آرمی پبلک سکول حملہ: ’وہ ایسا منظر تھا جسے شاید لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا‘

منیب
Image caption منیب نے کہا کہ تین سال گزر جانے کے بعد بھی وہ ان تلخ یادوں سے پوری طرح آزاد نہیں ہوسکے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے حملے کو تین سال پورے ہوگئے ہیں۔ اس واقعے میں بچ جانے والے بیشتر طلبا آج بھی ان دل دہلا دینے والے یادوں سے خود کو نہیں چھڑا سکے ہیں بلکہ زیادہ تر ذہنی مسائل کا شکار نظر آتے ہیں۔

آرمی پبلک سکول اور کالج، پشاور پر 16 دسمبر 2014 کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے شدت پسندوں نے حملہ کردیا تھا جس میں 141 طلبا اور سٹاف کے دیگر افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حملے میں بچ جانے والے آرمی پبلک سکول کے اس وقت کے دسویں جماعت کے طالب علم محمد منیب خان ان طلبا میں شمار ہیں جن کے آنکھوں کے سامنے یہ واقعہ رونما ہوا۔ وہ اپنے واحد چھوٹے بھائی شاہیر خان کو اس سانحے میں کھو چکے ہیں۔

اس دن کو یاد کرتے ہوئے محمد منیب خان نے کہا کہ ’وہ ایک ایسا منظر تھا جسے شاید لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔‘

انھوں نے کہا کہ تین سال گزر جانے کے بعد بھی وہ ان تلخ یادوں سے پوری طرح آزاد نہیں ہو سکے بلکہ اب تو شاید ان مناظر نے ان کے دل و دماغ پر ایک مستقل مسکن بنالیا ہے۔

ان کے مطابق انھیں اپنے چھوٹے بھائی کا خیال اس وقت آیا جب گھر میں ان کی لاش پہنچ چکی تھی۔

’میں نے اے پی ایس سانحے کے بعد ایک سال تک انتہائی سخت اور کٹھن زندگی گزاری، میری رات کی نیند بالکل ختم ہوگئی تھی اور میں پوری رات میں بمشکل دو تین گھنٹے ہی سویا کرتا تھا۔ میں سارا دن گھر میں بند رہتا تھا، خوف کی وجہ سے باہر نہیں نکل سکتا تھا، لوگوں کا سامنا کرتے ہوئے مجھے ڈر محسوس ہوتا تھا۔‘

منیب خان کے مطابق ان دنوں ان کے دل و دماغ پر عجیب قسم کی کفیت طاری رہتی تھی، ذہین میں ہر وقت عجیب و غریب قسم کے خیالات آیا کرتے تھے۔

’مجھے ہر وقت یہ ندامت سی رہتی کہ میرا بھائی میری آنکھوں کے سامنے قتل ہوا لیکن میں کچھ نہیں کرسکا۔ پھر خیال آتا کہ میں کم از کم اپنے بھائی اور دیگر زخمی طلبا کو ابتدائی طبی امداد تو دے سکتا تھا لیکن وہ بھی نہیں کرسکا۔‘

انھوں نے کہا کہ انھیں کچھ وقت یہ خیالات بھی آتے رہے کہ انھیں اس واقعے کا بدلہ ضرور لینا چاہیے۔

منیب خان کے بقول ’ٹراما کی کیفیت تقریباً ایک سال تک جاری رہی لیکن پھر میرے والدین نے میری رہنمائی کی اور گھر میں مصروف رہنے کے قابل بنایا اور کچھ دنوں تک میری کونسلنگ بھی ہوئی جس سے کچھ بہتری کی کفیت پیدا ہوئی۔‘

’میں نے خود بھی محسوس کیا کہ اب میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا رہ گیا ہوں اور اگر میں بھی کسی کام کا نہ رہا تو خاندان کو ایک اور نقصان اٹھانا پڑے گا اور اس طرح میں آہستہ آہستہ زندگی کی طرف آنے لگا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اس واقعے کو تین سال ہوگئے ہیں لیکن انھیں اب بھی کچھ مسائل کا سامنا ہے جو اب لگتا ہے کہ ساری زندگی ان کے ساتھ رہیں گے۔

منیب خان کے مطابق انھیں اب بھی بھیڑ میں جانے سے گھبراہٹ ہوتی ہے اور بات بات پر غصہ بھی آتا ہے۔ ’میرا حافظہ بھی بہت کمزور ہوگیا ہے اور جو پڑھتا ہوں وہ بہت جلدی بھول جاتا جس کی وجہ سے مجھے بار بار پڑھنا پڑتا ہے اور یہ کفیت مسلسل جاری ہے۔‘

محمد منیب خان نے حال ہی میں ایف ایس سی کی ہے اور وہ ڈائزائننگ کے شعبے میں کریئر بنانا چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ کسی باہر ملک کی یونیورسٹی سے اس شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انھوں نے کہا کہ ان کا ایک منصوبہ ہے کہ وہ طلبا کے لیے ایک ایسا وڈیو گیم بنانا چاہتے ہیں جس میں حملہ اور دفاع کرنے کے دونوں ٹیکنیک موجود ہوں تاکہ طلبا اس سے کچھ سیکھیں اور اے پی ایس جیسے واقعات کی صورت میں ان کے کچھ کام آئے۔

منیب خان کے مطابق اگرچہ یہ عجیب قسم کا منصوبہ لگتا ہے لیکن اس کے ذریعے سے وہ آگاہی پھیلانا چاہتے ہیں اور ویسے بھی آج کل لوگ اور بالخصوص نوجوان ڈیجیٹل دنیا کے زیر اثر ہے اور اسی کا دور بھی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوگئے تو شاید وہ اپنے اس ندامت سے بھی جان چھڑا سکے جو انھیں اس بات پرہورہی ہے کہ وہ کیوں اے پی ایس واقعے میں بھائی اور دوستوں کے کام نہ آسکے۔

اسی بارے میں