بلوچستان: ‘استعفوں کا سینیٹ انتخابات سے تعلق نہیں‘

بلوچستان، سیاست
Image caption بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی تعداد 65 ہے اور وزیر اعلیٰ ثنااللہ زہری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب کرانے کے لیے اسمبلی کے 33 اراکین کی ضرورت ہے

بلوچستان کی حکومت جس اچانک سیاسی بحران سے دوچار ہوئی ہے ناراض اراکین اسمبلی اس کی وجہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی کارکردگی اور رویے کو قرار دے رہے ہیں تاہم دوسری جانب ایسی آرا بھی سامنے آ رہی ہیں جو اس بحران کے تانے بانے سینیٹ کی آئندہ انتخابات سے جوڑ رہے ہیں۔

بلوچستان حکومت کے بظاہر بحران کی ایک وجہ وہ تحریک عدم اعتماد بنی جو کہ 14اراکین کے دستخطوں کے ساتھ وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرائی گئی۔

اس قرارداد پر حزب اختلاف کی تین جماعتوں کے علاوہ خود حکومت میں شامل تین جماعتوں ق لیگ، مجلس وحدت المسلمین اور نیشنل پارٹی کے اراکین نے دستخط کیے ہیں۔ اگرچہ نیشنل پارٹی مخلوط حکومت میں شامل ہے اور پارٹی نے وزیر اعلیٰ کا بھرپور ساتھ دینے کا اعلان بھی کیا ہے لیکن اس کے ایک رکن میر خالد لانگو نے عدم اعتماد کی تحریک پر دستخط کیے ہیں۔

تحریک عدم اعتماد پر بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شامل ن لیگ کے اراکین کے دستخط تو نہیں ہیں لیکن تحریک التوا جمع ہونے کے چند گھنٹے بعد ن لیگ سے تعلق رکھنے والے تین مشیر و وزیر اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

مستعفی ہونے والے مشیر پرنس احمد علی کا کہنا ہے کہ مخلوط حکومت میں ن لیگ کی اکثریت تھی لیکن ان کو وہ اہمیت نہیں دی جارہی تھی جو کہ دوسری بڑی جماعت پختونخوا ملی عوامی پارٹی کو دی جارہی تھی ۔

Image caption مستعفی ہونے والے وزیرداخلہ میر سرفراز بگتی کا کہنا ہے کہ ’میری برطرفی کی خبر سچ نہیں ہے کیونکہ میں اپنا استعفیٰ پہلے ہی گورنر کو دے چکا ہوں

ان کے بقول پختونخوا میپ کے اراکین کے حلقوں کے مسائل حل ہوتے گئے جبکہ ن لیگ کے اراکین کے حلقوں کے مسائل بڑھتے گئے ۔ پرنس احمد علی نے بہرحال اس رائے سے اتفاق نہیں کیا کہ ان کے استعفوں کا سینیٹ کے آئندہ انتخابات سے کوئی تعلق ہے ۔

بلوچستان: وزیرِ اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد پر ن لیگ میں اختلاف

ثنا اللہ زہری نے وزیرِ اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

مری معاہدے کے تحت اب ثنا اللہ زہری وزیراعلیٰ بلوچستان

پرنس احمد علی کے مطابق یہ مسئلہ پہلے سے ہی موجود تھا لیکن یہ الگ بات ہے کہ اس کا لاوا ایک ایسے وقت میں پھٹ گیا جب سینٹ کے الیکشن قریب ہیں۔

لیکن ڈان ٹی وی سے وابستہ بلوچستان کے سینئیر صحافی سید علی شاہ پرنس علی کی رائے سے متفق نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی بحران کا وزیر اعلیٰ کی کارکردگی سے تعلق نظر نہیں آ رہا لیکن اگر نواب ثنا اللہ زہری کو ان کے عہدے سے ہٹایا گیا تو ن لیگ کو بلوچستان سے سینیٹ میں وہ اکثریت حاصل نہیں ہوگی جس کی توقع کی جارہی ہے۔

سینیئر صحافی و تجزیہ نگار شہزادہ ذوالفقار بھی اس سے متفق ہیں کہ موجودہ سیاسی بحران کا محرک سینیٹ کے انتخابات ہو سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بعض لوگ شاید یہ چاہتے ہیں کہ سینیٹ کے انتخابات نہ ہوں یا ان میں ن لیگ کو اکثریت حاصل نہ ہو۔

اسی بارے میں