جنرل قمر باجوہ: فیض آباد دھرنے میں فوج کا ہاتھ ثابت ہوا تو مستعفی ہو جاؤں گا

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
آرمی چیف سینیٹ میں

پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان کے ایوان بالا کے ارکان کو یقین دلایا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ فیض آباد دھرنے کے پیچھے فوج کا ہاتھ تھا کہ تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔

حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے سینیٹر نہال ہاشمی نے منگل کو سینیٹ کے ان کیمرہ اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ فوج کے سربراہ نے یہ بات سوال و جواب کے سیشن کے دوران سینیٹر مشاہد اللہ خان کے سوال کے جواب میں کہی۔

یہ بھی پڑھیے

آرمی کی ’ضمانت‘ پر دھرنا ختم کرنے کا اعلان

فیض آباد دھرنا: ’آئی ایس آئی اور آئی بی سنجیدگی دکھائیں‘

جنرل باجوہ کی سینیٹ میں آمد ایک نئی روایت؟

فوجی حکام کی سینیٹ کو ملکی سلامتی پر بریفنگ

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ فوج آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرے گی اور حکومت فوج کو جو بھی حکم دے گی اس پر من و عن عمل ہوگا

نہال ہاشمی کے مطابق مشاہد اللہ خان نے آرمی چیف سے سوال پوچھا کہ اسلام آباد میں دھرنا دینے والوں کو کھانا کون سپلائی کرتا تھا جس پر جنرل قمر جاوید باجوہ نے جواب دیا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے ان دھرنوں کے پیچھے فوج کا ہاتھ ہے تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔

آرمی چیف کا یہ بھی کہنا تھا کہ اُنھوں نے انٹر سروسز انٹیلیجنس کی ڈیوٹی لگائی تھی کہ وہ اس دھرنے کو ختم کرے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’جب خلا ہوتا ہے تو ہر قسم کا سوال اٹھتا ہے‘

اُنھوں نے کہا کہ دھرنے والوں کے چار مطالبات تھے لیکن وہ وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کا مطالبہ کرنے لگے۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے اگلے روز بھی وزیر اعظم کے ہمراہ سعودی عرب جانا تھا اس لیے وہ چاہتے تھے کہ سعودی عرب روانگی سے پہلے اس دھرنے کوختم کروایا جائے۔

خیال رہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی تنظیم تحریک لبیک یا رسول اللہ کا دھرنا رواں ماہ کے آغاز میں حکومت اوراس تنظیم کے درمیان چھ نکاتی معاہدے کے بعد ختم ہوا تھا اور پاکستانی فوج نے یہ معاہدہ کروانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

سینیٹر نہال ہاشمی نے حکمراں جماعت کے ہی سینیٹر پرویز رشید کی طرف سے فوج کی طرف سے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی سرپرستی کے بارے میں بھی سوال کیا جس کا آرمی چیف نے نفی میں جواب دیا کہ فوج حافظ سعید کی سرپرستی نہیں کر رہی۔

ذرائع کے مطابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ حافظ سعید بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اتنے ہی سرگرم ہیں جتنا ایک عام پاکستانی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حکومت اور تحریک لبیک یا رسول اللہ کے درمیان دھرنا ختم کرنے کے سلسلے میں چھ نکاتی معاہدہ طے پایا تھا

جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ حکومت جو بھی خارجہ یا دفاع سے متعلق پالیسی بنائے گی فوج اس کے ساتھ ہو گی۔ اُنھوں نے کہا کہ فوج آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرے گی اور حکومت فوج کو جو بھی حکم دے گی اس پر من و عن عمل ہوگا۔

اجلاس کے دوران سینیٹ کے ارکان نے یقین دلانا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور ملکی سلامتی کے لیے سویلین اور فوجی ادارے ایک ہی پیج پر ہیں اور اگر ملک کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو پوری قوم فوج کے شانہ بشانہ لڑے گی۔

اسی بارے میں