کراچی میں دو بھائیوں سمیت مزید تین بلوچ طالب علم لاپتہ

ممتاز ساجد
Image caption ممتاز ساجدی کراچی یونیورسٹی کے شعبے بین الاقوامی تعلقات میں آخری سال کے طالب علم ہیں

کراچی میں رواں سال گمشدگی کے پہلے واقعے میں دو بھائیوں سمیت مزید تین بلوچ طالب علم لاپتہ ہوگئے ہیں۔

ممتاز ساجدی اور کامران ساجدی یونیورسٹی روڈ پر سفاری پارک کے قریب واقع مدو گوٹھ کے رہائشی ہیں۔

’دو پولیس موبائل اور دو نجی گاڑیاں آئیں‘

ممتاز ساجدی اور کامران ساجدی کے بڑے بھائی نعیم ساجدی نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی صبح پونے چار بجے کے قریب دو پولیس موبائل اور دو نجی گاڑیاں آئیں۔

’جو پرائیوٹ لوگ تھے انھوں نے سفید شلوار قمیض پہن رکھے تھے اور ان کے چہرے پر ماسک تھے۔ انھوں نے نام پوچھا میں نے بتایا کہ محمد نعیم۔ پھر انھوں نے معلوم کیا کہ کتنے بھائی ہیں انھیں بلاؤ۔ میرے تین بھائی گھر میں موجود تھے میں نے انھیں بلایا۔ انھوں نے شناختی کارڈ چیک کیے اور پوچھا کہ یہاں اور کون رہتا ہے میں نے کہا کہ میرا گھر سنگل سٹوری ہے یہاں صرف میرا خاندان ہی رہتا ہے۔‘

نعیم ساجدی کے مطابق سادہ لباس میں ملبوس اہلکار نے شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد اپنے ساتھی سے بات کی اور دونوں بھائیوں ممتاز اور کامران کو موبائل میں ڈال کر لے گئے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ انھیں کیوں لے کر جا رہے ہو تاہم انھوں نے کچھ نہیں بتایا۔

ممتاز ساجدی کراچی یونیورسٹی کے شعبے بین الاقوامی تعلقات میں آخری سال کے طالب علم ہیں جبکہ کامران نے حال ہی میں بارہویں جماعت کا امتحان پاس کیا ہے اور یہاں مزید تعلیم جاری رکھنے کے لیے آئے تھے۔

’کچھ اچھا ہوجائے‘

ممتاز کے بھائی نعیم ساجدی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے خود بھی جامعہ کراچی سے بی بی اے کیا ہے اور کراچی میں گذشتہ 10 سالوں سے مقیم ہیں۔ ’ممتاز 2007 سے میرے ساتھ ہے اس نے انٹر بھی یہیں سے ہی کیا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ وہ کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث رہا ہے مجھے ایسا نہ تو پتہ اور نہ ہی لگتا ہے۔‘

اہل خانہ کے مطابق دونوں بھائی طبی طور پر کمزور ہیں۔ کامران کم سنتا ہے اور اس کی نظر بھی کمزور ہے جبکہ ممتاز وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہے۔

نعیم ساجدی کا کہنا ہے کہ انھوں نے گلستان جوہر تھانے میں واقعے کی ایف آئی آر درج کرانے کے لیے درخواست دی تھی۔ تاہم پولیس نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ 24 گھنٹے بعد آنا جس کے بعد وہ دوبارہ تھانے نہیں گئے بس انتظار کر رہے ہیں کہ ’کچھ اچھا ہوجائے‘۔

ایس پی گلشن اقبال غلام مرتضیٰ بھٹو کا دعویٰ ہے کہ نعیم ساجدی ان کے پاس نہیں آئے۔ انھوں نے واقعے سے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔

’سیف بلوچ بھی لاپتہ‘

کراچی یونیورسٹی کے ایک اور طالب علم سیف بلوچ بھی مبینہ طور پر مدو گوٹھ سے لاپتہ ہیں۔

ان کے ایک دوست نے بی بی سی کو بتایا کہ سیف اپنے رشتے داروں کے ساتھ رہتا تھا اور ان کا مکان ممتاز ساجدی کے مکان کے قریب ہی تھا۔

Image caption سیف بلوچ کا تعلق بلوچستان کے علاقے تربت سے ہے اور وہ کراچی یونیورسٹی میں ایم فل کے طالب علم ہیں

’صبح سویرے پولیس اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار مکان میں داخل ہوئے اور وہاں موجود نوجوانوں کی شناخت کے بعد سیف کو اپنے ساتھ لے گئے۔‘

سیف بلوچ کا تعلق بلوچستان کے علاقے تربت سے ہے اور وہ کراچی یونیورسٹی میں ایم فل کے طالب علم ہیں۔

’لوگ ایک دو روز انتظار کرتے ہیں‘

انسانی حقوق کمیشن پاکستان سندھ کے وائس چیئرپرسن اسد اقبال بٹ کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں نے ان سے رابطہ نہیں کیا لیکن انسانی حقوق کے کارکنوں کے ذریعے واقعے کے بارے میں علم ہوا ہے۔

’رابطے میں نہ آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ ایک دو روز انتظار کرتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ نوجوان واپس آجائے یا اس کو چھوڑ دیا جائے۔ اہلکار ساتھ لے جاتے وقت بھی یہی کہتے ہیں کہ ہم پوچھ گچھ کے بعد انہیں چھوڑ دیں گے۔ بعد میں جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ انھیں چھوڑا نہیں جارہا تو پھر وہ رابطے میں آتے ہیں۔‘

اسد بٹ کا کہنا ہے کہ وہ ممتاز ساجدی کو پہچانتے ہیں۔ ’وہ ہمارے احتجاج وغیرہ میں شریک ہوتا رہا ہے لیکن اس کی کسی سیاسی جماعت کے ساتھ کوئی وابستگی نہیں ہے، وہ صرف ایک سوشل ایکٹوسٹ ہے۔‘

اسد اقبال بٹ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں گذشتہ ایک عرصے سے آپریشن جاری ہے جس سے طالب علموں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ وہاں نوجوان دوہرے دباؤ کا شکار ہیں اگر خاموش رہتے ہیں تو جو پہاڑوں میں لڑ رہے ہیں ان کا نشانہ بنتے ہیں اگر وہ ان کے گاؤں میں آجائیں تو ایجنسیاں ان نوجوانوں کو کہتی ہیں کہ تم ان کے ایجنٹ ہو۔

’اس صورتحال کی وجہ سے کئی خاندان کراچی منتقل ہو رہے ہیں جہاں نوجوانوں کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لے رہے ہیں۔ لیکن اب یہاں بھی ایجنسیوں نے ان کے خلاف آپریشن شروع کردیا ہے۔‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاجی کیمپ

اس سے قبل کراچی یونیورسٹی کی کینٹین سے مبینہ طور پر ایک بلوچ طالب علم صغیر بلوچ کو لاپتہ کیا گیا تھا جو شعبہ پولیٹیکل سائنس میں سیکنڈ ایئر کے طالب عالم ہیں۔

ان کی بہن حمیدہ طارق نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کا بھائی 20 نومبر کو یونیورسٹی امتحان دینے گیا تھا۔ ’پرچے کے بعد شام پانچ بجے کے قریب کینٹین میں دوستوں کے ہمراہ کھانا کھانے بیٹھا تھا کہ ایک کرولا گاڑی اور دو موٹر سائیکل پر سوار لوگ آئے اور اسے اپنے ساتھ زبردستی لے گئے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں