کراچی: چوہتر ہلاکتوں کے بعد پرتشدد واقعات میں کمی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کراچی میں چار روز تک جاری رہنے والے پرتشدد واقعات میں چوہتر ہلاکتوں کے بعد اتوار کو ان واقعات میں کمی آئی ہے تاہم کئی علاقوں میں اب بھی تناؤ کی کیفیت برقرار ہے۔

جن علاقوں میں تناؤ کی کیفیت برقرار ہے ان میں لیاری، اورنگی ٹاؤن، کورنگی ٹاؤن، ملیر اور ناظم آباد کے چند علاقے شامل ہیں۔

اس سے پہلے سنیچر کو پرتشدد واقعات میں مزید سات افراد ہلاک ہو گئے اور اس طرح بدھ کی صبح سے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب تک ہلاکتوں کی تعداد چوہتر ہوگئی۔

سنیچر کو تشدد کے ایک تازہ ترین واقعے میں محمود آباد کے علاقے چنیسر گوٹھ میں دو مسلح گروہوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دس اور بارہ سال کے دو بچے ہلاک ہو گئے۔

کراچی میں پولیس پر حملہ، تصاویر

کراچی پرامن ہے ماسوائے کورنگی: رحمان ملک

کہانی ایک پہاڑ پر بسے دو خاندانوں کی

اس سے پہلے جمعہ کو ایک بس پر فائرنگ کی گئی تھی جس میں پچاس کے قریب سادہ لباس میں پولیس اہلکار سوار تھے۔ فائرنگ کے نتیجہ میں چار پولیس اہلکار ہلاک جبکہ اٹھائیس زخمی ہوگئے تھے۔

ہفتہ کو پولیس کے مطابق اورنگی ٹاؤن، کھوکراپار اور جوہرآباد کے علاقوں میں فائرنگ کے واقعات پیش آئے جن میں ہلاکتیں ہوئیں۔

کراچی میں جمعہ کی شام بھی تشدد کے واقعات جاری تھے جن میں چار پولیس اہلکاروں سمیت تئیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

کراچی میں جمعہ کی رات کورنگی ڈھائی نمبر پر ایک وین پر فائرنگ میں چار پولیس اہلکار ہلاک اور اٹھائیس زخمی ہوئے تھے۔ اطلاعات ہیں کہ سادہ لباس میں پولیس کے پچاس کے قریب اہلکار ایک نجی وین میں سفر کر رہے تھے کہ نامعلوم افراد نے وین کو روک کر اس پر چاروں اطراف سے فائرنگ کر دی۔ پولیس کی جوابی فائرنگ میں دو حملہ آور بھی ہلاک ہوئے۔

پولیس کے سربراہ سعود مرزا نے بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والے اہلکار ایلیٹ فورس کے اہلکار تھے جو ڈی ایس پی بدر شاہ کی قیادت میں جا رہے تھے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان اہلکاروں کو تھانے جا کر رہنا تھا اس لیے وہ سول ڈریس میں تھے۔

پولیس کے یہ اہلکار چکرا گوٹھ کارروائی کے لیے جا رہے تھے جہاں دو مسلح گروہوں میں تصادم جاری تھا۔ ان گروہوں کے تصادم کے نتیجے میں دو شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔

علاقے کے تھانے کے انچارج شاکر علی نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں بجلی کی فراہمی معطل ہے جس کی وجہ سے پولیس کو علاقہ میں تلاشی لینے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔

ادھر کورنگی ٹاؤں سیکٹر ساڑھے گیارہ میں ایدھی ایمبولینس پر فائرنگ کی گئی جس سے ڈرائیور سمیت تین افراد زخمی ہوگئے۔

اس سے قبل فائرنگ کے دو مختلف واقعات میں چار افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے تھے۔ اس طرح صرف جمعہ کو ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بائیس ہو گئی۔ پولیس کے مطابق کراچی کے علاقے ناظم آباد میں عید گاہ گراؤنڈ کے قریب فائرنگ کے ایک واقعہ میں دو افراد ہلاک ہوئے۔

دوسری جانب وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے کراچی میں تاجروں کے ایک وفد سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی میں باون مشتبہ افراد کوگرفتار کیا گیا ہے اور اڑتالیس گھنٹے میں گرفتار ٹارگٹ کلروں کے اعترافات کی ویڈیو فلمیں ٹی وی پر جاری کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں مرنے والے پانچ افراد ذاتی رنجش کی بناء پر قتل کیے گئے ان کا ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سے تعلق نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء پر مشتمل ایک یوتھ فورس قائم کی جائےگی جو جرائم پیشہ افراد کی نشاندہی میں مدد کرے گی۔

اس سے پہلے کراچی چیمبرز آف کامرس کے وفد سے ملاقات میں انہوں نے تاجروں کو بھتہ خوروں کے شر سے بچانے کے لیے اقدامات کا وعدہ کیا اور تاجروں کو یقین دلایا کہ ان کے تحفظات دور کیے جائیں گے۔

اسی بارے میں