بارشوں،سیلابی ریلوں سے سندھ اور پنجاب متاثر

سندھ فائل فوٹو
Image caption مسلسل بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے کئی نشیبی علاقوں میں پانی کھڑا ہوگیا ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے زیریں علاقوں میں حالیہ بارشوں سے حکام کے مطابق تئیس لاکھ تیس ہزار لوگ متاثر ہوئے ہیں اُدھر صوبۂ پنجاب میں قصور کے مقام پر دریائے ستلج میں سیلابی ریلے کے باعث دس سے پندرہ دیہات جبکہ سینکڑوں ایکڑ اراضی زیرِ آب آگئی ہے جس کے باعث کھڑی فصلیں برباد ہوگئی ہیں۔

سندھ میں بدین اور ٹنڈو محمد خان کے اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ صوبائی حکومت نے بدین اور ٹنڈو محمد خان کے اضلاع کی تمام جبکہ میرپورخاص کی چوبیس اور تھرپارکر کی تین یونین کونسلوں کو آفت زدہ قرار دیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بدین میں پندرہ لاکھ، ٹنڈو محمد خان میں چھ لاکھ میرپورخاص میں دو لاکھ اور تھرپارکر میں تیس ہزار لوگ متاثر ہیں، تاہم ان میں سے چند ہزار ہی سرکاری کیمپوں میں منتقل کیے گئے ہیں۔

ضلع بدین کے ایک افسر دادلو زہرانی نے بی بی سی کو بتایا کہ بدین میں پندرہ لاکھ افراد بالواسطہ یا بلاواسطہ متاثر ہوئے ہیں۔’متاثرین میں سے کسی کا گھر گر گیا ہے یا کسی کی زمین زیر آب آگئی ہے، متاثرین کے لیے 144 کیمپ لگائے گئے ہیں، جن میں چالیس ہزار لوگ موجود ہیں‘۔

بدین اور میرپورخاص کا اکثر علاقہ ایل بی او ڈی کے سیم نالے میں شگاف پڑنے سے زیر آب آیا ہے، صرف بدین میں ایل بی او ڈی اور دیگر برانچوں میں چالیس سے زیادہ شگاف پڑے ہیں اور یہ شگاف اب تک بند نہیں کیے جا سکے ہیں۔

بدین کے قصبوں پنگریو، کڑیو گھنور، کڈھن اور کھور واہ پانی کے گھیرے میں ہیں جبکہ تمام مواصلاتی نظام درہم برہم ہوچکا ہے۔ دیہی علاقوں کی جانب جانے والی سڑکیں پانی میں بہہ گئی ہیں۔

بدین سے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کے بدین ، ٹنڈو محمد خان اور میرپور خاص کے سات لاکھ کے قریب لوگ سیلابی ریلوں سے متاثر ہوئے ہیں ان میں اکثریت کا تعلق بدین سے ہے۔

حلومت کی جانب سے قائم کردہ ایک سو چوالیس کیمپوں میں پناہ لینے والے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔ بہت سے لوگ اپنے طور پر سرکاری عمارتوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں جبکہ زیادہ تر کھلے آسمان تلے سڑکوں پر موجود ہیں۔

ان علاقوں میں تاحال حکومت یاغیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے ریسکیو کا کام نظر نہیں آ رہا تاہم پاکستان نیوی کے اہلکار بعض مقامات پر ریسکیو کا کام کر رہے ہیں۔

بعض مقامات سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ حکومت کی جانب سے بعض خوردنی اشیاء تقسیم کی ہیں جن میں آٹا اور دالیں شامل ہیں۔

ریاض سہیل نے مزید بتایا کہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے بدین ضلع کے متاثرین کی ایک بڑی تعداد قریبی ضلع تھر پارکر منتقل ہو چکی ہے جہاں انہوں نے اونچے ٹیلوں پر پناہ لے رکھی ہے۔ان لوگوں کے ہمراہ ان کے مال مویشی بھی موجود ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی نظام بھی بحال نہیں ہوسکا۔

Image caption سید قائم علی شاہ نے اعلان کیا کہ شہر ٹنڈو محمد خان کی از سر نو تعمیر کی جائیگی

پنگریو کے قریبی گاؤں محمد ملوک جت کے رہائشی حبیب جت نے ٹیلیفون پر بی بی سی کو بتایا کہ ان کا گاؤں مکمل طور پر زیر آب آگیا ہے اور نصف مکانات منہدم ہوچکے ہیں۔ ان کے مطابق کچھ لوگ آس پاس کے اسکولوں میں منتقل ہوگئے ہیں اور بعض نے سڑکوں پر کھلے آسمان کے نیچے ڈیرے ڈالے ہیں۔

’خیمے یا کھانے پینے کا کوئی بندوبست نہیں، پینے کا پانی بھی ناقابل استعمال ہے مگر مجبوری میں استعمال کر رہے ہیں۔‘

ضلع بدین کے افسر دادلو زہرانی کا کہنا تھا کہ جس پیمانے پر تباہ کاریاں ہوئی ہیں اس میں لوگوں کی شکایت تو آئیں گی مگر انتظامیہ اپنے طور پر لوگوں کو ریلیف پہنچانے میں مصروف ہے۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے پیر کو بدین اور ٹنڈو محمد خان کا فضائی دورہ کیا۔ ٹنڈو محمد خان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے چھ لاکھ آبادی پر مشتمل ٹنڈو محمد خان کو آفت زدہ قرار دیا اور کہا کہ یہاں تاریخی تباہی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کوشش کی جائیگی کہ متاثرینِ سیلاب کی شکایت دور کی جائیں اور انہیں ریلیف کی رسائی ممکن ہو۔ سید قائم علی شاہ نے اعلان کیا کہ شہر ٹنڈو محمد خان کی از سر نو تعمیر کی جائیگی۔

ان کے ساتھ موجود وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت متاثرین کی بحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی تاکہ لوگ ان تکالیف سے نکل سکیں، انہوں نے زرعی ترقیاتی بینک کو ہدایت کی کہ متاثرین کو بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں۔

پنجاب

صوبۂ پنجاب کے ضلع قصور میں واقع دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ کے مقام پر تقریباً چھیالیس ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے اور ستّر ہزار کیوسک کا ریلا گنڈا سنگھ کے مقام سے گزرے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دریائے ستلج میں سیلابی ریلا سے سینکڑوں ایکڑ اراضی اور دس سے پندرہ دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں

حکام کے مطابق، گزشتہ پندرہ سال میں یہ سب سے بڑا سیلابی ریلا ہوگا جس کی وجہ سے ضلع کے تمام افسران اور ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔

قصور کے ضلعی رابطہ افسر یعنی ڈی سی او سید ارشاد حسین شاہ نے بی بی سی اردو کے عباد الحق کو بتایا ہے کہ درمیانے درجہ کا سیلابی ریلا کم از کم اسی ہزار کیوسک سے شروع ہوتا ہے جبکہ اس وقت نچلے درجے کے سیلابی ریلے سے بھی کم پانی گزر رہا ہے۔

ڈی سی او قصور کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ کے مقام پر جو ریلا گزر رہا ہے اس سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا تاہم بقول ان کے کسی بھی ہنگامی صورت سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے مکمل تیاری کرلی ہے۔

سید ارشاد حسین شاہ نے بتایاکہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے زیریں علاقے میں رہنے والے لوگوں کو سیلابی ریلے کے بارے میں خبردار کیا تھا تاہم بقول ان کے نچلے درجے کا سیلابی ریلا ہونے کی وجہ سے نشیبی علاقوں میں رہنے والے انتہائی کم لوگوں نےعارضی طور پر نقل مکانی کی تھی۔

ڈی سی او قصور کے مطابق علاقے کے بڑے دیہات محفوظ ہیں اور وہاں سے لوگوں نے کوئی نقل مکانی نہیں کی۔

مقامی صحافی احتشام شامی نے بی بی سی کو بتایا ہےکہ دریائے ستلج میں سیلابی ریلا گزرنے کے باعث سینکڑوں ایکڑ اراضی اور دس سے پندرہ دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں۔ سیلابی پانی کے باعث سینکڑوں ایکڑ پر کاشت کی گئی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔

زیرِآب آنے والے دیہاتوں میں بھکی ونڈ، کلنجر، مبوکے، رنگے والا، رتنے والا، تھٹی فرید، بستی بھنگا، کتلوہی، وزیرپور، وغیرہ شامل ہیں۔ سیلابی ریلے کے باعث ضلعی انتظامیہ نے تلوار پوسٹ پر متاثرین کے لیے کیمپ لگا دیے ہیں۔

اسی بارے میں