منفی بیان بازی سےاہداف حاصل نہیں کیےجا سکتے: پاکستان

خرم دستگیر تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/@PID.GOV.OFFICIAL

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان مخالف بیان بازی پر پاکستان کا کہنا ہے کہ تعاون اور مل کر کام کرنا ہوگا کیونکہ منفی بیان بازی سے اہداف کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

اسلام آباد میں وزیر اعظم کی سربراہی میں ہونے والے قومی سلامتی کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر دفاع خرم دستگیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں گذشتہ چند ماہ سے صدر ٹرمپ سمیت کئی امریکی عمائدین کی جانب سے سامنے آنے والے منفی بیانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

خرم دستگیر نے بتایا کہ قومی سلامتی کے اس اجلاس میں طے پایا ہے کہ ’اکھٹے مل کر اور تعاون سے افغانستان میں امن کی جدوجہد کریں گے اور دہشت گردی کے خلاف لڑیں گے تو ہمیں بہتر کامیابی ہوگی، بجائے یہ کہ ہم اپنی منفی بیان بازی سے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کریں۔‘

اس بارے میں مزید پڑھیے

امریکہ نے پاکستان کو کتنی امداد دی؟

'امریکہ کے یو ٹرن کا ماسٹر ڈونلڈ ٹرمپ'

’پاکستان نے ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
صدر ٹرمپ کے ٹویٹ کو سنجیدگی سے لیتے ہیں: وزیر دفاع

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے سال کے موقعے پر ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ گذشتہ پندرہ برسوں میں پاکستان کو 33 ارب ڈالر کی امداد دینا بیوقوفی تھی کیونکہ اس کے بدلے پاکستان نے امریکہ کو سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا ہے۔

امریکی صدر کے بیان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اس اجلاس میں وزیرِ خارجہ، وزیرِ داخلہ، وزیرِ دفاع، مسلح افواج کے سربراہان سمیت اعلیٰ شخصیات نے شرکت کی۔

وزیر دفاع خرم دستگیر نے مزید کہا کہ ’امریکہ کے ساتھ تہذیب کے دائرے میں رہ کر مگر بے لاگ گفتگو ہوگی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PM HOUSE

ان کا کہنا تھا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ صرف ڈالرز کی زبان سمجھتے ہیں تو ہم نے بھی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نہ صرف اپنی سہولیات فراہم کیں بلکہ اس کے عوض ہم نے کوئی معاوضہ بھی نہیں مانگا کیونکہ ہم دہشت گردی کے خاتمے میں سنجیدہ ہیں۔‘

کیا پاکستان صدر ٹرمپ اور دیگر امریکی عمائدین کے حالیہ بیانات پر امریکہ سے معافی کا مطالبہ کرے گا کے سوال پر خرم دستگیر نے کہا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے منتخب صدر ہیں اس لیے ہم ان کے ٹویٹس کو سنجیدہ لیتے ہیں لیکن ابھی معاملہ اس تک نہیں پہنچا ہے۔‘

صدر ٹرمپ کی ٹویٹ کے بعد امریکی سفیر کی طلبی

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر کے بیان کے بعد پیر کی شب امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کو اسلام آباد میں دفترِ خارجہ طلب کیا گیا۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا تاہم اے ایف پی کا کہنا ہے کہ امریکی سفارتخانے کے ترجمان نے منگل کو تصدیق کی ہے کہ ڈیوڈ ہیل نے پاکستانی حکام سے ملاقات کی تھی تاہم انھوں نے اس ملاقات کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

پاکستان کے وزیرِ دفاع خرم دستگیر نے صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد ٹوئٹر پر ہی اپنے پیغامات میں کہا تھا کہ ’پاکستان نے اب تک افغانستان میں القاعدہ کو شکست دینے کے لیے امریکہ کے ساتھ بےمثال تعاون کا مظاہرہ کیا ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی اپنی سرزمین کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں اور پاکستانی قوم اور افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بےمثال قربانیاں دی ہیں۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے قبل منگل کو راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں کور کمانڈرز کانفرنس بھی منعقد ہوئی۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس کانفرنس میں تبدیل ہوتے جیو سٹریٹیجک ماحول اور اندرونی سکیورٹی صورتحال کے علاوہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے حوالے سے بھی بات کی گئی۔

اسی بارے میں