مستونگ: چار مسخ شدہ لاشیں برآمد

فائل فوٹو، تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بلوچستان میں لاپتہ افراد اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کے خلاف کئی بار احتجاج ہو چکا ہے

پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان کے علاقے مستونگ سے چار مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں جن کی شناخت بلوچ مزاحمت کاروں کے طور پر کر لی گئی ہے۔

نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق مستونگ کے علاقے لک پاس کے قریب نیم فوجی دستے لیویز کے اہلکاروں کو دوران گشت جمعرات کی علی الصبح چار مسخ شدہ لاشیں ملیں۔

مسخ شدہ لاشیں، غم زدہ لواحقین

’بلوچستان میں قتل کا نوٹس لیں‘

ذرائع کے مطابق لاشوں کو شناخت کے لیے مستونگ ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کی شناخت محمود بلوچ، طارق بلوچ، حمید بنگلزئی اور لطیف بنگلزئی کے طور پر کر لی گئی۔

ان چاروں افراد کا تعلق بلوچ علیحدگی پسند گروہ بی ایس او آزاد کے ارکان سے بتایا جاتا ہے۔ محمود بلوچ اور طارق بلوچ کو تین روز قبل مستونگ سے لاپتہ ہوئے تھے۔ جبکہ حمید بنگلزئی اور لطیف بنگلزئی کو ایک ہفتے پہلے مستونگ سے ہی اغواء کیا گیا تھا۔

اسی دوران تحصیل دار مستونگ جاوید بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ دشت کے علاقے سے تین مزید لاشوں کے بازیاب ہونے کی اطلاع ہے۔ جاوید بلوچ نے بتایا کہ ابھی تک متعلقہ اہلکار اس علاقے تک پہنچ نہیں پائے ہیں اور لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔

واضح رہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں اکثر مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں اور ان واقعات کے خلاف بلوچ قوم پرست جماعتیں متعدد بار احتجاج اور شٹر ڈاؤن ہڑتال بھی کر چکی ہیں۔

اس سے پہلے بدھ کو صوبہ بلوچستان میں زیادہ تر بلوچ قوم پرست رہنماؤں نے صدرِ مملکت کی جانب سے صوبائی حکومت کو دیے جانے والے ان اختیارات کو مسترد کر دیا ہے جس کے تحت صوبائی حکومت ناراض بلوچوں کو منانے کی کوشش کرے گی۔

بلوچ قوم پرستوں کے مطابق مذاکرات سے قبل بلوچستان میں آپریشن اور لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کا سلسلہ روک دیا جائے۔

اسی بارے میں