متاثرین کی زندگی میں مجبوریاں بڑھ گئیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان میں گزشتہ سال کے سیلاب سے لگ بھگ دو کروڑ افراد متاثر ہوئے۔ ایک سال پورا ہونے پر بی بی سی کے ظہیرالدین بابر جنوبی پنجاب کے تین متاثرہ علاقوں میں واپس گئے اور وہاں کے متاثرین پر سیلاب کے دور رس اثرات کا احاطہ کیا۔

ڈوبنے والی ماں کی برسی پر سوتیلی ماں کی آمد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ضلع مظفرگڑھ کی بستی ڈیڈھےلال میں سیلاب کے دوران جنت بی بی ایک کمسن بچے کو ڈوبنے سے بچاتے ہوئے چل بسی تھیں۔ ان کے سوگواروں میں شوہر اللہ دتہ اور پانچ نو عمر بچے ہیں۔ سیلاب نے اس خاندان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی ہے۔

ماں کی وفات کے بعد آٹھ سالہ رانی کو گھر سنبھالنا پڑا۔ چودہ سالہ رمضان مزدوری کے لیے شہر سے باہر رہتے ہیں۔ رانی کو ہی تین چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے گھر کا کام کاج کرنا پڑتا ہے۔

جنت بی بی کے شوہر اللہ دتہ نے زمین کا ٹکڑا بیچ کر سیلاب سے متاثر ہونے والے گھر کی مرمت کر لی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ عورت کے بغیر گھر ادھورا ہے اس لیے انہوں نے نئی شادی کا انتظام کر لیا ہے۔

’پندرہ بیس دنوں میں شادی کر لوں گا۔ جس عورت سے شادی کر رہا ہوں وہ بہت اچھی ہے۔ گھر میں چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور ان کی دیکھ بھال عورت کے بغیر ممکن نہیں۔ عورت کے بغیر مرد بھی بے کار ہوتا ہے۔‘

سیلاب کے بعد حکومتِ پنجاب نے اُن خاندانوں کو تین تین لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا تھا جن کے ہاں جانی نقصان ہوا تھا۔ لیکن اللہ دتہ نے بتایا کہ انہیں خصوصی امدادی رقم تو کجا، بیس ہزار روپے والا وطن کارڈ بھی نہیں ملا جو ملک بھر میں تقسیم کیا گیا۔

پردہ مل گیا مگر قرضے بڑھ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

تحصیل صادق آباد میں کوٹ سبزل کی بستی قاسم خان لغاری میں سیلاب ایک انہونی تھی۔ دریائے سندھ سے مشرق میں کوئی نوے کلومیٹر دور یہ بستی صحرائے چولستان کی آغوش میں ہے۔

سیلاب سے بستی کے تقریباً تمام کچے مکانات زمیں بوس ہو گئے۔ بستی کے کاشتکار مکینوں نے ہر ممکن وسائل استعمال کر کے کچی چار دیواریوں کے حصار بنا لیے ہیں تاکہ خواتین کو بےپردگی سے بچا سکیں جس کا سامنا انہیں سیلاب کے بعد کئی ماہ تک دربدری میں کرنا پڑا۔

ستر سالہ مہینوال نے اپنی دس ایکڑ زمین، زندگی میں پہلی دفعہ مستاجری پر دے دی تاکہ اس سے ملنے والی رقم سے چار دیواری کھڑی کر سکیں۔ انہیں اضافی قرضے کا بھی سہارا لینا پڑا اور اب ان کے سر ساڑھے تین لاکھ روپے سے زائد قرض ہے۔ مہینوال کا کہنا ہے کہ انہیں فوری طور پر وطن کارڈ کی ضرورت ہے۔

’حکومت نے وطن کارڈ میں صرف بیس ہزار روپے دیے جس سے آجکل ایک بکری بھی نہیں آتی۔ وہ رقم، سیلاب کے بعد بنیادی ضروریاتِ زندگی پر خرچ ہو گئی۔ اب اگر وطن کارڈ سے اسّی ہزار کی دوسری قسط مل جائے تو قرض کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا یا پھر ہم چار دیواریوں میں کمرے بنا لیں گے۔‘

بستی قاسم خان لغاری کی چار دیواریوں کے حصار کے اندر، صرف صحن ہیں کیونکہ ایک سال میں متاثرین، کمرے تعمیر کرنے کے قابل نہیں ہو سکے۔

آجکل کپاس کی فصل تیار ہو رہی ہے اور مہینوال کے بقول ’اگر قسمت نے ساتھ دیا اور کپاس کی فصل مل گئی تو لوگوں کا سیلاب کے دنوں کا آدھا نقصان پورا ہو جائے گا۔‘

دوبارہ سیلاب کے خوف کی وجہ سے مقامی کاشتکار اچھی فصل کے لیے کھاد اور سپرے ڈالنے کے اخراجات سے گریز کر رہے ہیں۔

کل کے مالک، آج کے ملازم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ضلع لیہ کی تحصیل کروڑ لعل عیسن میں بھی چھوٹے کاشتکاروں پر مشتمل بستی احسن کچا سیلاب سے متاثر ہوئی تھی۔ وہی لوگ زندگی کو کچھ حد تک بحال کر سکے جن کے پاس وسائل تھے۔پانچ ایکڑ کے مالک، ملک نذیر کے بقول، ان کی بستی سیاسی اقرباء پروری کی وجہ سے امداد سے محروم رہ گئی۔

سیلاب کی وجہ سے ازخود کاشتکاری کا پہیہ ٹوٹ گیا اور اب ملک نذیر کے پاس نئی فصل لگانے کے وسائل نہیں۔ ایک سال بعد اپنے خاندان کی صورتحال بتاتے ہوئے وہ اپنے جذبات قابو میں نہ رکھ سکے۔

کپکپاتے ہونٹوں اور بھیگتی آنکھوں کے ساتھ ملک نذیر نے کہا ’ہمارے پاس کچھ ہو تو ہم آگے پاؤں ماریں۔ سیلاب سے پہلے میرے چھوٹے چھوٹے بچے صرف اپنے کھیتوں پر کام کرتے تھے اور گزارہ ہوتا تھا۔ اب وہ دوسروں کے کھیتوں میں چاول لگا رہے ہیں۔ انہیں ملازموں کی طرح دوسروں کی لعن طعن سننی پڑتی ہے اور تھپڑ کھانے پڑتے ہیں۔‘

ضعیف العمر سانول نے بتایا کہ شروع میں انہیں کچھ امداد ملی تھی لیکن مکانات بنانے کے لیے کوئی ان کی مدد کو نہیں آیا۔ ان کے بقول ’ہمارے پاس ایک ایک مویشی بچ گیا تھا جسے دیکھ کر امداد کرنے والوں نے سمجھا کہ ہم خوشحال ہیں اور وہ واپس چلے جاتے تھے۔‘

پاکستان میں سیلاب کے ایک سال بعد بیشتر متاثرین کی زندگیاں آگے بڑھ تو رہی ہیں لیکن مجبوریوں کے ساتھ۔

اسی بارے میں