آخری وقت اشاعت:  منگل 18 مئ 2010 ,‭ 11:42 GMT 16:42 PST

تاریخ کا جبر، زبان اور تعمیرات بھی شکار

کراچی میں رتن تلاؤ سکول کی عمارت پر بھارت کا ترنگا پرچم، بر صغیر میں ماضی کے مشترکہ ورثے کی یادگار

کراچی شہر میں بہت کم ایسی پرانی عمارتیں ہیں جن پر نظریں آکر رک جاتی ہیں، پریڈی تھانے کے قریب واقعے ’رتن تلاؤ‘ سکول کی عمارت کا شمار بھی انہیں میں کیا جاسکتا ہے۔

عمارت کی بیرونی دیوار پر نظر پڑتے ہی چند لمحوں کے لیے یہ خیال ذہن میں آتا ہے کہ شاید ہم موجودہ ہندوستان کے کسی شہر میں ہیں اور کسی دیش پریمی نے عمارت پر ترنگا بنوایا ہے، مگر جب نظریں آس پاس کا ماحول دیکھتی ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ نہیں یہ تو پاکستان کا شہر کراچی ہے۔

اس عمارت پر ضرب کے نشان بناتے ہوئے بھارتی قومی پرچم سیمنٹ سے بنے ہوئے ہیں، جن کا رنگ برسوں کی دھوپ، بارش اور دھول بھی تبدیل نہیں کرسکے۔ جھنڈوں کے ساتھ ہندی زبان میں کچھ تحریر تھا، معلوم کرنے پر پتہ چلا یہ ’سوراج بھون‘ تحریر ہے۔

عمارت کے داخلی راستے پر سرکاری اسکول کی تختی لگی ہوئی ہے، جب اندر داخل ہوئے تو وہاں موجود، پچاس سالہ دھیمے مزاج کے ہیڈ ماسٹر غلام رسول نے بتایا کہ اس عمارت میں دو شفٹوں میں تین اسکول لگتے ہیں، اندازاً ایک اسکول میں سو کے قریب ہے، جبکہ یہ عمارت متروکہ وقف کی پراپرٹی ہے۔

’میں یہ منظر دیکھ کر حواس باختہ ہوگیا رتن تلاؤ سکول میں آگ کے شعلے میرے وجود میں ابھی تک نہیں بجھ سکے ہیں، میں مہاآتما بدھ کا بھکشو ہوں مگر نروان میرے نصیب میں نہیں‘۔

کالم نگار امر جلیل

وہ عمارت کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے انہیں صرف اتنا علم ہے کہ یہ عمارت انیس سو تینتیس میں تعمیر ہوئی ہے۔ اُس وقت اس علاقے میں صرف ایک ہی اسکول ہوا کرتا تھا، ان کے پاس اسکول کا کوئی پرانا رکارڈ وغیرہ موجود نہیں۔

تین منزلہ عمارت کے ہر فلور پر تین کمرے بن ہوئے تھے جن میں پارٹیشن کرکے مزید کمرے بنا لیےگئے ہیں اور بالائی منزل پر ایک ملازم رہائش پذیر ہے۔

اسکول کے استاد اسلم راجپوت نے بتایا کہ داخلی دروازے کے پاس انہوں نے سنا ہے کہ سنگ بنیاد موجود تھا جو اب زمین میں دب گیا ہے۔

ان کی نشاندھی پر باہر جاکر بیرونی دیوار سے مٹی ہٹائی تو سنگ مرمر کے دو سلیں نظر آئیں جن پر پان کی پیکیں، گریس اور تیل چڑھا ہوا تھا۔ ان پتھروں پر ہندی زبان میں یہ تحریر تھا ’ کراچی ضلع مہاسبھا کے صدر راجندر پرساد نے اس عمارت کا افتتاح کیا‘۔ واضح رہے کہ کراچی ان دنوں میونسل کمیٹی اور ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ میں تقسیم تھا۔ ضلع مہاسبھا یعنی ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ کی حدود اس وقت کراچی سے موجودہ جامشورو اور ٹھٹہ اضلاع تک تھیں۔

سنگ بنیاد کی حالت دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس دور کے لوگ ہی ایک دوسرے کی نفرت کا شکار نہیں ہوئے بلکہ زبان اور تعمیرات بھی اس جبر سے خود کو محفوظ نہیں رکھ سکیں جس کا ثبوت ہندی اور اس دور کی عمارتوں سے لوگوں کی لاتعلقی ہے۔

رتن تلاؤ سکول میں اردو اور سندھی کے نامور کالم نگار اور ڈرامہ نویس امر جلیل بھی زیرتعلیم رہے ہیں، انہوں نے انیس سو بیالیس سے انیس سو چھیالیس تک چار جماعتیں اسی سکول میں پڑھیں۔

رتن تلاؤ سکول کا سنگ بنیاد ، جس پر پان کے پیکوں کے باوجود ہندی زبان میں تاریخ لکھی نظر آرہی ہے۔

گل حسن کلمتی کی کراچی کی تاریخ کے بارے میں لکھی گئی کتاب ’ کراچی سندھ کی ماری ‘ میں امرجلیل لکھتے ہیں کہ انیس سو سینتالیس کی ایک شام کو افواہ پھیل گئی کہ رتن تلاؤ سکول کو آگ لگا دی گئی ہے میں دوڑتا ہوا بندر روڈ موجودہ ایم اے جناح روڈ کراس کرکے گلی سے گزر کر جیسے ہی اسکول کے سامنے پہنچا توسکول کے پہلی منزل سے شعلے بلند ہو رہے تھے اور دھواں اٹھ رہا تھا۔

امر جلیل کہتے ہیں کہ وہ یہ منظر دیکھ کر حواس باختہ ہوگئے ’ رتن تلا سکول میں آگ کے شعلے میرے وجود میں ابھی تک نہیں بجھ سکے ہیں۔ میں مہاآتما بدھ کا بھکشو ہوں مگر نروان میرے نصیب میں نہیں‘۔

کتاب ’’ کراچی سندھ کی ماری “ کے مصنف گل حسن کلمتی لکھتے ہیں کہ جنوری انیس سو سینتالیس کے فسادات میں سب سے زیادہ متاثر رتن تلاؤ کا علاقہ ہوا یہاں چھ جنوری کو دو سکھوں کو قتل کیا گیا۔

بقول ان کے انیس سو پیتنالیس کے تاریخی حادثے نے اس شہر کا حلیہ ہی بگاڑ دیا لاکھوں لوگ تاریخ کے جبر کا شکار ہو کر یہ شہر چھوڑ گئے اس نقل مکانی نے اس شہر کو جو زخم دیئے وہ اب ناسور بن چکے ہیں۔

رتن تلاؤ سکول کی عمارت پر موجود بھارتی پرچم اس وقت کا ہے جب یہ پورا خطہ مشترکہ ہندوستان تھا، دوسرے الفاظ میں یہ پرچم اس خطے کا مشترکہ ورثہ بھی رہ چکا تھا۔

اس اسکول کے آس پاس اور بھی کچھ ایسی عمارتیں دکھائی دیں جو اُس زمانے میں مندر اور دھرم شالا ہوا کرتیں تھیں مگر آج صرف ان کی باقیات موجود ہیں، جو امام بارگاہ اور گاڑیوں کے گیراج میں تبدیل ہوچکی ہیں۔

ایک بڑی اراضی سے ایک کمرے تک محدود ہونے والے ہنومان مندر کے پچھتر سالہ پجاری مہون گائتواڑ رتن تلا کے ماضی اور موجودہ حال کے چشم دید گواہ ہیں وہ بتاتے ہیں کہ یہ مہاراشٹروں اور سکھوں کا علاقہ تھا اور ان کے ننھیال یہاں رہتے تھے۔ ’’ اس وقت مارا ماری ہوئی اور آگ بھی لگائی گئی وہ کلفٹن کے علاقے مںی رہتے تھے وہاں کچھ نہیں ہوا۔

ان کے مطابق موجودہ نبی بخش کالج ، اصل میں سکھوں تھا جبکہ رتن تلا سکول سے دو تین عمارتیں آگے آر بی 11 کے نام سے جو عمارت ہے وہ مراٹھا پنچائت کی جگہ تھی۔ پجاری مہون گائتواڑ کو افسوس ہے کہ اس جائیداد کے کاغذات ان کے پاس سے گم ہوچکے ہیں۔

رتن تلاؤ سکول کی عمارت پر موجود بھارتی پرچم اس وقت کا ہے جب یہ پورا خطہ مشترکہ ہندوستان تھا، دوسرے الفاظ میں یہ پرچم اس خطے کا مشترکہ ورثہ بھی رہ چکا تھا۔

کراچی چیمبرز آف کامرس کی خوبصورت عمارت میں موجود یاددگار سنگ بنیاد کا افتتاح مہاتما گاندھی نے کیا تھا۔ مگر قیام پاکستان کے بعد اس سنگ بنیاد کو غیر ضروری سمجھتے ہوئے نظر انداز کردیا گیا۔ کبھی تو اس پر سیاسی اور اشتہاری پوسٹر لگاکر چھپا دیا جاتا رہا اور بعد میں نئی تعمیر کے وقت باقاعدہ دیوار میں چن دیا گیا۔

جہاں اس طرح کے سنگ بنیاد کی اہمیت نہ ہو وہاں گاندھی کے مجسمے کو کیسے برداشت کیا جاسکتا تھا، سندھ سکریٹریٹ اور اسمبلی کی عمارت کے قریب کبوتر چوک پر لگے ہوئے گاندھی کے کانسی کے یاددگار مجمسے کو بھی تقسیم کے فوری بعد ہٹادیا گیا ۔

رتن تلاؤ سکول کی عمارت پر یہ پرچم اور ہندی تحریر بھی شائد اب تک اس لیے محفوظ نظر آئے کہ یہ تیسری منزل پر ہیں اور پان کی پیکیں اور ڈیزل کے دھبے وہاں تک پہنچ نہیں پائے ۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔