’پاکستان اور انڈیا کی سیاسی بساط پر جاسوس صرف مہرے ہوتے ہیں‘

کلبھوشن کے اہلخانہ تصویر کے کاپی رائٹ MoFA
Image caption پاکستان کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ کلبھوشن کی اہلیہ کے جوتے سے ایک چِپ ملی تھی جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے

کلبھوشن جادھو کو دہشتگردی اور جاسوسی کے الزام میں پاکستان میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ انھیں پاکستان کے ٹیلی ویژن پر کم از کم دو بار اپنے جاسوس ہونے اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ان کا مقدمہ پاکستان کی ایک ملٹری کورٹ میں چلایا گیا جس میں کلبھوشن تک کسی کو رسائی نہیں تھی۔ انھیں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ اب ان کا معاملہ بین الاقوامی عدالت میں بھی پہنچ چکا ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ ’کلبھوشن انڈین بحریہ کے حاضر سروس کمانڈر ہیں اور وہ انڈیا کی خفیہ ایجنسی را کے افسر ہیں۔ وہ پاکستان کے صوبے سندھ اور بلوچستان میں دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ایک عرصے سے ملوث تھے۔ انھیں بلوچستان سے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا‘۔ اس کے برعکس انڈیا کا کہنا ہے کہ ’کلبھوشن جادھو بحریہ کے ایک سبکدوش افسر ہیں۔ وہ بزنس کے سلسلے میں ایران آیا جایا کرتے تھے۔ پاکستان کے خفیہ ایجنٹوں نے انھیں بزنس کے بہانے پاکستان بلایا اور انھیں پکڑ کر انڈیا کا جاسوس بنا کر پیش کر دیا‘۔

مزید پڑھیے

’جوتے سے ملنے والی چِپ کا جائزہ لیا جا رہا ہے‘

'آپ جواب دیں، آپ بھاگ کیوں رہی ہیں؟'

کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس

تصویر کے کاپی رائٹ MoFA
Image caption کلبھوشن اور ان کے اہل خانہ کی ملاقات 25 دسمبر کو اسلام آباد میں ہوئی تھی

انڈیا کلبھوشن کے جاسوس ہونے سے انکار کرتا رہا ہے لیکن اس کی وضاحت کرنا اس کے لیے مشکل ہے کہ کلبھوشن کے پاس ایک باضابطہ دوسرا پاسپورٹ کیوں تھا اور یہ پاسپورٹ مسلم نام سے کیوں تھا۔

اگر کلبھوشن کا تعلق بحریہ سے نہ ہوتا تو انڈیا نے انھیں ترک کر دیا ہوتا۔

انڈیا کی ایک سرکردہ تجزیہ کار انوپما سبھرامنیم کے مطابق ’جاسوس صرف دونوں ملکوں کی سیاسی بساط کا محض مہرہ ہیں۔ ایسے متعدد شہری انڈین اور پاکستانی جیلوں میں قید ہیں جنھیں جاسوسی کے جرم میں سزائیں دی گئیں۔ کتنے تو ایسے ہیں جو سزائیں ختم ہونے کے بعد بھی قید میں ہیں۔ دونوں ملکوں کی حکومتیں گرفتاری کے بعد ان سے لاتعلقی اختیار کر لیتی ہیں‘۔

کلبھوشن کی زندگی اور موت کا فیصلہ ابھی تک پیچیدہ صورتحال میں الجھا ہوا ہے۔ دونوں ملکوں کے لیے کلبھوشن انفرادی طور پر اہمیت نہیں رکھتے لیکن دونوں ملکوں کی داخلی سیاست کے لیے وہ بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ دونوں ہی حکومتیں انھیں اپنے اپنے سیاسی مفاد کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کلبھوشن جادھو کو پاکستان کے ٹیلی ویژن پر کم از کم دو بار اپنے جاسوس ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے

انڈیا اور پاکستان کے تعلقات جو پہلے ہی کافی کشیدہ تھے وہ کلبھوشن سے ان کی اہلیہ اور والدہ کی ملاقات پر ہونے والے تنازعے کے بعد مزید خراب ہو گئے ہیں۔ جارحانہ قوم پرستی کو ابھارنے کے لیے انڈیا اور پاکستان کے میڈیا نے کلبھوشن کے واقعے کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ پاکستان کے لیے وہ ایک ’خطرناک شدت پسند اور تخریب کار‘ ہیں۔ انڈیا کے لیے کلبھوشن ایک ’باعث فخر‘ شہری ہیں۔

پچھلے تین برس میں انڈیا اور پاکستان کے تعلقات مسلسل خراب ہوتے گئے ہیں۔ اب داخلی سیاست بھی دونوں ملکوں کے تعلقات سے براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ گزرے ہوئے برس میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک بھی مثبت پہلو نظر نہیں آیا۔

بگڑتے ہوئے رشتوں میں کلبھوشن جیسے افراد سیاست کی بساط پر دونوں ملکوں کے مہرے سے زیادہ کچھ بھی تو نہیں۔

اسی بارے میں