جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیار متعارف کروانے والے کو لیڈر کہا جا رہا ہے: پاکستانی دفتر خارجہ

پاکستان دفتر خارجہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کا کہنا ہے کہ امریکی قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی میں پاکستان پر غیر مصدقہ الزامات لگائے گئے ہیں۔ پاکستان ایسے بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتا ہے جو پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں اور قربانیوں کی نفی کرنے کے مترادف ہیں۔

منگل کو پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے یہ ردعمل امریکہ کی قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی پر دیا گیا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ علاقائی اور عالمی شدت پسندی کے خلاف لڑائی میں سب سے آگے رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ہی کے بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون کی وجہ سے خطے میں القاعدہ نہ ہونے کے برابر ہے، اور امریکی قیادت اسے تسلیم بھی کر چکی ہے اور سراہا بھی ہے۔

’پاکستان ثبوت دیتا رہے کہ وہ اپنے جوہری اثاثوں کا محافظ ہے‘

’پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی امریکی صلاحیت محدود‘

’پاکستان نے رویہ نہ بدلا تو امریکی مراعات کھو سکتا ہے‘

خیال رہے کہ گذشتہ روز امریکہ کی جانب سے قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی سامنے آئی تھی جس میں پاکستان سے ایک بار پھر ڈو مور کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

امریکی حکمت عملی میں پاکستان سے مزید تعاون کرنے اور دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں تیزی لانے کا کہا گیا تھا۔

امریکہ نے پاکستان سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس بات کا یقین دلاتا رہے کہ وہ اپنے جوہری اثاثوں کا محافظ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس کے جواب میں پاکستانی دفتر خارجہ نے جو بیان جاری کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ بطور ذمہ دار جوہری ریاست پاکستان نے اپنے جوہری اثاثوں کو محفوظ رکھنے کے لیے انتہائی کارآمد، طاقتور اور سینٹرلائزڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام لگایا ہوا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستانی جوہری تنصیبات کی سکیورٹی اور تحفظ کا معیار کسی بھی دوسری جوہری ریاست کے مقابلے میں کم نہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا کہ ’اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی اعلانیہ خلاف ورزی کرنے والے، جنوبی ایشیا میں ایٹمی ہتھیار متعارف کرانے اور دہشت گردی کو بطور ریاستی پالیسی استعمال کرنے والے ملک کو خطے کا لیڈر کہا جا رہا ہے۔‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کی موجودگی کے باوجود شدت پسند عناصر افغان سرزمین مسلسل پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔'

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان مسلسل اس بات پر زور دے رہا ہے کہ افغانستان کے تنازع کا سیاسی حل ہی ممکن ہے۔

اسی بارے میں