’باہر کھڑا ایک بھارتی سفارتکار میری ماں پر چیخ رہا تھا‘

کلبھوشن تصویر کے کاپی رائٹ MOFA
Image caption ویڈیو پیغام میں سفید شرٹ اور کالے کوٹ میں ملبوس کلبھوشن جادھو ایک کالی سکرین کے سامنے کھڑے ہیں

پاکستان میں سزائے موت دیے جانے والے مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو نے گذشتہ ہفتے اپنی والدہ اور اہلیہ کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ملاقات کے وقت ایک انڈین سفارت کار دونوں خواتین پر چیخ رہا تھا۔

کلبھوشن اور ان کے اہلِ خانہ کی ملاقات اسلام آباد میں واقع دفتر خارجہ میں 25 دسمبر کو ہوئی تھی۔

یہ ویڈیو بظاہر 25 دسمبر کو ملاقات کے بعد ریکارڈ کی گئی ہے کیونکہ اس ویڈیو کا آغاز کلبھوشن نے یہ کہہ کر کیا ہے کہ ’آج میری ماں مجھ سے ملنے آئیں‘۔

سفید شرٹ اور کالے کوٹ میں ملبوس کلبھوشن جادھو ایک کالی سکرین کے سامنے کھڑے ہیں۔ اور ایک جانب سفید پردے لگے ہوئے ہیں۔

انھوں نے سب سے پہلے اپنے اہل خانہ سے ملاقات کرانے پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

’یہ سب بہت خوشگوار ماحول میں ہوا۔ اور میری ماں میری حالت اور جسمانی صحت دیکھ کر بہت خوش ہوئیں۔ اور انھوں نے مجھے کہا بھی کہ وہ مجھے دیکھ کر بہت اطمینان محسوس کر رہی ہیں۔‘

کلبھوشن نے مزید کہا کہ انھوں نے دعا دی جو کہ ہندوؤں میں بہت عام ہے۔ ’تب میں نے کہا گھبرائیں نہیں ممی، اب آپ بہت خوش ہیں۔ میرے پاس بہت ساری چیزیں ہیں میری خوراک بہت اچھی ہے یہ سب میرا بہت خیال رکھتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

’جوتے سے ملنے والی چِپ کا جائزہ لیا جا رہا ہے‘

'آپ جواب دیں، آپ بھاگ کیوں رہی ہیں؟'

کرنل حبیب کہاں ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ کے ہمراہ انڈین ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ آئے تھے

انھوں نے کہا کہ ’یہ مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچاتے ہیں اور مجھے ہاتھ نہیں لگاتے۔ اور مجھے خود دیکھ کر میری ماں نے ان سب باتوں کا یقین بھی کیا۔‘

کلبھوشن نے کہا کہ وہ بھارتی عوام بھارتی حکومت اور نیوی میں موجود لوگوں سے ایک بہت اہم بات کرنا چاہتے ہیں۔

’میرا کمیشن ختم نہیں ہوا۔ میں انڈین نیوی کا کمیشنڈ افسر ہوں۔ اور میری ماں اور میری بیوی کو بہت سختی کے ساتھ ہدایات دی گئیں۔ میں نے اپنی ماں اور بیوی کی آنکھوں میں خوف دیکھا‘۔

’وہ خوفزدہ کیوں تھیں۔ جو ہو سو ہوا۔ میری ماں اور بیوی کی آنکھوں میں خوف نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ان کو دھمکایا گیا اور وہ بھارتی سفارت کار یا جو بھی ان کے ساتھ آیا، جیسے ہی میری ماں باہر نکلی وہ میری ماں پر چیخ رہا تھا۔

’کیا میری فیملی کو ڈرا کر یہاں تک لایا گیا تھا۔ یہ تو ایک مثبت اقدام تھا، میں خوشی محسوس کر رہا تھا، ان کو خوش ہونا چاہیے تھا۔ لیکن باہر کھڑا ایک بھارتی سفارتکار یا کوئی شخص ان پر چیخ رہا تھا۔‘

سزائے موت پانے والے انڈین جاسوس نے سوال کیا کہ انڈیا اور پاکستان کو سب بھلا کر کسی مثبت سمت میں جانا چاہیے یا ایک دوسرے کے خلاف ایسے ہی چلتے رہنا ہے۔

انھوں نے سوال کیا ’اس بات سے کیوں انکار کیا جا رہا ہے کہ میں کمیشنڈ افسر نہیں یا میں بھارتی خفیہ ایحنسی کے لیے کام نہیں کر رہا تھا۔ آخر معاملہ کیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ MOFA

انھوں نے مزید کہا ’ ٹھیک ہے میں اپنی شناخت چھپا کر کاروبار کر رہا تھا۔ میں اِدھر کھڑا صاف کہہ رہا ہوں کہ ہاں میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لیے کام کر رہا تھا۔ میں ایک فوجی ہوں اور میں اپنے ملک کے لیے کر رہا تھا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کام کر رہے ہیں۔‘

’مگر میری بیوی اور ماں کو تکلیف اور خوف کی حالت میں لایا گیا۔ مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے ان کے ساتھ راستے میں جہاز میں مار پیٹ کر کے لایا گیا اور یہی سب میں دیکھ بھی رہا تھا۔ یہ سب ایسے نہیں ہونا چاہیے تھا۔

’میری فیملی کو بہت خوش ہونا چاہیے تھا مگر میری ماں ’شاک‘ کی حالت میں تھیں۔ اور وہ کہہ رہی تھیں یہ نہیں کہا جا سکتا یہ نہیں ہو سکتا۔‘

انھوں نے ویڈیو پیغام کے آخر میں کہا کہ وہ اس سارے عمل کے لیے دونوں انڈین اور پاکستانی حکومتوں کے شکر گزار ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا ’لیکن مجھے افسوس ہوا کہ میری ماں بہت ڈری ہوئی اور سہمی ہوئی تھیں‘۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں