وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سربراہ مستعفی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت کو استعفے کی دھمکی نہ دی جائے

وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے سربراہ تحسین انور شاہ نے نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ کے مقدمے کی بدھ کو سپریم کورٹ میں سماعت کے بعد اپنا استعفیٰ وزارتِ داخلہ کو بھیج دیا ہے۔

قبل ازیں تحسین انور شاہ نے این ایل سی مقدمے کی سماعت کے دوران اپنا استعفی سپریم کورٹ کو پیش کیا تھا۔

عدالت نے تحسین انور شاہ کی طرف سے استعفی پیش کیے جانے پر کہا تھا کہ وہ عدالت کو استعفی کی دھمکی نہ دیں اور اگر استعفی دینا ہی ہے تو مجاز اتھارٹی کو دیا جائے۔

تحسین انور شاہ نے اپنا استعفی سپریم کورٹ کی طرف سے ان کے ماتحت کو این ایل سی مقدمے کی تحقیقات سونپنے جانے اور انھیں ان تحقیقات میں اس جونیئر کے ماتحت کام کرنے کے حکم پر دیا تھا۔

وزارتِ داخلہ نے بدھ کی شام تک تحسین انور شاہ کے استعفے کے بارے میں کچھ نہیں کہا تھا اور تحسین انور شاہ سے بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا۔ ان کے استعفی کی خبر کی وزارتِ داخلہ کے ذرائع غیر سرکاری پر تصدیق کر رہے تھے۔

عدالت عظمٰی نے منگل کے روز اپنے حکم میں ڈی جی ایف آئی اے کو ہدایت کی تھی کہ وہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ظفر قریشی کی سربراہی میں این آئی سی ایل کے مقدمے کی تفتیشی ٹیم کا حصہ بنیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم کے باوجود ظفر قریشی کے ساتھ تعاون نہ کرنے والے افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودہدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جب اس مقدمے کی تفتیش ظفر قریشی کو سونپنے سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت شروع کی تو ڈی جی ایف آئی اے تحسین انور شاہ نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے کے رولز کے مطابق اس محکمے کا سربراہ ایک ہی ہوتا ہے اور اُس کو کسی طور پر بھی کسی جونئیر کے ماتحت نہیں کیا جاسکتا۔

اُنہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا نہیں کرسکتے اور اُنہوں نے اپنا استعفی بھی عدالت میں پیش کردیا جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت کو استعفے کی دھمکی نہ دی جائے اور اگر ڈی جی ایف آئی اے نے اپنا استعفی پیش کرنا ہے تو وہ مجاز اتھارٹی کو پیش کریں۔

عدالت کے حکم پر این آئی سی ایل لینڈ سکینڈل کے مقدمے سے متعلق تمام فائلیں ظفر قریشی کو پیش کردی گئیں۔ چیف جسٹس نے تفتیشی ٹیم کے ارکان سے پوچھا کہ اگر اُن پر کسی قسم کا دباؤ ہے تو وہ چیمبر میں آکر بتاسکتے ہیں۔ اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم کے ارکان نے عدالت کو بتایا کہ اُن پر اس مقدمے کی تفتیش سے متعلق کوئی دباؤ نہیں ہے۔

اس تفتیشی ٹیم کے ارکان چھٹیوں پر تھے تاہم گُزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے اُن کی چھٹیاں منسوخ کرتے ہوئے اُنہیں اس مقدمے کی تفتیش جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔

ایف آئی اے کے لاہور آفس میں بم کی افواہ سے متعلق ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور وقار حیدر نے عدالت کو بتایا کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر سکیورٹی عماد خواجہ نے بم کی افواہ کے بارے میں اطلاع دی تھی جس پر عماد خواجہ کھڑے ہوگئے اور اُنہوں نے عدالت کو بتایا کہ اُنہیں وقار حیدر نے ایسا کرنے کے بارے میں کہا تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور نے اُنہیں بتایا کہ اُن پر بہت زیادہ دباؤ ہے کہ ظفر قریشی کو کسی طور پر بھی لاہور آفس میں نہیں گھسنے دینا۔ عماد خواجہ کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے وقار حیدر کو عدالتی احکامات کے بارے میں بتایا تھا تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کی حالت میں جب کوئی حکم دیا جائے تو پہلے اُس پر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر سکیورٹی کا کہنا تھا کہ ا؛نہوں نے ڈائریکٹر لاہور کے کہنے پر اس مقدمے کے تفتیشی افسر ظفر قریشی کو دفتر میں بم کی افواہ سے متعلق فون پر اطلاع دی تھی اور کہا تھا کہ وہ آفس میں نہ آئیں۔

چیف جسٹس نے عماد خواجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ سے متعلق مقدمہ درج کیا جاچکا ہے اور وہ پولیس کو بھی بیان ریکارڈ کرواسکتے ہیں۔

اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے سینئیر وفاقی وزیر چوہدری پرویز الہی کے صاحبزادے اور پنجاب اسمبلی کے رکن مونس الہی کی طرف سے بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے اور اُنہوں نے کہا کہ چوہدری برادران کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے ظفر قریشی متنازعہ بن چکےہیں لہذا اُنہیں اس مقدمے کی تفتیش سے الگ کیا جائے ۔ اُنہوں نے کہا کہ اُنہیں ظفر قریشی کے علاوہ پوری تفتیشی ٹیم پر اعتماد ہے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جب یہ معاملہ زیر سماعت آئے گا تو اُس وقت دیکھیں گے۔ عدالت نے اس مقدمے کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی۔

اسی بارے میں