آخری وقت اشاعت:  Saturday, 11 july, 2009, 13:23 GMT 18:23 PST

سیکس ورکرز کے لیے کراچی میں ورکشاپ

ڈاکٹر غلام مرتضیٰ

ورکشاپ کے آرگنائزر اور جی آر ایچ ایف کے رکن ڈاکٹر غلام مرتضٰی

ایڈز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے خواتین سیکس ورکرز میں محفوظ جنسی طریقے اپنانے کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اے کے تعاون سے کراچی میں اپنی نوعیت کے پہلے تین روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جو سنیچر کو اپنے اختتام کو پہنچی اور اس میں ایک سو سے زیادہ خواتین سیکس ورکرز نے شرکت کی۔

پاکستان میں جسم فروشی پر پابندی ہے تاہم یہ کاروبار غیرقانونی طور پر جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اے اور مقامی غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے منعقد کردہ اس ورکشاپ میں خواتین سیکس ورکرز کو محفوظ جنسی طریقوں سے آگاہی دی گئی۔ ورکشاپ میں شرکت کرنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں اس ورکشاپ میں شرکت کرنے سے پہلے ان طریقوں سے اتنی زیادہ آگاہی نہیں تھی اور یہ ورکشاپ ان کے لیے بہت مفید ثابت ہوا ہے۔

یونائیٹڈ نیشنز پاپولیشن فنڈ یعنی یو این ایف پی اے کے پراجیکٹ افسر ڈاکٹر صفدر کمال پاشا کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پورے پاکستان کے اعداد و شمار تو نہیں ہیں لیکن اس وقت ایک سروے کے مطابق کراچی میں ایک لاکھ سے زیادہ اور لاہور میں پچھتر ہزار خواتین سیکس ورکرز کام کررہی ہیں اور ان میں محفوظ جنسی طریقوں کے بارے میں آگاہی سے ایڈز کے پھیلاؤ میں بڑی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔

جن خواتین سیکس ورکرز نے یہاں محفوظ جنسی طریقوں کے بارے میں آگاہی حاصل کی ہے امید ہے وہ اپنے ساتھ کام کرنے والیوں کو بھی اس بارے میں آگاہی دیں گی۔ اس ورکشاپ کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اگلی ورکشاپ لاہور میں منعقد کی جائے گی۔ڈاکٹر صفدر کمال پاشا

انہوں نے کہا کہ ایک مسلم ملک یعنی بنگلہ دیش میں اس کاروبار کو قانونی تحفظ حاصل ہے لیکن پاکستان میں اسے قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ اس ورکشاپ کو منعقد کرنے سے پہلے یہ خدشات تھے کہ یہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خوف سے سیکس ورکرز اپنے آپ کو ظاہر نہ کرنے کی وجہ سے شرکت نہیں کریں گی۔

ورکشاپ

یہ ورکشاپ کراچی میں مختلف غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے منعقد کی گئی تھی

ان کے بقول اس ورکشاپ کے اختتام پر ایک سو سے زیادہ تعداد میں سیکس ورکرز کی شرکت سے ہماری امیدوں سے بڑھ کر حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن خواتین سیکس ورکرز نے یہاں محفوظ جنسی طریقوں کے بارے میں آگاہی حاصل کی ہے امید ہے وہ اپنے ساتھ کام کرنے والیوں کو بھی اس بارے میں آگاہی دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ورکشاپ کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اگلی ورکشاپ لاہور میں منعقد کی جائے گی اور پھر اسی موضوع پر اگلے برس قومی کنونشن بھی منعقد کرنے کا ارادہ ہے جس میں ملک بھر سے سیکس ورکرز کو مدعو کیا جائے گا۔

یو این ایف پی اے نے یہ ورکشاپ کراچی میں مختلف غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے منعقد کی تھی جس میں سرفہرست جینڈر اینڈ ریپروڈکٹو ہیلتھ فورم یعنی جی آر ایچ ایف ہے، جس کے سربراہ مرزا علیم بیگ کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم سولہ برس سے سیکس ورکرز میں آگاہی اجاگر کرنے کے لیے کام کررہی ہے۔

سیکس ورکر

زیبا رمضان نے آنکھ ہی ریڈلائٹ ایریا میں کھولی

ان کے بقول محفوظ جنسی طریقوں میں میل اور فیمیل کنڈوم کے استعمال اور دیگر مختلف مسائل پر نہ صرف آگاہی دی گئی بلکہ سیکس ورکرز ہی میں سے چند کو ٹرینر کے طور پر تیار کیا گیا ہے جو اپنے ساتھ کام کرنے والیوں کو محفوظ جنسی طریقوں کے بارے میں آگاہی دیں گی تاکہ ایڈز اور دیگر جنسی بیماریوں کے پھیلاؤ کو مسدود کیا جاسکے۔

اس ورکشاپ کے آرگنائزر اور جی آر ایچ ایف کے رکن ڈاکٹر غلام مرتضٰی نے بتایا کہ تین روزہ اس ورکشاپ میں شرکت کرنے کے لیے خواتین سیکس ورکرز کے لیے ایک ہزار روپے یومیہ معاوضے کی ترغیب بھی دی گئی تاکہ وہ زیادہ تعداد میں شرکت کریں۔ ان کے بقول ایڈز کا پھیلاؤ کی بڑی وجوہات انتقالِ خون یا پھر جنسی روابط ہیں اور ان کی تنظیم، اقوامِ متحدہ کے ادارے کے تعاون سے جنسی طریقوں کو محفوظ بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔

نادیہ پانچ سال سے بطور سیکس ورکر کام کررہی ہیں اور ان کے بقول ’اس ورکشاپ میں شرکت کرنے سے انہیں بہت معلومات حاصل ہوئیں ہیں۔ ان کے بقول مجھے پہلی بار پتہ چلا ہے کہ ایسی اشیاء موجود ہیں جو جنسی رابطے کو محفوظ بناتی ہیں جبکہ یہاں ان کا استعمال بھی بتایا گیا ہے۔ میں نے ایڈز کا نام سنا تھا لیکن مجھے یہ نہیں پتہ تھا کہ یہ پھیلتا کس طرح ہے لیکن اس ورکشاپ میں مجھے اس بارے میں کافی معلومات حاصل ہوئیں ہیں اور مجھے یہ ورکشاپ بہت اچھی لگی ہے۔‘

زیبا رمضان نے آنکھ ہی ریڈلائٹ ایریا میں کھولی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک منفرد ورکشاپ ہے جس میں پہلی بار ہمیں ایک فورم پر اکٹھا کیا گیا ہے، ایسے ورکشاپ ہر سال ہونے چاہیے، اس ورکشاپ سے پہلے ہم چھپے ہوئے تھے لیکن اب ہم بھی معاشرے کے سامنے آگئے ہیں اور ہم اپنے بارے میں آواز اٹھانے کے قابل ہوگئے ہیں، اب میں جی آر ایچ ایف تنظیم کی ممبر کی حیثیت سے اعتماد کے ساتھ اپنی اور اپنی برادری کے حقوق کے لیے آواز بلند کر سکتی ہوں‘۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔