پراسرار طور پر ہلاکت کے بعد سپردخاک

چند دن قبل عدالت کے حکم پر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے رہائی پانے کے بعد لاپتہ ہوجانے والے شخص محمد عامر کی پشاور کے ایک ہسپتال میں پراسرار طور پر ہلاکت کے بعد انھیں سپردخاک کردیا گیا ہے جبکہ مرنے والے شخص کے ورثاء کی جانب سے بار بار درخواستوں کے باوجود بھی میت کی پوسٹ مارٹم نہیں کرائی جاسکی۔

بی بی سی اردو کےنامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق لیڈی ریڈنگ ہپستال کے انچارج ڈاکٹر رحیم جان آفریدی کا کہنا ہے کہ کسی میت کا پوسٹ مارٹم اس صورت میں ہوتا ہے جب ہلاکت یا قتل کی ایف آئی ار پہلے سے درج ہو جبکہ محمد عامر کے کیس میں پولیس کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں تھا۔

محمد عامر کے بھائی محمد بلال نے بی بی سی کو بتایا کہ تقریباً ایک سال قبل ان کے بھائی کو حساس اداروں نے دہشت گردی کے الزامات کے تحت گھر سے اٹھا لیا تھا۔

انہوں نے کہا دو دن پہلے انھیں اچانک اطلاع دی گئی کہ ان کے بھائی کی حالت تشویش ناک ہے اور وہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور آکر ان سے مل لیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب وہ ہسپتال پہنچے تو وہاں ان کے بھائی محمد عامر کی لاش پڑی ہوئی تھی حالانکہ یہ خبر ان کےلیے انتہائی ہلا دینے والی اور ایک صدمے سے کم نہیں تھی کیونکہ انھیں معلوم نہیں تھا کہ ان کے بھائی پہلے ہی مرچکے ہیں۔

بلال کے مطابق ہسپتال میں انھیں بتایا گیا کہ محمد عامر کی ہلاکت دست اور گردوں کے فیل ہونے سے ہوئی ہے حالانکہ ان کے بقول ان کے جسم پر تشدد کے نشانات دیکھ کر صاف لگ رہا تھا قتل کی وجہ کوئی اور ہے یا اسے ایسی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا جب وہ قریب المرگ تھا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی بار بار درخواستوں کے باوجود بھی ہپستال انتظامیہ میت کا پوسٹ مارٹم کرانے پر تیار نہیں تھے جبکہ پولیس کی طرف سے بھی کسی قسم کا کوئی تعاون نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ لاش کئی گھنٹوں تک لیڈی ریڈنگ ہپستال کی کار پارکنگ میں پڑی رہی اور جو لوگ اسے لائے تھے وہ بھی وہاں سے فرار ہوگئے اور پھر انہوں نے مجبوراًۙ گزشتہ روز راولپنڈی میں لاش کی تدفین کردی ۔

احمد بلال کا کہنا تھا کہ وہ اس لئے پوسٹ مارٹم پر زور دے رہا تھا کیونکہ کم سے کم یہ تو معلوم ہو سکے کہ اسکے بھائی کی ہلاکت کی وجہ کیا تھی۔

انہوں نے کہا کہ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں نے محمد عامر کی ہلاکت کی وجہ دست اور گردوں کے فیل ہونا بتائی ہے۔

خیال رہے کہ محمد عامر کا تعلق راولپنڈی سے تھا اور وہ پیشے کے اعتبار سے ڈینٹل ٹیکنیشن تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ جی ایچ کیو پر حملے میں ملوث تھے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالت نے چند دن قبل ہی انھیں عدم ثبوت کی بناء پر اڈیالہ جیل راولپنڈی سے رہا کردیا تھا تاہم رہائی کے بعد وہ دیگر گیارہ افراد کے ہمراہ پراسرار طورپر لاپتہ ہوگئے تھے۔