آخری وقت اشاعت:  بدھ 30 جون 2010 ,‭ 15:59 GMT 20:59 PST

سیاستدانوں کی موقع پرستی

پاکستان میں سیاستدانوں پر موقع پرستی کا الزام تو لگتا رہتا ہے لیکن اس اعتبار سے یہ کوئی اتنا غلط بھی نہیں کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کا موقع اور فائدہ دیکھ کر اسے تیزی سے اپنا رہے ہیں۔

کئی متحرک سیاستدانوں نے ناصرف سماجی ویب سائٹ فیس بک کو اپنا موقف واضح کرنے کے لیے استعمال میں لا رہے ہیں بلکہ ٹویٹر بھی ان میں کافی تیزی سے مقبولیت پا رہی ہے۔ ان ویب سائٹس کے ذریعے ان کا خیال ہے کہ وہ عام لوگوں تک بغیر میڈیا کے رسائی پاسکتے ہیں۔

البتہ ان سیاستدان کے ان ویب سائٹس پر آنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ انہیں بھی اپنے مخالفین کے خلاف پروپیگنڈا کے لیے زیادہ اور عام لوگوں کے مسائل کے حل یا ان کی بات سننے کے لیے کم استعمال کر رہے ہیں۔

گورنر پنجاب سلمان تاثیر اس کی بہترین مثال ہیں جو تقریبا روزانہ اپنے ٹویٹس میں صوبائی حکومت کی خیر خبر لیتے رہتے ہیں۔ آج کا تازہ پیغام لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے بار کونسلوں کو سرکاری رقوم کی تقیسم سے متعلق ہے۔ فنڈز کی تقسیم پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے اسے ’واہ شریف کورٹ’ قرار دیا ہے۔

تجزیہ نگار کو تاہم اطمینان ہے کہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ ٹویٹر استعمال نہیں کرتے جس کی وجہ سے انٹرنٹ پر جاری یہ سیاسی جنگ یکطرفہ ہے۔ کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ شاید رانا ثناء اللہ ٹویٹر سیکھ رہے ہیں اور جلد وہ بھی انٹرنٹ پر جوابی حملے کے لیے میدان میں کود سکتے ہیں۔

گورنر پنجاب کے علاوہ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک بھی ٹویٹر پر ہیں۔ ان کے بارے میں کسی نے لکھا ہے کہ ان کا ٹویٹ بھی ان کے ہو بہ ہو بولنے کے انداز جیسا ہوتا ہے۔ اپنے تازہ پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ مذہبی ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عناد پرست عناصر مذہب کو اپنے انتہا پسندانہ عزائم کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ کسی کی جانب سے بلیک بیری اور انٹرنٹ کی بندش کی شکایت پر ان کا جواب تھا کہ یہ شکایات پی ٹی اے کو بھیجیں۔

ان کے علاوہ جو سیاستدان ٹویٹر پر دستیاب ہیں ان میں مسلم لیگ (ق) کے مشاہد حسین سید، ماروی میمن، تحریک انصاف کے عمران خان، کشمالہ طارق اور فاطمہ بھٹو شامل ہیں۔ ان میں فاطمہ بھٹو کو سب سے زیادہ یعنی ساڑھے آٹھ ہزار مداح فالو کر رہے ہیں۔

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف بھی فیس بل کے علاوہ ٹویٹر پر بھی پاکستانیوں کے ساتھ اپنی رابط مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا یہ واقعی ان کا اکاونٹ ہے یا نہیں۔ اس شک کی وجہ اس ٹویٹر کا نام ’پی ایم پاکستان‘ ہونا بتائی جاتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سیاستدان اور کے علاوہ ایک دوسرے کے پیغامات پر بھی نظر رکھتے ہیں جیسے کہ رحمان ملک ماروی میمن کے فالوور ہیں۔ ماروی میمن نے تازہ پیغام میں بتایا کہ انہیں مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی شکار لڑکی کائنات نے فون کرکے مدد مانگی ہے۔ ان کا حکومت پر تنقید کرتے کہنا تھا کہ ایک ’لاقانون’ حکومت میں کوئی کسی کی مدد کیسے کرسکتا ہے۔

خیال ہے کہ اس میڈیا کی افادیت بھانپتے ہوئے بڑی تعداد میں سیاستدان آگے چل کر ٹویٹر کا رخ کریں گے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔