے چیف جسٹس، جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ کے سامنے پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنماء جہانگیر خان ترین پر مسلم لیگ نواز کے رکن محمد حنیف عباسی کی طرف سے تین الزامات لگائے گئے اور انھیں نا اہل قرار دینے کی درخواست کی گئی۔ عدالت نے تین میں سے ایک الزام کو درست قرار دیتے ہوئے جہانگیر خان ترین کو نااہل قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیے

’شکر ہے خان بچ گیا‘

جس بھی چیز کو ہاتھ لگایا وہ سونا ہوگئی

عمران پاس، ترین فیل: ’آپ پاس اور دوست کی سپلی‘

عمران نااہلی سے بچ گئے، جہانگیر نااہل: کب کیا ہوا؟

آف شور کمپنی اور ٹرسٹ:

الزام: مدعی محمد حنیف عباسی نے الزام لگایا کہ جہانگیر خان ترین نے کھلے عام تسلیم کیا ہوا ہے کہ ان کے بچوں کے کاروبار اور برطانیہ میں جائیداد کے لیے ایک آف شور کمپنی ہے۔ حنیف عباسی نے کہا کہ جہانگیر ترین اپنے بچوں سے بھاری رقوم وصول کرتے ہیں، اس طرح وہ ظاہراً برطانیہ میں کاروبار اور جائیداد کے 'بینیفشل اونر' ہیں اور ان اثاثوں کا انھوں نے نہ ہی ٹیکس کے گوشواروں میں اور نہ الیکشن کمیشن کے سامنے ذکر کیا۔

عدالت کا فیصلہ: سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ آف شور کمپنی شائنی ویو لمیٹڈ جو مدعا علیہ کی طرف سے قائم کی گئی تھی بارہ ایکڑ پر مبنی پراپرٹی 'ہائیڈ ہاؤس' کی مالک ہے، لیکن عدالت نے کہا کہ اس جائیداد کے اصل اور حقیقی 'بینیفشل اونر' جہانگیر ترین ہی ہیں۔ عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ جہانگیر ترین نے اس وقت کے کرنسی ایکسچینج ریٹ کے مطابق پاکستانی روپے میں پچاس کروڑ سے زیادہ رقم منتقل کی، جو بقول جہانگیر ترین کے 'ہائیڈ ہاؤس' کی خرید اور تعمیر کے کام آئی۔ عدالت نے لکھا کہ شائنی ویو کمپنی یا ہائیڈ ہاؤس کبھی کسی ٹرسٹ کو منتقل نہیں ہوا اور اس طرح یہ مدعا علیہ کی ہی جائیداد ہے جس کا انھوں نے سنہ 2015 میں کاغذات نامزدگی میں ذکر نہیں کیا۔ اس بنیاد پر عدالت نے کہا کہ وہ آئین اور قانون کی رو سے 'ایماندار' نہیں اور نا اہل قرار دیے جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ jahangirktareen.com
Image caption عمران خان نے کہا ہے کہ انھیں جہانگیر ترین سے متعلق فیصلے پر افسوس ہے

انسائیڈر ٹریڈنگ

الزام: پاکستان کے سکیوریٹیز اور ایکسچینج کمیشن نے جہانگیر ترین کو ایک شو کاز نوٹس بھیجا جو انسائیڈر ٹریڈنگ کا الزام لگانے کے برابر ہے۔ الزام کی تفصیل یہ ہے کہ جہانگیر ترین جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز لمیٹڈ کے ڈائریکٹر تھے اور ان کے علم میں تھا کہ اس کمپنی نے یونائیٹڈ شوگر ملز لمیٹڈ کے اکثریتی حصص خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے اِن 'خفیہ ، حساس اور اندرونی' معلومات کی بنیاد پر یونائیٹڈ شوگر ملز کے حصص اپنے ڈرائیور اور باورچی کے نام پر 'چوری چھپے' خرید کر قانون کی خلاف ورزی کی۔

ان کے خلاف اس بنیاد پر ایکسچینج کمیشن نے تحقیقات بھی کیں اور اس کی طرف سے جاری ہونے والے ایک شو کاز نوٹس کے جواب میں جہانگیر ترین نے انسائیڈر ٹریڈنگ کا اعتراف کیا اور اس کے ذریعے حاصل کیا گیا تقریباً سات کروڑ اسی لاکھ کا منافع جرمانے کی رقم کے ساتھ ایکسچینج کمیشن کو ادا کیا۔

عدالت کا فیصلہ: عدالت نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جہانگیر ترین کی طرف سے رقم کی ادائیگی ان کی طرف سے اعتراف جرم ہے یا نہیں اور کیا اس فعل کی بنیاد پر انہیں نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ ہماری نظر میں مدعا علیہ کا ایکسچینج کمیشن کے نوٹس میں جواب مشروط تھا اور اس میں کہا گیا تھا کہ یہ ان کے خلاف استعمال نہیں ہو گا۔ اس بنیاد پر عدالت نے کہا کہ یہ اعتراف جرم نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے کہا کہ مزید براں سکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے ان کے خلاف فوجداری قانون کے تحت بھی کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔ عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں ایکسچینج کمیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا لیکن کہا کہ یہ ماضی کی طے شدہ ٹرانزیکشن ہے۔

زرعی آمدن

تصویر کے کاپی رائٹ jahangirktareen.com
Image caption جہانگیر ترین پر الزام تھا کہ انھوں نے زرعی آمدن کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا

الزام: مدعی محمد حنیف عباسی نے کہا کہ سال 2010 اور 2011 کے لیے جہانگیر ترین نے ٹیکس کے گوشواروں میں جو آمدن ظاہر کی ہے وہ اس سے مختلف ہے جو انھوں نے الیکشن کمیشن کے سامنے ظاہر کی۔ انھوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ جہانگیر ترین نے غیر ظاہر کی گئی رقم کو سفید کرنے کے لیے زرعی آمدن کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا۔ صحیح زرعی انکم ٹیکس ادا نہیں کیا۔

عدالت کا فیصلہ: عدالت نے کہا کہ یہ معاملات متعلقہ فورم کے سامنے زیر سماعت ہیں اس لیے وہ اس پر کوئی رائے نہیں دے گی۔ عدالت نے کہا کہ ان معاملات میں مدعا علیہ کے خلاف کسی متعلقہ فورم پر کوئی کارروائی بھی نہیں کی گئی۔

عدالت نے قرضے معاف کروانے کے الزام کے جواب میں کہا یہ معاملہ سنہ 2010 سے پہلے کا ہے جب وہ کمپنی کے ڈائریکٹر یا شیئر ہولڈر نہیں تھے۔ عدالت نے کہا سنہ 2010 اور 2013 کے درمیان وہ ویسے بھی وفاقی وزیر کی حیثیت میں ہیوی مکینکل کمپلیکس کے ڈائریکٹر تھے اور اس کمپنی کے قرضوں کی معافی ان کے ذمے نہیں آتی۔

اسی بارے میں