’چھاپوں کا مقصد مجھے ہلاک کروانا ہے‘

میرہمایوں مری تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption میرہمایوں مری صوبہ بلوچستان کے سابق وزیراعلی اور سابق ڈپٹی چیرمین سینٹ ہیں۔

بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ اور سابق ڈپٹی چیرمین سینیٹ میر ہمایوں مری نےکہا ہے کہ ان کے گھر پر سیکورٹی فورسز کے چھاپے انہیں فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک کرنے کے لیے ہیں جس میں صوبائی حکومت برابر کی شریک ہے۔

میر ہمایوں مری نے سیکورٹی فورسز کی جانب سے ان کے گھر پر دوبارہ چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میان غنڈی میں واقع ان کے گھر پر سیکورٹی فورسز کی جانب سے دوبارہ چھاپے کامقصد انہیں فائرنگ کے تبادلے میں مارنا تھا جو ممکن نہیں ہوسکا۔‘

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق میر ہمایوں مری نے کہا کہ ’میرے پاس لائسنس یافتہ اسلحہ تھا جس سے آج تک میں نے کوئی فائر بھی نہیں کیا ہے اور نہ ہی کبھی اسے اپنے ساتھ لے کرگھومتا ہوں۔‘

’بلوچستان میں اب ڈنڈا استعمال کریں گے‘

بلوچستان: ’دہشتگرد‘ تنظیموں پر پابندی

منگل کی شام کو کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اس سازش میں صوبائی حکومت برابر کی شریک ہے کیونکہ سیکورٹی فورسزصوبائی حکومت کی رضامندی سے ہی کارروائیاں کرتی ہیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’یہ طاقتور لوگ ہیں اور دن دھاڑے نہ صرف ہمارے گھروں میں داخل ہو رہے ہیں بلکہ عام لوگوں کو بھی قتل کر کے ان کی لاشیں پھینک رہے ہیں لیکن کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں ہے۔‘

سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ تیرہ اگست کو سیکورٹی فورسز کے اہلکار ان کے ایک چوکیدار کو پکڑ کر ساتھ لے گئے تھے اور پیر کی رات شاید مزید لوگوں کی گرفتاری کی نیت سے آئے ہوں اور گھر میں جو کچھ بچا ہوا تھا وہ بھی ساتھ لےگئے ہیں۔

ان کا الزام تھا کہ اس سے قبل تیرہ اگست کو وہ نہ صرف ان کا تمام لائسنس یافتہ اسلحہ ساتھ لے گئے تھے بلکہ بارودی مواد اور بم وغیرہ کو ایک ٹیبل پر رکھ کرصحافیوں کو بھی دکھایاگیا تھا اور تاثر دیاگیا کہ ’یہ بلوچستان میں دہشت گردوں کا سب سے بڑا اڈہ ہے۔‘

میرہمایوں مری نے کہا کہ انہیں اور بلوچ قوم پرست رہنماء نواب اکبربگٹی کے صاحبزادے جمیل اکبر بگٹی کو ان ہتکھنڈوں کے باعث پاکستان چھوڑنے پر مجبورکیا جا رہا ہے لیکن وہ یہاں سے کہیں نہیں جائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں میر ہمایوں مری نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں حکومت سے کوئی مطالبہ نہیں کریں گے اور نہ انہیں حکومت سے خیر کی توقع ہے۔ البتہ وہ ان چھاپوں کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ سے ضرور رجوع کریں گے۔

ِخیال رہے کہ سیکورٹی فورسز نے تیرہ اگست کی صبح کوئٹہ کے نواحی علاقے میان غنڈی میں واقع سابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر ہمایوں مری اور نوابزادہ جمیل اکبر کے گھر پر چھاپہ مارا تھا۔ چھاپے کے دوران سیکورٹی فورسز نے میر ہمایوں مری کے گھر سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا تھا تاہم میر ہمایوں مری کا الزام ہے کہ سیکورٹی فورسز نے انہیں بدنام کرنے کے لیے برآمد ہونے والا اسلحہ خود ساتھ لا کر وہاں سب کے سامنے پیش کیا تھا۔

اسی بارے میں