جمعیت علمائے اسلام (سمیع الحق) کا ایم ایم اے کا حصہ بننے سے انکار

مولانا سمیع الحق تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جمیعت علمائے اسلام (س) اور تحریکِ انصاف نے آئندہ انتخابات مشترکہ پلیٹ فارم سے لڑنے کا فیصلہ کیا ہے

جمعیت علمائے اسلام (سمیع الحق گروپ) نے پانچ اسلامی جماعتوں پر مشتمل سیاسی اتحاد متحدہ مجلس عمل کو حکومتوں کی 'بی' ٹیم قرار دیتے ہوئے اس کا حصہ بننے سے باضابطہ طور پر انکار کردیا ہے۔

یہ انکار ایسے وقت سامنے آیا ہے جب منگل کو پشاور میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے زیر انتظام ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کا ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں تمام جماعتوں نے آئندہ عام انتخابات ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے لڑنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم اس اجلاس میں جے یو آئی (س) کے کسی نمائندے نے شرکت نہیں کی۔

جے یو آئی (س) کے مرکزی رہنما مولانا سیمع الحق کے معتمد خاص سید احمد شاہ حقانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ان کی جماعت نے ایم ایم اے کا حصہ بننے سے باضابطہ طور پر انکار کردیا ہے۔

مذہبی جماعتوں کا نیا اتحاد بن سکے گا؟

’2018 میں مذہبی جماعتوں کا اتحاد ہوگا‘

انھوں نے کہا کہ ایم ایم اے کی بحالی کے ضمن میں مولانا سمیع الحق اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں لیکن ان کی جماعت نے بحالی کے لیے جو شرائط پیش کی تھیں ان کو پورا نہیں کیا گیا لہٰذا وہ اتحاد میں شامل نہیں ہو رہے۔

سید احمد شاہ حقانی کے مطابق 'ایم ایم اے میں شامل جماعتیں جے یو آئی (ف) اور جماعت اسلامی مرکز اور صوبے میں حکومتوں کی بی ٹیم ہیں اور ان جماعتوں نے اسلام کے لیے بھی کچھ نہیں کیا ہے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ دونوں جماعتیں حکومت بھی نہیں چھوڑنا چاہتی اور پھر آئندہ انتخابات میں ان ہی جماعتوں کے خلاف الیکشن بھی لڑنا چاہتی۔

سید احمد شاہ حقانی نے الزام لگایا کہ مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت نے پانچ سال حکومت میں رہ کر کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا اس لیے ایسی جماعتوں سے اتحاد کا کوئی فائدہ نہیں۔

یاد رہے کہ تقریباً دو ماہ قبل چھ مذہبی جماعتوں کے قائدین کا ایک اہم اجلاس کراچی میں منعقد ہوا تھا جس میں ایم ایم اے کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس اجلاس میں جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے بھی شرکت کی تھی۔

دریں اثناء منگل کو پشاور میں جے یو آئی (ف) کے زیراہتمام ایم ایم اے میں شامل پانچ جماعتوں کا ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں آئندہ انتخابات مذہبی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے لڑنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں جے یو آئی (ف)، جماعت اسلامی، جمعیت اہلحدیث اور جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) کے رہنماؤں نے شرکت کی جبکہ اتحاد میں شامل ایک اور جماعت تحریک اسلامی کا کوئی رہنما شریک نہیں ہوا۔

بعض مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا کی سطح پر تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام (س) کے درمیان حالیہ انتخابی اتحاد سے ایم ایم اے کی اہمیت مزید کم ہونے کا امکان ہے۔

صوبے میں حکمران جماعت تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام (س) کے رہنماؤں کے درمیان حالیہ دنوں میں رابطوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد دونوں جماعتوں نے آئندہ انتخابات مشترکہ پلیٹ فارم سے لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی سلسلے میں گذشتہ مہینے مولانا سمیع الحق اور عمران خان کے درمیان ایک ملاقات بھی ہوئی تھی جس کے بعد اتحاد قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس انتخابی اتحاد کو بنانے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

مولانا سمیع الحق کے معتمد خاص سید احمد شاہ حقانی کے مطابق پی ٹی آئی نے گذشتہ چار برسوں کے دوران خیبر پختونخوا میں اسلامی تعلیمات پھیلانے کے لیے جو اقدامات کیے ہیں وہ ایم ایم اے کے دور حکومت میں ہوئے اور نہ ہی کسی اور حکومت میں ہوئے۔

اسی بارے میں