’بشریٰ مانیکا نے عمران سے شادی کے پیغام کے جواب کے لیے وقت مانگا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ PTI

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے ترجمان نے ایک وضاحتی بیان میں بتایا ہے کہ پارٹی کے چیئرمین نے بشریٰ مانیکا نامی خاتون کو شادی کا پیغام دیا ہے اور وہ ان کے جواب کے منتظر ہے۔

پی ٹی آئی کے سینٹرل سیکریٹیریٹ کی جانب سے اتوار کی صبح جاری تحریری بیان میں عمران خان کی شادی کو ان کا نجی اور ذاتی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے ’اگر مس مانیکا ان کی شادی کی پیشکش کو قبول کرتی ہیں تو مسٹر خان باقاعدہ طور پر عوام کو اس سے آگاہ کریں گے تب تک ہم میڈیا سے التماس کرتے ہیں کہ وہ دونوں خاندانوں خاص طور پر بچوں کو وقت دیں۔

یہ بھی پڑھیے

پیرانِ سیاست کے پیر

خیال رہے کہ گذشتہ روز دی نیوز اخبار کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عمران خان نے سالِ نو کے موقع پر تیسری شادی کی ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کے کچھ رہنماؤں نے اس کی تردید کی تھی اور کچھ نے فقط یہ کہا تھا کہ شادی عمران خان کا ذاتی معاملہ ہے۔

بیان میں دی نیوز کی خبر پر تاسف کا اظہار کرتے ہوئے اسے قیاس آرائی قرار دیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس خبر میں عمران خان کی ذاتی زندگی اور ایک ایسی خاتون کا ذکر کیا گیا جن کی لائف پبلک نہیں ہے۔

بیان میں یہ تصدیق کی گئی ہے کہ بشری مانیکا کو عمران خان نے شادی کا پیغام دیا ہے اور بشری مانیکا نے ت اپنے خاندان اور بچوں سے مشاورت اور حتمی فیصلے لیے ان سے وقت مانگا ہے۔

عمران خان کے ترجمان نے مطابق میڈیا کی جانب سے اس خبر نے عمران خان اور بشری مانیکا کے بچوں پر ناقابلِ برداشت بوجھ ڈالا ہے۔

پی ٹی آئی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر یہ بھی کہا گیا کہ وہ اس من گھڑت خبر پر جیو نیوز اور جنگ گروپ کے مالک میر خلیل الرحمن کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما کی تیسری شادی کی افواہ پہلی بار سامنے نہیں آئی اس سے پہلے بھی اس قسم کی خبروں کی تردید کی جا چکی ہے۔

عمران خان کی دوسری شادی اینکر پرسن ریحام خان سے سنہ 2014 میں ہوئی تھی۔ اگرچہ یہ شادی کچھ ہی عرصہ چل سکی تاہم اس وقت بھی ابتدا میں ان کی شادی کے بارے میں خبروں کی تصدیق کرنے سے گریز کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Imran khan offical
Image caption عمران خان نے دوسری شادی اینکر پرسن ریحام خان سے سنہ 2014 میں کی تھی تاہم یہ شادی ناکام ثابت ہوئی

عمران خان کے دوسرے نکاح کی خبریں اس وقت سامنے آئی تھیں جب پشاور پبلک سکول پر حملے کے بعد ملک میں سوگ منایا جا رہا تھا اور قوم صدمے سے گزر رہی تھی۔ عمران کی دوسری شادی کی تاریخ پر ایک عرصے تک بحث جاری رہی اور اس بارے میں متضاد دعوئے کیے جاتے رہے۔ ریحام خان اور عمران خان کے درمیان علیحدگی کے وقت بھی اس طرح کی صورت دیکھنے میں آئی۔

خیال رہے کہ پاکستانی میڈیا پر چلنے والی اس خبر میں یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ عمران خان کا اینکر پرسن ریحام خان سے نکاح کروانے والے مفتی سعید نے ہی اس بار بھی ان کے نکاح پڑھانے کا فریضہ سرانجام دیا ہے تاہم بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول سے گفتگو میں مفتی سعید نے یہ کہہ کر فون منقطع کر دیا کہ ’مجھے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عمران خان کی جمائما سے شادی بھی کچھ عرصے تک ہی قائم رہ سکی تھی

گذشتہ روز سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر شیریں مزاری نے لکھا کہ ’یہ چیئرمین پی ٹی آئی کا ذاتی معاملہ ہے کسی اور کا نہیں، کہ وہ کب، کس سے اور کہاں شادی کا فیصلہ کرتے ہیں۔‘

تاہم شیریں مزاری نے ان کی شادی کی خبر کی تردید نہیں کی جس پر ٹوئٹر پر صارفین نے بحث شروع کر دی کہ اگر شادی ہو گئی ہے تو بتانے میں کیا مضائقہ ہے اور لیڈر کی زندگی میں کچھ بھی ذاتی نہیں ہوتا۔

عمران خان کے قریبی ساتھی عون چوہدری نے ٹوئٹر پر اس خبر کی تردید کی اور اسے زرد صحافت پر مبنی خبر کہا ہے۔ انھوں نے اپنی دوسری ٹوئٹ میں لکھا کہ ان کی خواہش ہے کہ عمران خان کی شادی ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

ایک صارف نے لکھا کہ میڈم آپ نے خبر کو تسلیم کرنے کے دوسرے درجے پر ہیں۔

انجینئیر صدام خان نے شیریں مزاری کی ٹوئٹ پر لکھا کہ ’پھر آپ خان کی ذاتی زندگی پر کیوں ٹوئٹ کر رہی ہیں۔‘

تحسین وحید نے لکھا کہ شادی جرم نہیں لیکن چھپ کر شادی کرنے پر بہت سے سوالات اٹھتے ہیں۔

ٹوئٹر پر پرانا پاکستان کے نام ایک صارف نے اس بحث کو کچھ یوں سمیٹنے کی کوشش کی ’مٹھائی لایا ہوں بانٹوں یا رہنے دوں یہ تو بتا دیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter