آخری وقت اشاعت:  پير 19 اپريل 2010 ,‭ 14:13 GMT 19:13 PST

حکومت کا اصل امتحان قاتلوں تک پہنچنا ہے

پاکستان کی سابقِ وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد حکومت نے عمل درآمد کے لیے جزوی اقدامات شروع کردیے ہیں لیکن حکومت کا اصل امتحان اس رپورٹ کی روشنی میں قاتلوں تک پہنچنا اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔

فائل فوٹو، بینظیر بھٹو لیاقت باغ میں

بینظیر بھٹو کو دسمبر دو ہزار سات میں راولپنڈی کے لیاقت باغ کے باہر خود کش حملے میں ہلا ک کر دیا گیا تھا

جیسا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ حکومت نے دوسری تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے رکھی ہے جو قاتلوں، منصوبہ سازوں اور انہیں سہولیات فراہم کرنے والوں کا تعین کرے گی۔

یہ تحقیقات کب مکمل ہوگی؟ کیا اس دوسری تحقیقاتی ٹیم کو پرویز مشرف اور دیگر ریٹائرڈ اور حاضر سروس افسران کے بیان قلمبند کرے گی؟اس طرح کے کئی سوالات ہیں جن کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔

وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ کے بقول رپورٹ میں غفلت برتنے والے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے افسران کو ’ افسر بکارِ خاص‘ بنا دیا گیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو اچھی بات ہے کہ ان سے جانچ ہونی چاہیے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر اقوام متحدہ کی رپورٹ کی بنا پر پولیس افسران کو معطل کیا گیا ہے تو پھر حاضر سروس فوجی افسران کو معطل کرنے اور ان کے خلاف کارروائی میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟

اس بارے میں ایک ذمہ دار حکومتی شخص کا کہنا ہے کہ بعض فوجی افسران کے خلاف کارروائی کے لیے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی جلد آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے بات کریں گے۔ انہوں نے ’بعض فوجی افسران‘ کے نام تو نہیں بتائے لیکن ظاہر ہے کہ وہ افسر وہی ہیں جن کے نام کمیشن نے اپنی رپورٹ میں لیے ہیں۔

فائل فوٹو، اقوام متحدہ کمیشن

تحقیقاتی کمیشن کے مطابق پاکستانی حکومت کا کام ہے کہ وہ بینظیر بھٹو کے قتل کے ذمہ واران اور منصوبہ سازوں کو کیفر کردار تک پہنچائے

جن حاضر سروس فوجی افسران کا رپورٹ میں ذکر ہے ان میں سرفہرست آئی ایس آئی کے سابقِ سربراہ لیفٹینٹ جنرل ندیم تاج، جو آج کل گجرانوالا کے کور کمانڈر ہیں، سابق سربراہ ملٹری انٹیلی جنس میجر جنرل ندیم اعجاز جو کچھ وقت پہلے تک بہاولپور میں تعینات رہے، وہ پرویز مشرف کی اہلیہ کے قریبی عزیز بھی ہیں۔ آئی ایس آئی کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل نصرت نعیم جو آج کل کراچی میں تعینات ہیں۔ کرنل جہانگیر اختر راولپنڈی میں آئی ایس آئی کے ڈیٹیچمنٹ کمانڈر تھے۔

سابق فوجی افسران میں جنرل (ر) پرویز مشرف، لیفٹینٹ جنرل (ر) حمید گل، بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ اور میجر (ر) امتیاز وغیرہ شامل ہیں۔ رپورٹ میں مجموعی طور پر پرویز مشرف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ انہوں نے مطلوبہ سکیورٹی بینطیر بھٹو کو فراہم نہیں کی۔

مزید یہ کہ جو سکیورٹی سابقِ وزیراعظم کے طور پر شوکت عزیز اور چوہدری شجاعت حسین کو دی گئی تھی اس طرح کی سکیورٹی بینظیر بھٹو کی نہیں دی گئی اور اگر سیکورٹی کے انتظامات بہتر ہوتے تو بینظیر بھٹو بچ سکتی تھیں۔

اس مشورے کے بعد بقول پیپلز پارٹی کے کہ بینظیر نے اپنے بعض ساتھیوں سے کہا تھا کہ ’مجھے پتہ تھا کہ جنرل خوفزدہ کرنے آئے ہیں لیکن میں جلسہ ضرور کروں گی‘۔ اس بارے میں پیپلز پارٹی کے بعض سرکردہ رہنما یہ کہتے رہے ہیں کہ جنرل تاج کا مشورہ ’دھمکی آمیز‘ تھا۔

لیفٹینٹ جنرل ندیم تاج جنہیں پرویز مشرف نے خصوصی طور پر قبل از وقت ترقی دے کر پہلے میجر جنرل اور بعد میں لیفٹینٹ جنرل بنا کر آئی ایس آئی کا سربراہ تعینات کیا، ان کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ بینظیر کے قتل سے قبل ان سے ملے اور انہیں خطرے کے باعث راولپنڈی کا جلسہ نہ کرنے کا مشورہ دیا۔

اس مشورے کے بعد بقول پیپلز پارٹی کے کہ بینظیر نے اپنے بعض ساتھیوں سے کہا تھا کہ ’مجھے پتہ تھا کہ جنرل خوفزدہ کرنے آئے ہیں لیکن میں جلسہ ضرور کروں گی‘۔ اس بارے میں پیپلز پارٹی کے بعض سرکردہ رہنما یہ کہتے رہے ہیں کہ جنرل تاج کا مشورہ ’دھمکی آمیز‘ تھا۔

فائل فوٹو

بعض فوجی افسران کے خلاف کارروائی کے لیے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی جلد آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے بات کریں گے: حکومتی ذرائع

لیکن رپورٹ میں آئی ایس آئی کی جانب سے متوازی تحقیقات شروع کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’کریمنل انویسٹی گیشن‘ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے دائرہ کار میں نہیں آتی۔ اس کے باوجود بھی آئی ایس آئی نے ایسا کیوں کیا؟

شواہد کی چھان بین اور اس میں مداخلت کے حوالے سے بھی آئی ایس آئی کے اختیار اور دلچسپی کے نکات کو بھی وضح کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پرویز مشرف کی ہدایت پر آئی ایس آئی نے بریگیڈئیر (ر) جاوید اقبال چیمہ سے پریس کانفرنس کروائی اور اس میں الزام بیت اللہ محسود پر عائد کیا گیا۔ اس سارے عمل کے دوران آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ندیم تاج تھے۔ انہوں نے بینظیر بھٹو قتل کی جانچ اقوام متحدہ سے کرانےکی بھی مخالفت کی تھی اور بعد میں ان کا تبادلہ ہوگیا تھا۔

جیسا کہ اقوام متحدہ سے جانچ کرانے کا فیصلہ متفقہ طور پر چاروں صوبائی اسمبلیوں اور پارلیمان سے منظور کردہ قراردادوں کے بعد ہوا تھا۔ اس لیے حکومت پر لازم ہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ پارلیمان میں پیش کرکے مشتبہ کرداروں سے پوچھ گچھ کرنی چاہیے۔ ویسے بھی اٹھارہویں ترمیم کی منظوری کے بعد کہا جا رہا ہے کہ پارلیمان با اختیار اور بالادست ہوگئی ہے تو انہیں اپنے بااختیار ہونے کے لیے ’لٹمس ٹیسٹ‘ کے طور پر بینظیر بھٹو کے قتل کا معاملہ لینا چاہیے۔

اس کے ساتھ ساتھ رپورٹ میں ’بیک اپ بلیک مرسیڈیز‘ کا معمہ بھی اپنی جگہ اہم ہے جس میں رحمٰن ملک، بابر اعوان، فرحت اللہ بابر اور لیفٹینٹ جنرل (ر) توقیر ضیاء بیٹھے ہوئے تھے۔ دھماکے کے بعد اس گاڑی کے نہ ہونے پر بھی سوالیہ نشان اٹھائے گئے ہیں۔ اس گاڑی کے غائب ہونے کے متعلق رحمٰن ملک کے متضاد بیان سامنے آتے رہے ہیں۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انہیں بھی معطل کیا جائےگا یا ان سے ان کی ہی بنائی ہوئی تحقیقاتی ٹیم ان سے پوچھ گچھ کرے گی؟

جیسا کہ اقوام متحدہ سے جانچ کرانے کا فیصلہ متفقہ طور پر چاروں صوبائی اسمبلیوں اور پارلیمان سے منظور کردہ قراردادوں کے بعد ہوا تھا۔ اس لیے حکومت پر لازم ہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ پارلیمان میں پیش کرکے مشتبہ کرداروں سے پوچھ گچھ کرنی چاہیے۔

ویسے بھی اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے بعد کہا جا رہا ہے کہ پارلیمان با اختیار اور بالادست ہوگئی ہے تو انہیں اپنے بااختیار ہونے کے لیے ’لٹمس ٹیسٹ‘ کے طور پر بینظیر بھٹو کے قتل کا معاملہ لینا چاہیے۔ اگر ترکی میں حکومت کے خلاف سازش کے الزام میں حاضر سروس فوجی گرفتار ہوسکتے ہیں تو کیا سابق وزیراعظم کے قتل میں اگر کوئی فوجی ملوث ہیں تو کیا ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوسکتی؟

بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ حکومت کو اٹھارہویں ترمیم جیسا اتفاق رائے بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو کٹہرے میں لانے کے لیے بھی پیدا کرنا ہوگا ورنہ کل کسی اور کی باری آسکتی ہے!

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔