’خصوصی اور فوری اقدامات کی ضرورت‘

فائل فوٹو، تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بدھ کا اجلاس دفاعی کمیٹی کے ایبٹ آباد واقع کے بعد کمیٹی کے باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرنے کے فیصلے کے تحت ہوا ہے

پاکستان میں دفاعی امور سے متعلق وفاقی کابینہ کی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ شدت پسندی اور انتہا پسندی پر قابو پایا جا سکے۔

بدھ کو اسلام آباد میں وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں کمیٹی کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔

نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق سینئر وزیر چوہدری پرویز الہی، خارجہ، داخلہ اور دفاع کے وزراء کے علاوہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے اجلاس میں شرکت کی۔

کمیٹی نے نوجوان نسل کو شدت پسندی سے بچانے اور پرامن زندگی کی جانب لانے کے لیے انتہا پسندی کے خاتمے کے پروگرام کو خصوصی توجہ دینے کا فیصلہ کیا۔

کمیٹی نے وزارت داخلہ کو فوری طور پر ملک میں جرائم کا ریکارڈ مرتب کرنے کے لیے ڈیٹا بیس تیار کرنے کا حکم دیا۔

کراچی کی صورتحال پر فوج کی تشویش

یاد رہے کہ چند روز قبل جنرل اشفاق پرویز کیانی کی صدارت میں ہونے والے کور کمانڈر اجلاس میں کراچی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

اس تناظر میں بظاہر بدھ کے اجلاس کی توجہ کا مرکز داخلی سیکورٹی تھی اور اس بابت وزارتِ داخلہ نے کمیٹی کو داخلی سیکورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا۔

اس موقع پر وزیر اعظم نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ انہوں نے بلوچستان حکومت کو بلوچستان کی تمام سیاسی قیادت سے رابطوں کو مرکزی سیاسی دھارے میں لانے کی ہدایت کی ہے۔

اس سے قبل وزیر اعلیٰ بلوچستان شکایت کر چکے ہیں کہ ان کے پاس بلوچ مزاحمت کاروں سے رابطے کا مینڈیٹ ہی نہیں ہے۔

اجلاس میں آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل پاشا بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ریاست کے تمام اداروں خصوصاً خفیہ اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مشاورت، رابطہ اور تعاون قومی سلامتی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ان کی حکومت کی خواہش ہے کہ تمام ریاستی ادارے قومی مفادات کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ملک اس وقت مشکل وقت سے گزر رہا ہے اور انصاف کے نظام سے متعلق مسائل نے عوام کی زندگی بری طرح متاثر کی ہے۔

انہوں نے اس بابت انصاف کے نظام کے مسائل کو جامع انداز میں حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

بدھ کا اجلاس دفاعی کمیٹی کے ایبٹ آباد واقع کے بعد کمیٹی کے باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرنے کے فیصلے کے تحت ہوا ہے۔

اسی بارے میں