شاہ زیب قتل کیس میں ملوث مجرمان کی ضمانت پر رہائی کے احکامات

شاہ زیب خان تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption شاہ زیب خان کراچی کی گرین وچ یونیورسٹی کے طالب علم تھے

کراچی کی ایک سیشن کورٹ نے 2012 میں قتل کیے جانے والے نوجوان شاہ زیب خان کے والد کی اپیل پر اس جرم کے مرکزی مجرم شاہ رخ جتوئی سمیت چار مجرمان کی رہائی کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

واضح رہے کہ 2013 میں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے شاہ رخ جتوئی سمیت چار ملزمان پر شاہ زیب خان کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی تھی۔

سنیچر کو عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران مقتول نوجوان شاہ زیب خان کے والد اورنگزیب خان نے صلح سے متعلق حلف نامہ جمع کرایا۔

پولیس حکام کے مطابق شاہ زیب خان کے والدین نے قصاص اور دیت کے قانون کے تحت ملزم شاہ رخ جتوئی کو معاف کردیا ہے۔

اس کے ساتھ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہ فیصلہ والدین نے شاہ رخ جتوئی کے خاندان سے ہونے والے ایک معاہدے کے تحت کیا۔

شاہ زیب قتل کیس کے حوالے سے یہ بھی پڑھیے

* شاہ زیب قتل کیس میں دہشت گردی کی دفعات ختم

* شاہ زیب کیس:شاہ رخ سمیت دو کو سزائے موت

* 'شاہ زیب کیس کا فیصلہ 7 روز میں کریں'

* شاہ زیب قتل کیس: حساب پاک ہوا

2013 میں سزائے موت سنائے جانے کے بعد اُسی سال نومبر میں سندھ ہائی کورٹ نے سزائے موت کے فیصلے کو معطل کرکے ماتحت عدالت کو مقدمے کی دوبارہ سماعت کی ہدایت کی تھی۔

عدالت میں جمع کرائے گئے حلف نامے کے متن کے مطابق شاہ زیب کے والد نے مجرم شاہ رخ جتوئی کو خدا کے نام پر معاف کردیا اور ان کی رہائی کے حوالے سے کوئی اعتراض نہیں کیا جبکہ انھوں نے مجرمان کی ضمانت پر رہائی اور مقدمے کو ختم کرنے کی درخواست بھی دائر کردی۔

اس درخواست کے جمع ہوتے ہی عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے مجرم شاہ رخ جتوئی کے ساتھ ساتھ ملوث دیگر مجرمان نواب سراج علی تالپور، غلام مرتضٰی لاشاری اورنواب سجاد علی تالپور کی ضمانتیں بھی منظور کرلیں۔ اس کے علاوہ ضلع جنوبی کے جج امداد حسین کھوسو نے احکامات جاری کرتے ہوئے مجرمان کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے مچلکے بھی جمع کرانے کا حکم دیا جس کو جمع کرنے کے بعد ان افراد کی ضمانت ہوجائے گی۔

اسی طرح عدالت نے شاہ رخ جتوئی کو غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں ایک لاکھ روپے کے مچلکے بھی جمع کرانے کا حکم دیا ہے جس کے بعد ان کی اس کیس سے بھی ضمانت ہوجائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شاہ زیب کے والد نے مجرم شاہ رخ جتوئی کو خدا کے نام پر معاف کردیا

شاہ زیب خان کو دسمبر 2012 میں کراچی کے علاقے ڈیفنس میں شاہ رخ جتوئی اور اس کے دوستوں نے معمولی جھگڑے کے بعد گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

ورثا کی جانب سے بااثر مجرموں کو معاف کرنے پر سوشل میڈیا اور سول سوسائٹی کی جانب سے بھی خاصی تنقید کی جارہی ہے۔ ٹوئٹر پر بھی پاکستان میں شاہ رخ جتوئی کے نام کا ہیش ٹیگ سب سے زیادہ ٹرینڈ کر رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں