ساتھی کے قتل کے خلاف صحافیوں کا واک آؤٹ

Image caption بلوچستان میں گذشتہ تین سال کے دوران تیرہ صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے خضدار کے صحافی مینر احمد شاکر کے قتل کے خلاف صحافیوں نے منگل کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس سے واک آوٹ کیا۔

صحافیوں نے اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور منیراحمد شاکر سمیت دیگر صحافیوں کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق منگل کے روز اسپیکر اسلم بھوتانی کی صدارت میں ہونے والے صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کی اپیل پر صحافیوں نے اجلاس سے واک آوٹ کیا۔

صحافیوں نے منہ اور بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اس موقع پر صحافیوں نے پلے کارڈ ز اور سیاہ جھنڈے بھی اٹھا رکھے تھے۔

بعد میں صوبائی وزیرِ صحت عین اللہ شمس، وزیرِ کھیل و ثقافت میر شاہنواز مری، وزیرِ معدنیات عبدالرحمن مینگل اور وزیرِ فشریز حمل کلمتی پر مشتمل حکومتی وفد صحافیوں سے مذاکرات کے لیے پہنچ گئے۔

اس موقع پر بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر محمد عیسی ترین کی قیادت میں صحافیوں نے منیر احمد شاکر کے بہیمانہ قتل کی مذمت کرتے ہوئے حکومتی وفد کو بتایا کہ خضدار میں صحافی کے قتل کا یہ چوتھا واقعہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج تک نہ تو کسی صحافی کے قتل کی تحقیقات ہوئی ہیں اور نہ ہی حکومت کی جانب سے ان کے ورثاء کے لیے کسی قسم کے مالی معاوضے کا اعلان کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحافی بلوچستان کے موجودہ حالات میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں لیکن حکومتی سطح پر انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے کسی قسم کے ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔

صحافیوں نے وزراء کو بتایا کہ صوبائی حکومت نے صحافیوں کے قاتلوں کی گرفتاری اور تحقیقات تو درکنار آج تک کسی حکومتی نمائندے نے منیر احمد شاکر سمیت کسی بھی صحافی کے قتل پر مذمتی بیان تک جاری نہیں کیا جو قابلِ مذمت عمل بھی ہے۔

صوبائی وزراء کے وفد نے صحافیوں کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے منیر احمد شاکر کے قتل کی مذمت کی اور کہا کہ امن دشمن عناصر کی جانب سے ہر ایک کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

وزراء کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے وزیرِاعلیٰ، گورنر اور صوبائی وزراء پر حملے کیے یہاں تک کہ وزیرِاعلیٰ کے بھتیجے کو قتل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مزدور اور بےگناہ شہریوں کو بھی قتل کیا جا رہا ہے لیکن حکومت غافل نہیں ہے اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہرممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

انہوں نے صحافیوں کو یقین دہانی کرائی کہ منیر احمد شاکر کے قتل کی تحقیقات کرائی جائیں گی کیونکہ یہ پولیس اور انتظامیہ کی غفلت کا نتیجہ ہے۔

صوبائی وزراء کے وفد کی یقین دہانی کے بعد صحافی اپنا احتجاج ختم کر کے دوبارہ اسمبلی کے اجلاس کی کوریج کے لیے چلےگئے۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں گذشتہ تین سال کے دوران تیرہ صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے جبکہ اتنی ہی تعداد میں زخمی بھی ہوچکے ہیں جن میں سے اکثریت خوف اور عدم تحفظ کے باعث صوبہ سے نقل مقانی کرنے پر مجبور چکی ہے۔

اسی بارے میں