’پاکستان میں سکھوں کو جبراً مسلمان کرنے پر‘ انڈین کی وزیرِ خارجہ سشما سوراج کو تشویش

سشما سوراج نے وزارت خارجہ کے سرکاری ٹویٹر ہینڈل پر جواب دیتے ہو لکھا ہے 'ہم اس معاملے پر جلد ہی پاکستانی حکومت سے اعلیٰ ترین سطح پر بات کریں گے۔' تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سشما سوراج نے وزارت خارجہ کے سرکاری ٹویٹر ہینڈل پر جواب دیتے ہو لکھا ہے 'ہم اس معاملے پر جلد ہی پاکستانی حکومت سے اعلیٰ ترین سطح پر بات کریں گے۔'

انڈیا کی وزیر خارجہ نے پاکستان کے ضلع ہنگو میں سکھوں کو مبینہ طور پر جبراً مسلمان بنانے کی خبروں پر تشویش ظاہر کی ہے۔

وزیر خارجہ سشما سوراج نے انڈیا کی سکھ برادری کو یقین دلایا ہے کہ حکومت اس بارے میں پاکستان سے اعلیٰ ترین سطح پر بات کرے گی۔

چند دن قبل پاکستان کے ایک مقامی اخبار 'ایکسپریس ٹریبیون' نے خبر شائع کی تھی کہ پاکستان کے خبیر پختونخواہ صوبے میں ایک حکومتی اہلکار سکھوں کو اسلام قبول کرنے کے لیے مجبور کر رہا ہے۔

نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق منگل کے روز انڈین پنجاب کے وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ نے ایک ٹویٹر پیغام کے ذریعے وزیر خارجہ سشما سوراج کی توجہ مبینہ طور پر سکھوں کی جبراً مذہب تبدیلی کی اس خبر کی طرف دلاتے ہوئے ان سے اس معاملے پر پاکستان سے بات کرنے درخواست کی تھی۔

انھوں نے لکھا تھا 'ہم سکھ برادری پر اس طرح کے جبر پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم سکھوں کی مذہبی شناخت کا تحفظ کریں۔ وزارتِ خارجہ کو اس کے بارے میں پاکستان سے اعلیٰ ترین سطح پر بات کرنی چاہيے۔'

سشما سوراج نے وزارت خارجہ کے سرکاری ٹویٹر ہینڈل پر جواب دیتے ہو لکھا ہے 'ہم اس معاملے پر جلد ہی پاکستانی حکومت سے اعلیٰ ترین سطح پر بات کریں گے۔‘ انھوں نے اس پیغام کو اسلام آباد میں واقع انڈیا کے ہائی کمیشن کے سرکاری ٹویٹر ہینڈل کے ساتھ بھی ٹیگ کیا ہے۔ حکومت اس سلسلے میں ہائی کمیشن سے مزید معلومات حاصل کر رہی ہے۔

پاکستانی اخبار کی خبر کے مطابق مقامی سکھ برادری نے ہنگو کے ڈپٹی کمشنر سے شکایت کی ہے جس میں انھوں نے الزام لگایا ہے کہ تال یعقوب خان تحصیل کے نائب تحصیل دار سکھوں کو مسلمان بننے کے لیے مجبور کر رہے ہیں۔

انھوں نے اپنی شکایت میں کہا ہے 'آئین کی روح سے ہمیں اپنے مذہبی عقیدے کے دفاع کا حق حاصل ہے۔ ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ اس معاملے میں نائب تحصیلدار سے پوچھ گچھ کریں۔'

ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہاں سبھی کو مذہبی آزادی حاصل ہے اور کسی کا جبری طور پر مذہب تبدیل کرنے کا کوئی معاملہ نہیں ہے لیکن سکھ برادری کی شکایت کے مدِنظر انتطامیہ نے سکھ برادری کے ارکان کا اجلاس طلب کیا ہے۔

اسی بارے میں