کراچی: ملزمان کے خلاف کارروائی کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کراچی میں داخل ہونے والے تمام راستوں کی کڑی نگرانی کی جائے گی

صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے کراچی کی صورتحال کو مانیٹر کرنے کے لیے تین رکنی کمیٹی بناتے ہوئِے سندھ کی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ کراچی میں جس بھی سیاسی جماعت کے لوگ پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہیں ان کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے۔

یہ فیصلہ کراچی میں کھیلی جانے والی خون کی ہولی روکنے کے لیے ایوان صدر میں منعقد کردہ خصوصی اجلاس میں کیا گیا جس میں پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس میں سندھ کے گورنر اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عشرت العباد، وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ، وفاقی وزیر سید خورشید شاہ، وزیر داخلہ سندھ منظور وسان، وزیر بلدیات آغا سراج درانی اور پیپلز پارٹی کراچی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے شرکت کی۔

صدر آصف علی زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بتایا ہے کہ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ کراچی میں قتل ہونے والے تمام افراد کے اہل خانہ کو معاوضہ دیا جائے گا۔

ان کے مطابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ کراچی میں حالیہ پر تشدد واقعات حکومت اور پیپلز پارٹی میں تعاون کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔

نامہ نگار اعجاز مہر نے بتایا ہے کہ اجلاس کو بتایا گیا کہ کچھ ملزمان کراچی میں گڑ بڑ کے بعد بلوچستان بھاگ جاتے ہیں، جس پر صد نے سندھ حکومت کو ہدایت کی کہ وہ بلوچستان حکومت سے رابطہ کرکے کوئی طریقہ کار بنائیں تاکہ ملزمان کا پیچھا کیا جاسکے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کراچی میں داخل ہونے والے تمام راستوں کی کڑی نگرانی کی جائے اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کو فعال کیا جائے۔

فرحت اللہ بابر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ کراچی کی صورتحال کو مانیٹر کرنے کے لیے گورنر، وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر داخلہ سندھ پر مشتمل تین رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو صدر کو رپورٹ کرے گی۔

بیان کے مطابق دوران میٹنگ صدر آصف علی زرداری نے متحدہ کے خود ساختہ جلاوطن رہنما الطاف حسین کو فون کیا اور مل جل کر کام کرنے پر بات کی۔ صدر نے الطاف حسین کو ایک بار پھر حکومت میں شمولیت کی دعوت دی اور کہا کہ اس سے جرائم پیشہ مافیا اور گینگسٹرز کو بھرپور پیغام ملے گا۔

تاہم سرکاری طور پر یہ نہیں بتایا گیا کہ الطاف حسین نے کیا جواب دیا۔ لیکن بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بارے میں کافی پیش رفت ہوئی ہے اور کسی بھی وقت ایم کیو ایم حکومت میں شمولیت کا اعلان کرسکتی ہے۔

اسی بارے میں