’مائی نیم از خان اینڈ آئی ایم ناٹ اے ٹیررسٹ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عمران خان نے کہا کہ فیصلے سے ثابت ہوا کہ وہ دہشتگرد نہیں ہیں

اسلام آباد میں انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے چار مختلف مقدمات میں تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کر لی ہے۔

ان مقدمات میں عمران خان پر الزام ہے کہ انھوں نے 2014 میں اسلام آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف کے دھرنے کے دوران لوگوں کو تشدد پر اکسایا تھا۔

اس سے پہلے عدالت نے چاروں مقدمات میں عمران خان کے وکیل بابر اعوان اور پراسیکیوٹر شفقت چودھری کے اختتامی دلائل سنے۔

عمران خان کی درخواست مسترد، دوبارہ پیش ہونے کا حکم

’شکر ہے خان بچ گیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption عمران خان کی چار مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی گئی ہے۔

عدالت نے 13 دسمبر کو ان مقدمات میں عمران خان کی عبوری ضمانت دو جنوری تک بڑھا دی تھی۔

عدالت کے فیصلے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ آج کے فیصلے سے ثابت ہوا ہے کہ وہ دہشتگرد نہیں ہیں جبکہ 15 دسمبر کو نا اہلی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کے فیصلے نے ثابت کیا تھا کہ وہ صادق اور امین ہیں۔

اگست 2014 میں تحریکِ انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں نے مبینہ طور پر اسلام آباد کے ریڈ زون میں مختلف عمارتوں پر حملہ کیا تھا جن میں سرکاری اداروں کے دفتر بھی شامل تھے۔ ان پر پولیس آفیسر ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو پر حملے کا مقدمہ بھی دائر کیا گیا تھا۔

انسدادِ دہشتگردی کی عدالت کے فیصلے کے بعد عمران خان نے ٹوئٹ کی ’مائی نیم از خان اینڈ آئی ایم ناٹ اے ٹیرراسٹ۔ اِس کے علاوہ سپریم کورٹ مجھے صادق اور امین قرار دے چکی ہے۔‘