’گمشدگیوں کا دور اور انسانی حقوق کا سوال‘

کراچی سے لاپتہ ہونے والے بلاگر تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption کراچی سے لاپتہ ہونے والے بلاگرز میں سے ایک اس تصویر میں میر محمد تالپور کے ساتھ کھڑے ہیں۔

سوشلستان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے جہاں ان کے بارے میں لکھی گئی کتاب کے مندرجات بغور دیکھے جا رہے ہیں وہیں ان کے پاکستان کے حوالے سے بیان پر تبصروں کا سلسلہ تھما نہیں۔ مگر ہم بات کریں گے سوشلستان کی جو اب غائبستان بنتا جا رہا ہے۔ لوگوں کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ جو لاپتہ ہیں ان کی بازیابی کی مہم سوشل میڈیا پر چل رہی ہے کیونکہ روایتی میڈیا پر اس قسم کی بات کرنے کا چلن کم ہی ہے۔ اور جو لاپتہ ہو کر واپس آئے ان کے خلاف الزامات درست ثابت نہ ہونے کے باوجود انہیں توہین کا مرتکب قرار دینے والوں سے جن میں میڈیا کے کچھ لوگ بھی ہیں، اب تک کوئی سُن گُن نہیں۔ اس ہفتے اسی موضوع پر بات کریں گے۔

'ڈراؤ دھمکاؤ کی پالیسی کام نہیں کرے گی‘

گذشتہ دنوں مصنف اور تجزیہ کار محمد حنیف نے ٹویٹ کی کہ „میں کوئی زیادہ سوشل انسان نہیں ہوں اور حقیقی زندگی میں چند لوگوں کو جانتا ہوں۔ ان میں سے دو کو گذشتہ ہفتے ریاست کے اندر ریاست والوں نے اغوا کر لیا۔ اوکاڑہ سے ایڈووکیٹ نور نبی اور کراچی سے طالبِ علم ممتاز ساجدی۔ خوفناک۔ بہت خوفناک۔`

عمر علی نے جواب میں تبصرہ لکھا کہ "طویل مدتی رجحان کو دیکھیں تو یہ مزید بدتر ہو گا۔'جبکہ زاہد عمر کا سوال تھا کہ کیا یقین ہے کہ "انہیں ریاست کے اندر ریاست والوں نے اغوا کیا انہیں غیر ملکی قوتوں نے بھی تو اغوا کیا ہو سکتا ہے۔'

اور چند لوگوں نے تو یہ تک پوچھ ڈالا کہ آخر آپ ہی کے جاننے والوں کو ہی کیوں اغوا کیا جاتا ہے۔

مگر اس بحث میں شہریوں کے حقوق اور تحفظ کے بات کرنے والوں کی کمی نہیں جیسا کہ فاروق طارق نے لکھا "ہمارا خیال تھا کہ رضا دو چار دن بعد لوٹ آئیں گے، اب تو 30 دن ہو گئے اس کا کوئی اتا پتا نہیں۔ فکر بڑھتی جارھی ہے، جس کے بھی پاس ہے، اب بس کریں؛ اسے چھوڑ دیں۔ یہ سوچ لیں کہ ہم پیچھا چھوڑنے والے نہیں۔ یہ مہم جاری رھے گی اس کوواپس لا کر ہی بس کریں گے۔'

ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف انسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر نے لکھا "ممتاز اور کامران ساجدی کو ریاستی ایجنٹوں نے ان کے اپارٹمنٹ سے اغوا کیا۔ یہ جامعہ کراچی کے طالبِ علم ہیں۔ یہ اب ایک رجحان بنتا جا رہا ہے کہ جو بھی آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے اسے اٹھا لیا جاتا ہے۔ اسے کون روکے گا؟

ہر بحث اور مباحثے میں ان افراد کا ذکر کیا جاتا ہے جو لاپتہ کر رہے ہیں مگر اس کے اثرات کیا ہیں اس حوالے سے مناہل مہدی نے اپنے تجربے کے بارے میں لکھا کہ "میرے والد جو کہ ایک ریٹائرڈ پروفیسر ہیں نے میرا مضمون پڑھنے کے بعد مجھ سے پوچھا "یہ لوگ تہمارے پیچھے تو نہیں آ جائیں گے؟' کیسا عجیب خوف جڑا ہوا ہے کہ "یہ لوگ' کے ساتھ اور وہ کیا کچھ کر سکتے ہیں معصوموں کے ساتھ۔ یہ جبری گمشدگیاں کب ختم ہوں گی؟ کتنی بار ہمیں حکام کو شہریوں کے حقوق اور اُن کی ذمہ داریاں یاد دلانی پڑیں گی؟'

مشرف زیدی نے لکھا "ڈراؤ دھمکاؤ کی پالیسی کو حُب الوطنی بڑھانے کے لیے آلے کے طور پر استعمال کرنا بہت عجیب ہے۔ اس نے نہ کبھی کام کیا ہے نہ کرتی ہے نہ کرے گی۔'

آخر میں عاطف توقیر نے سوال کیا کہ "اگر ہر ناقدانہ آواز خاموش کرا دی جائے گی، تو جمہوریت اس دیس پر گالیاں تو کھاتی رہے گی مگر حقیقت میں پنپے گی کیسے؟

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption تحریکِ انصاف کے رہنما عمران اسماعیل نے سابق وزیراعظم نوام شریف کی جعلی تصویر تبصرے کے ساتھ ٹویٹ کی جو کہ در اصل نواز شریف کی اپنی والدہ کے ساتھ تصویر تھی جس میں وہ اُن کا ہاتھ چوم رہے ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کراچی کے مضافات میں مٹی کے برتن بنانے والی ایک خاتون کی تصاویر۔