بینظیر قتل کیس: ’اب لکیر پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں‘

بے نظیر تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ملک کی دو مرتبہ منتخب ہونے والی وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کو ایک دہائی مکمل ہوئی لیکن راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے گذشتہ دنوں فیصلے سے ماسوائے ان پانچ ملزمان کے جو بری ہوئے ہیں کے علاوہ کوئی بھی مطمئن ہوا ہو۔

انصاف ایک مرتبہ پھر بظاہر ہوتا دکھائی نہیں دیا۔

اگست 2017 میں اس عدالتی فیصلے کے نتیجے میں ان پانچ افراد کو اس مقدمے سے بری کردیا گیا جن کو بینظیر بھٹو کے قتل کے واقعے کے دو ماہ کے بعد ہی گرفتار کیا گیا تھا اور اس طرح اُنھوں نے نو سال کا عرصہ بغیر کسی سزا کے جیل میں گزارا۔ ان افراد میں رفاقت، حسنین گل، شیر زمان، اعتزاز شاہ اور رشید احمد شامل ہیں۔

بینظیر بھٹو کے قتل سے متعلق اہم سوالات

کیا سیاسی خاندان سے تعلق کا بی بی کو نقصان ہوا؟

ہارورڈ میں بینظیر بھٹو لیڈرشپ پروگرام کا آغاز

اس مقدمے کے سرکاری وکیل چوہدری اظہر کا کہنا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے پانچ ملزمان میں دو ملزمان رفاقت اور حسنین گل کے بارے میں اتنے شواہد موجود ہیں کہ اُنھیں کم از کم موت کی سزا ضرور ملے گی لیکن عدالتی فیصلہ ان کی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی توقعات کے برعکس آیا۔

عدالتی فیصلے پر بھٹو خاندان اور وکالت کے شعبے سے وابسطہ افراد کے تحفظات تو ایک طرف لیکن یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا استغاثہ نے ایسے ٹھوس شواہد پیش کیے تھے جن کی بنیاد پر پولیس ملزموں کو مجرم گردانتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پیپلز پارٹی نے برسراقتدار آکر بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی تفتیش پنجاب پولیس سے لے کر اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک کے ماتحت ادارے ایف آئی اے کے حوالے کردی تھی۔

پنجاب میں پیپلز پارٹی کی مخالف جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت تھی اس لیے شاید پیپلز پارٹی کی قیادت کو یہ خوف تھا کہ مخالف جماعت اس مقدمے کو خراب کردے گی۔

تفتیش کی تبدیلی کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا یعنی زیرو میں زیرو جمع کریں تو جواب زیرو ہی ہوگا۔

بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں پنجاب پولیس کی تفتیش کام آئی نہ ہی ایف آئی اے کی۔

پنجاب پولیس نے اس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف کی حکومت کی طرف سے اس واقعے کی تمام تر ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان کے اس وقت کے سربراہ بیت اللہ محسود پر ڈالنے کے بعد اپنی تفتیش کا رخ صرف ان کی طرف ہی رکھا۔ بیت اللہ محسود نے بینظیر بھٹو کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔

ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم اس واقعے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ، برگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ، سابق وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم اور مرحوم لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ حمید گل کے علاوہ راولپنڈی پولیس کے افسران کے مبینہ طور پر اس واقعے میں ملوث شدت پسندوں کے ساتھ تعلقات پر ہی توجہ مرکوز کرتی رہی۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے علاوہ باقی افراد کو محض سوالنامے بھجوائے گئے جن کا انھوں نے تحریری جواب دے دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بینظیر بھٹوکے قتل کے مقدمے کی تفیش میں مقتولہ کے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے علاوہ سب کچھ تھا۔ قانون کے مطابق پولیس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ قتل کے مقدمے میں مقتول یا مقتولہ کا پوسٹ مارٹم کرے۔

ان دونوں تفتیشوں اور سکاٹ لینڈ یارڈ اور اقوام متحدہ کی ٹیموں کو پاکستان بلانے پر سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کیے گئے لیکن نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلا۔

اس مقدمے میں 68 سرکاری گواہان پیش کیے گئے جن میں وہ مجسٹریٹ بھی شامل تھے جنھوں نے ملزمان کے اقبالی بیان بھی قلمبند کیے تھے لیکن فیصلہ پھر بھی استغاثہ کے حق میں نہیں آیا۔

اس عدالتی فیصلے کے بعد حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز نے چوہدری اظہر کو پہلی ہی فرصت میں اس مقدمے کی پیروی سے روک دیا حالانکہ ان کے ساتھ سابق حکمراں جماعت پیپلز پارٹی نے یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ سپریم کورٹ تک اس مقدمے کی پیروی کریں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالے اپنی قیادت سے یہ سوال پوچھتے ہیں کہ جب چوہدری اعتزاز احسن، سردار لطیف کھوسہ اور بابر اعوان جیسے نامور وکیل پیپلز پارٹی کا حصہ ہوں تو ان کی موجودگی میں اس اہم مقدمے کی پیروی کرنے کی ذمہ داری ان وکلا کے مقابلے میں ایک غیر معروف وکیل کو کیوں سونپ دی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

راولپنڈی کے ایک جیالے جاوید بٹ کا موقف ہے کہ ملک کے یہ چوٹی کے وکلا بینظیر بھٹو کی زندگی میں ان کے خلاف نیب کے مقدمات کی پیروی کے لیے عدالتوں میں پیش ہوتے رہے ہیں لیکن ان کی ہلاکت کے بعد کوئی بھی عدالت میں پیش نہیں ہوا۔

پیپلز پارٹی کے کارکن یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ چوہدری اعتزاز احسن جنھوں نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ کے ججز کو قائل کرسکتے ہیں تو کیا وہ بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی پیروی کرکے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا نہیں دلوا سکتے تھے؟

یہ بھی پڑھیں!

ماضی کی چند بینظیر تصویریں

بینظیر قتل: کیا دوسرا بمبار زندہ ہے؟

’آصف زرداری نے بینظیر کے قتل کی تحقیقات نہیں کروائیں‘

چوہدری اظہر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ سابق وزیر داخلہ اور بینظیر بھٹو کے سلامتی کے مشیر رحمان ملک کے قریبی دوستوں میں سے ہیں اور چوہدری اظہر کا تعلق بھی سیالکوٹ سے ہے۔

چوہدری اظہر کو فارغ کرنے کے بعد حکومت نے نیا وکیل مقرر کر دیا لیکن فائدہ پھر بھی نہیں ہوا اور نئے سرکاری وکیل انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کو مطمئن نہ کرسکے جس کی وجہ سے دونوں پولیس افسران جن میں ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس ایس پی خرم شہزاد شامل ہیں کو عدالتی حکم پر رہا کردیا گیا۔ بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے ان دونوں مجرموں کو 17،17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

مبصرین کہتے ہیں کہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد پیپلز پارٹی کو سنہ 2008 میں ہونے والے عام انتخابات میں ہمدردی کا ووٹ زیادہ ملا۔

آصف علی زرداری صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر تقریر کے دوران عدلیہ پر تنقید کرتے تھے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں اتنی تاخیر کیوں کی جارہی ہے اور اب جب اس مقدمے کا فیصلہ آگیا ہے تو پیپلز پارٹی کی قیادت موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے کہ اُنھوں نے ملزم پرویز مشرف کو باہر بھجوایا ہے۔

قانون دان فیصل چوہدری کہتے ہیں کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کو عدالتوں میں لڑنے کی بجائے عوامی جلسوں میں لڑا گیا جس کی وجہ سے اس مقدمے کے ایسے ہی فیصلے کی توقع تھی جو آیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پانچ سال تک اقتدار کے مزے لوٹنے کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کو اپنی منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے عملی اقدامات کرنے کا کوئی خیال نہیں آیا۔

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں جب بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی سماعت ہوتی تھی تو اس وقت پیپلز پارٹی کا کوئی بھی سرکردہ رہنما کمرۂ عدالت میں موجود نہیں ہوتا تھا۔

سابق صدر اور بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری جو اس مقدمے میں مدعی نہیں بنے تھے لیکن اب اُنھوں نے انسداد دہشت گردی کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں درخواست دائر کی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے یہ اقدام پارٹی کارکنوں کو مطمئن کرنے کے لیے اُٹھایا ہے لیکن بظاہر پارٹی کے کارکنوں کی اکثریت اس سے مطمئن دکھائی نہیں دیتی۔

انسدادِ دہشت گردی کے اس فیصلے کے بعد وہ پولیس افسران اپنے خاندان کے ہمراہ روپوش ہوگئے ہیں جو بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم کا حصہ تھے۔

پنجاب پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کے طالبان کی قیادت کے ساتھ اندرون اور بیرون ملک ہونے والے مذاکرات میں طالبان کی قیادت کی طرف سے جن افراد کو رہا کرنے کی فہرست فراہم کی گئی ان میں رفاقت اور حسنین گل پہلے دس افراد میں شامل تھے۔

اسی بارے میں