پشاور: ’نامعلوم شخص نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ اس طرح کی خبریں آئندہ مت دینا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI
Image caption پاکستان میں صحافیوں کو نامعلوم افراد کی جانب سے دھمکیاں ملتی رہی ہیں

پشاور میں ڈان نیوز کے رپورٹر کو نامعلوم افراد کی جانب سے دھمکی آمیز ٹیلیفون کالز موصول ہونے کے بعد انھوں نے مقامی پولیس تھانے میں شکایت درج کروائی ہے ۔

ڈان نیوز چینل کے کرائم رپورٹر حسن فرحان نے بی بی سی اردو کے عزیز اللہ خان کو بتایا کہ چند روز پہلے سے انھیں بغیر شناخت، یا نو کالر آئی ڈی سے فون آ رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ فون کرنے والے شخص نے ان سے کہا کہ ان کی ’دی ہوئی خبریں درست نہیں ہیں اور آئندہ ایسی خبروں سے اجتناب برتیں‘۔

یہ بھی پڑھیے

جہاں صحافی تشدد، دھمکیوں اور موت کا سامنا کرتے ہیں

’جب صحافی ریاستی اداروں کی زبان بولنے لگیں‘

’اپنی بیٹی کو صحافی نہیں بننے دوں گی‘

حسن فرحان کے بقول انھوں نے زرعی تربیتی مرکز پر حملے کے بعد دو خبریں دی تھیں۔ ایک خبر اس حملے میں ملوث چھ افراد کی حراست سے متعلق تھی جبکہ دوسری اس رکشہ کے بارے میں تھی جسے حملہ آوروں نے اس کارروائی کے لیے استعمال کیا تھا۔

حسن فرحان نے بتایا کہ انھیں ٹیلیفون کالز چند روز پہلے موصول ہونا شروع ہوئیں تو پہلے انھوں نے ان کا جواب نہیں دیا اور بعد میں بغیر شناخت کے نمبر سے آنے والی فون کال پر نامعلوم شخص نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ اس طرح کی خبریں آئندہ مت دینا۔

حسن فرحان کے مطابق انھوں نے فون کرنے والے شخص سے کہا کہ ان خبروں میں ایسی کیا غلطی ہے جس پر وہ ناراض ہو رہے ہیں۔

انھوں نے اس واقعے کی خبر اپنے بیورو چیف اور ادارے کو دی اور اس کے بعد انھوں نے پولیس حکام کو آگاہ کرتے ہوئے مقامی تھانے میں رپورٹ درج کرادی ہے۔

خیبر پختونخوا اور پاکستان میں صحافیوں کو آئے روز ان کی خبروں کے سلسلے میں دھمکیاں موصول ہوتی رہتی ہیں۔ صرف یہ ہی نہیں، متعدد صحافیوں کو ہلاک اور مارا پیٹا بھی گیا ہے۔

اسی بارے میں